آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کووڈ ویکسین کی پیشرفت کے پس پردہ خفیہ عنصر

لندن: کلائیو کوکسن

ایک ہی انقلابی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے دو ویکسینز کی تیاری میں پیش رفت کووڈ19 سے بچاؤ میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں، تاہم شاٹس کے ڈیزائن کرنے کے طریقے میں فرق اس بات پر اثرانداز ہوتا ہے کہ پیداوار میں کتنی جلدی اضافہ کیا جاسکتا ہے اور وہ کیسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔

ایک ویکسین امریکی کمپنی موڈرنا نے تیار کی ہے جبکہ دوسری فائزر اور جرمنی کی کمپنی بائیواین ٹیک کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے، کلینکل ٹرائلز میں دونوں کی ریکارڈ شدہ افادیت کی شرحیں 94 فیصد سے زائد ہیں، جس نے عالمی سطح پر امیدیں وابستہ ہوئی ہیں کہ یہ وبائی مرض سے نکلنے کا راستے فراہم کرسکتی ہیں۔

دونوں شاٹس کا مرکزی عنصر میسینجررائبونیوکلک ایسڈ یا ایم آر این اے کا ایک اسٹرینڈ یا لڑی ہے، جینیاتی کوڈ کے تقریبا دو ہزار بائیو کیمیکل حروف کا ایک سلسلہ جو وصول کنندہ کے مدافعتی نظام کو کورونا وائرس کے انفیکشن کو پہچاننے اور اس سے لڑنے کے لئے ہدایت دیتا ہے۔اس سے قبل اس ٹیکنالوجی کا استعمال ویکسین کی تیاری میں کبھی نہیں ہوا تھا۔

امپیریل کالج لندن کے فیوچر ویکسین مینوفیکچرنگ حب کے محقق زولٹون کس نے وضاحت کی کہ موڈرنا کی ویکسین میں فی ڈوز آراین اے 100 مائکرو گرام استعمال کیا گیا ہے ، جبکہ فائزر اور بائیواین ٹیک کے شاٹ میں محض 30 مائیکروگرام کے استعمال سے اس کی تیاری میں آسانی اور قیمت بھی کم ہوگی۔

اس سے فائزر- بائیواین ٹیک کو ان کے امریکی حریفوں کے مقابلے میں تیزی سے اپنی ویکسین کی پیداوار میں اضافے کے قابل ہونا چایئے۔مزید یہ کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ موڈرنا کے شاٹ کو آر این اے کے بڑے ڈوز کی ضرورت کیوں ہے۔

ریڈنگ یونیورسٹی میں بائیومیڈیکل ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر الیگزینڈر ایڈورڈز نے کہا کہ یہ اعلانیہ طور پر باہر والوں کے لئے معلوم کرنا مشکل ہے کہ ویکسین کے اندر کیا ہے۔تاہم ان کو ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح ملایا گیا ہے،اس کا یہ کیسے کام کرتی ہے اس پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔اگرچہ ہر ایک میں آر این اے بنیادی طور پر ایک جیسا ہوتا ہے، یکن جنیاتی سلسلے میں چھوٹے چھوٹے واضح فرق ہوسکتے ہیں جو فائزر بائیوٹیک کو چھوٹی مقدار میں زیادہ مؤثر بنادیتے ہیں۔

پروفیسر ایڈورد نے کہا کہ ایم آر این اے ویکسین کے لئے آر این اے کیمیائی عمل کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اس کی بجائے دیگر ویکسین کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والے حیاتیاتی عمل میں سیل کی کثافیتں بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ وائرس میں قدرتی طور پر موجود وائلڈ ٹائپ آر این اے سے تھوڑا سا تبدیل کیا گیاہے تاکہ اسے زیادہ مستحکم اور انسانی خلیوں کے زریعے آسانی سے پڑھا جاسکے۔

موڈرنا اور فائزراین بائیوٹیک دونوں کی ویکسین میں لیپڈ نینو پارٹیکلز کو کیپسول میں بند کردیا گیا ہے۔تاکہ یہ تقریباََ 0.1 مائیکرون قطر کی روغنی مائع خوردبین بوندیںنازک جینیاتی ہدایات کو منسلک اور ان کی حفاظت کریں، کیونکہ وہ تیاری، نقل و حمل اور آخر میں لوگوں کو انجیکشن کے ذریعے لگاتے ہیں۔سائنس دانوں نے بتایا کہ دونوں ویکسینوں میں لیپڈ نینو پارٹیکلز کی متعدد اثرات کے ساستھ تشکیل قدرے مختلف ہے۔

پروفیسر ایڈورڈ نے کہا کہ یہ نینو پارٹیکلز فارمولا سازی کو جادوئی پیشرفت سکتی ہیں۔آپ کے پاس تمام اجزاء کی فہرست ہوسکتی ہے لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ ان کو کس طرح بہترین حجم اور شکل کے ساتھ ذرات تیار کرنے کے لئے مرکب بنایا جاتا ہے۔ اس کی کھانے کی تیاری کے ساتھ کافی ہم آہنگی موجود ہے، آپ کو ہینزکیچپ کے اجزاء تو معلوم ہیں لیکن آپ اسے بنا نہیں سکتے ہیں۔

کینیڈا کی ایک ماہر کمپنی ایکیوٹس سےفائزر اور بائیواین ٹیک اپنے لئے نینو پارٹیکل حاصل کرتے ہیں، جبکہ موڈرنا اپنی لیپڈ ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے۔

موڈرنا میں ویکسین سازی کے سابق سربراہ مائیک واٹسن نے کہا کہ نینو پارٹیکلز تیار کرنے کا فن اور چیلنج یہ ہے کہ لپڈس کو مختلف جسمانی خصوصیات کے ساتھ یکجا کیا جائے تاکہ آر این اے کو موثر انداز میں مستحکم بنایا جاسکے۔

دونوں ہی صورتوں میں، نینو پارٹیکلز کو اچھی حالت میں رکھنے اور ایم آر این اے کے درجے کو کم ہونے سے روکنے کے لئے کولڈ اسٹوریج کی ضرورت ہے۔تاہم جبکہ موڈرنا کی ویکسین معیاری گھریلو یا میڈیکل فریزر کے درجہ حرارت منفی 20 سینٹی گریڈ پر چھ ماہ تک ذخیرہ کرنے کے لئے کافی مستحکم ہے، جبکہ فائزر /بائیواین ٹیک کی ویکسین کو ذخیرہ اور نقل و حمل کے لئے منفی 70 سینٹی گریڈ پر رکھنے کی ضرورت ہے۔

امپیریل کے ڈاکٹر کس نے کہا کہ نتیجے کے طور پر ایک بار ریگیولیٹری حکام کی منظوری کے بعد موڈرنا کی ویکسین زیادہ آسانی سے اور کم قیمت پر تقسیم کی جاسکتی ہے۔

فائزر اور بائیوٹیک کو خصوصی "تھرمل شپ" ڈیزائن کرنا پڑاجب باقاعدگی سے اس میں خشک برف بھری جائے تووہ اس درجہ حرارت پر 15 دن تک مصنوعات کو برقرار رکھ سکے ۔ہر پیکیج میں جی پی ایس سے منسلک ایک تھرمامیٹر ہوتا ہے، جو فائزر کے پورے تقسیم کار نیٹ ورک میں اس کے درجہ حرارت اور مقام کا پتہ لگاتا ہے۔اس کے باوجود، افریقہ اور ایشیاء جیسے متعدد کولڈ چین ذخیرہ کرنے کی ناکافی گنجائش والے ممالک میں درجہ حرارت کی اولین شرط کی وجہ سے ویکسین کی تقسیم مشکل ہوجائے گی۔

اس کے برعکس آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینیکا کے تحت ایڈنو وائرس ویسکین ابھی تیاری کے مراحل میں ہے، فریزن کے بغیر کئی ماہ تک محفوظ کی جاسکتی ہے۔ایم آر این اے کے استعمال کی بجائے، آکسفورڈ کی ویکسین کورونا وائرس اسپائک پروٹین جینز کو جوڑتی ہے، بے ضرر اڈینو وائرس کے مدافعتی ردعمل کو بھڑکانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جو انہیں انسانی خلیوں میں لے جاتا ہے۔آکسفورڈ ٹیم کی ایک رہنما سارہ گلبرٹ نے کہاکہ ان کی ویکسین 2 سے8 سینٹی گریڈ کے درمیان عام فرج کے درجہ حرارت پربرقرار رہی۔

فائزر -بائیواین ٹیک اور موڈرنا کے لپڈز کی فارمولا سازی میں فرق سے بھی ہر شاٹ کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کرنے کا امکان ہے۔کیمبرج ونیورسٹی میں امیونولوجی محقق برائن فرگوسن نے کہا کہ لیپڈ نینو پارٹیکلز میں کچھ خاص معاون دوا سرگرمیاں ہوتی ہے جو ویکسینیشن کے ساتھ تھوڑی سی سوزش پیدا کرتی ہے جو مدافعتی نظام کو اینٹی باڈیزاور ٹی سیلز بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے، جو Sars-Cov-2 وائرس کو ہدف بناتی ہیں۔

ڈاکٹر کس نے کہا کہ ایک اور حکمت عملی، امپیریل کالج کے تحت جس پر پیشرفت اور ابتدائی کلینکل ٹیسٹنگ کی جارہی ہے، ایک خود کارپھیلنے والی آراین اے ویکسین ہے ،جو انسانی خلیوں میں داخل ہونے کے بعد ازخود اپنی زیادہ سے زیادہ نقل تیار کرتی ہے۔اس حکمت عملی سے بالآخر آراین اے کی مقدارکی کم ہوکر کم سے کم 1 مائیکروگرام فی ڈوز تک ضرورت ہوسکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید