کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے عدالت عالیہ کو بتایا ہے کہ جعلی ڈومیسائل بنائے جانے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنرز قواعد و ضوابط سے لاعلم تھے لہذا اب ڈویژن کی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ مشکوک ڈومیسائلز کی منسوخی کا عمل جلد شروع ہو سکے اس حوالے سے کابینہ نےمنظوری بھی دے دی ہے تاہم ملازمتوں سے متعلق درخواست گزار کا الزام درست نہیں کیونکہ صوبے کا ڈومیسائل رکھنے کا والا کوئی بھی شہری ملازمت حاصل کرسکتا ہے۔عدالت نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو 7دن دینے کا مقصد تھا کہ کام نہ ہوسکے، تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے جعلی ڈومیسائل کیخلاف خواجہ اظہار الحسن کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اب تک جو انکوائری ہو چکی ہے اس پر کیا کارروائی ہوئی، جو بے ضابطگیاں سامنے آچکی ہیں ان پر ذمہ داران کے خلاف تو کارروائی کریں۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ڈومیسائل کے حوالے سے شکایات پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی جس میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران ڈومیسائل کے اجرا کی تحقیقات بھی ہوچکی ہے۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ کمیٹی بین الاضلاع مکینوں کے ڈومیسائل سے متعلق تھی اس کام کے لئے تحقیقاتی کمیٹی کو صرف سات دن دیئے گئے اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ کام نہ ہوسکے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ کمیٹی نے چار اضلاع کی تحقیقات کی ہے۔