آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ماں ازبک، والد مغل خاندان سے، وہ خود ایک خوبصورت اور وجیہ نوجوان تھا، نماز روزے کا پابند اور اپنے کام سے کام رکھنے والا یہ شخص کسی بھی خاتون کے لیے مثالی شوہر سے کم نہ تھا۔وہ چوبیس سال سے جاپان میں مقیم تھا، برسرروزگار بھی تھا، صاحب اولاد بھی، مجھ سے بھی کافی پرانی شناسائی تھی لیکن آج اس کو جس حال میں دیکھ رہا تھا، پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔وہ رات گئے میرے پاس پہنچا تھا، جاپان میں بغیر اطلاع کہ اچانک رات گئے کسی کے پاس پہنچنامعیوب سمجھا جاتا ہے لیکن میری اپنے دوست کے ساتھ اتنی بے تکلفی تھی کہ میں اسے رات گئے اپنے گھر پر دیکھ کر حیران ہونے سے زیادہ پریشان ہوا ۔ رونے کے سبب اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں،بال اجڑے ہوئے تھے، چہرے اور ہاتھ پر ناخنوں سے نوچے جانے کے نشانات واضح تھے، میں نے اسے گھر میں بلایا ،خیریت معلوم کی تو معلوم ہوا کہ اہلیہ کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اسے گھر چھوڑنا پڑا ہے ۔تفصیلات معلوم کیں تو پتہ چلا کہ اہلیہ گزشتہ چند برسوں سے شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا جھگڑتی ہے کہ بعض دفعہ محلے والے پولیس بلالیتے ہیںجبکہ آج تو حد ہی ہوگئی جب وہ دفتر سے واپس آیا تو اس کے تمام کپڑوں کو قینچی اور چھری سے کاٹا جا چکا تھا اور اہلیہ نے اپنے غصے اوراس قدر غیر فطری

رویہ کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ اب سے نو سال قبل میرے دوست نے بیگم کے لیے نئی گاڑی خریدی تھی اور اسے نام کرانے کے لیے ایک دن کے لیے بیگم کی اسٹیمپ اسے بتائے بغیر دفتر لے گیا تھا جبکہ اگلے دن گاڑی بیگم کے نام کراکر اسٹیمپ بھی اہلیہ کو واپس کردی تھی، لیکن نو سال بعد اچانک بیگم کو یہ بات یاد آئی کہ بغیر اجازت شوہر یہ اسٹیمپ کیسے لے کر گیا اور اس بات پر اس قدر ہنگامہ کیا کہ شوہر کے تمام کپڑے چھری اور قینچی سے کاٹ ڈالے اور جب شوہر دفتر سے واپس پہنچا تو جھگڑا آسمان تک جا پہنچا، محلے پڑوس والے گھر تک پہنچے، اس سے پہلے کہ معاملہ پولیس تک پہنچتا، وہ اپنا ایک بیگ ،جس میں چند جوڑے تھے، لیکر میرے پاس آگیا۔ وہ مجھے بتارہا تھا کہ اس کی اہلیہ انتہائی نیک سیرت اور محبت کرنے والی خاتون تھی لیکن گزشتہ چند سالوں سے وہ ذہنی طور پر بیمار رہنے لگی ہے اور ایسی دوائیں استعمال کرتی ہے جس سے وہ اپنے آپے میں نہیں رہتی لیکن جب دوائوں کا اثر ختم ہوتا ہے تو وہ اپنے کیے کی معافی مانگ لیتی ہے ۔میں نے اپنے دوست کو مشورہ دیا کہ جب بیماری کے عالم میں تمہارے کپڑوں پر چھری اور قینچی چلاسکتی ہے تو کسی دن تمہارے ساتھ بھی یہ کام کرسکتی ہے۔ تمہیں چاہیے کہ فوری طور پر اس سے علیحدگی اختیار کرولیکن یہاں ایک اور کہانی میری منتظر تھی ۔وہ بولا عرفان بھائی میں جب جاپان آیا تو پاکستان میں میرے والد ایک حادثے میں اپنی جوانی میں ہی دنیا سے رخصت ہوچکے تھے، میری بیوہ والدہ اور دو بہنیں اور دو بھائیوں کی کفالت بھی میری ذمہ داری تھی، جاپان آنے کے چند ماہ بعد ہی میرا ویزہ ختم ہوچکا تھا اور کئی برس تک میں نے جاپان میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوئے گزارے، پھر ایک روز معلوم ہوا کہ ایک جاپانی خاتون نے دین اسلام قبول کیا ہے اور اسے ایک اچھے اور شریف مسلمان لڑکے کی تلاش ہے، کچھ دوستوں کے توسط سے میرا اپنی اہلیہ سے رابطہ ہوا اور چند ہفتوں بعد ہی ہماری شادی ہوگئی، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ شادی کے چند ہفتوں بعد ہی ایک ریلوے اسٹیشن پر پولیس نے مجھے چیک کیا اور ویزہ نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار کرکے امیگریشن حوالات میں بند کردیا گیا جس کے بعد میری اہلیہ نے بہترین وکیل کیا اور اگلے دو ماہ تک روزانہ وہ میرے لیے قانونی جنگ لڑتی رہی۔ اس نے اپنی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا تھا، جاپانی امیگریشن حکام بھی میری اہلیہ کی مجھ سے محبت پر حیران تھے، بالآخر دو ماہ بعد مجھے ایک جاپانی خاتون کے شوہر کی حیثیت سے قانونی ویزے کے ساتھ جیل سے رہا کردیا گیا لیکن ان دو ماہ میں میری اہلیہ کے والدین نے مجھ سے شادی کرنے اور دین اسلام قبول کرنے کے سبب تعلق ختم کرلیا۔ ان تمام قربانیوں کے باعث میرے دل میں میری اہلیہ کے لیے محبت اور احترام بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بیٹے کی نعمت سے نوازا، جب میں جاپان میں اپنی اہلیہ کی مدد سے سیٹ ہوگیا تو پھر پاکستان میں ہر روز میرے لیے ایک سے ایک لڑکی کا رشتہ آنے لگا لیکن اب میں تمام رشتے ٹھکرانے لگا کیونکہ مجھے اپنی اہلیہ سے محبت ہوچکی تھی کیونکہ ایک جاپانی خاتون نے اپنا مذہب، اپنی ملازمت، سب سے بڑھ کر اپنے والدین میرے لیے چھوڑے تھے، میں اسے دھوکہ دیکر کس طرح پاکستان میں دوسری شادی کرلیتا؟ پھر ہمارے مشکل وقت میں جن خاندان والوں نے میری بیوہ ماں اور ہم یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ نہ رکھا،ہمارے اچھے وقت میں وہ سب اپنی بیٹیوں کا رشتہ لیکر آرہےتھے لہٰذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ زندگی کے آخری پل تک ہر حال میں اپنی اہلیہ کا ساتھ دوں گا ۔میں اپنے دوست کی متاثر کن داستان سن کر خاموش ہوگیا اور اسے سونے کے لیے کمرہ فراہم کیا اور اگلی صبح اس معاملے پر بات کرنے کا کہا، اگلی صبح میرے دوست نے ہی مجھے جگایا، میں نے پوچھا ،اتنی صبح خیریت تو ہے؟ تو وہ مسکرا کر بولا، عرفان بھائی بیگم کا فون آگیا ہے، وہ رات کے واقعہ پر معذرت خواہ ہے اور گھر بلارہی ہے لہٰذا میں تو چلا، میں بھی مسکرایا اور بولا جا میرے دوست اللہ تیری حفاظت کرے۔

تازہ ترین