اور ویکسین آگئی، مگر ....
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرونا وائرس سے بچاو کی ویکسین آنے کی خبروں کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس وائرس سے بُری طرح متاثر دنیا کو کچھ قرار سا آگیا ہے۔لیکن عالمی ادارہ صحت اوردنیا بھر کے چوٹی کےطبّی ماہرین اب بھی کووِڈ اُنّیس کے ضمن میں بہت فکر مند ہیں۔اور کیوں نہ ہوں ، ان کے سامنے وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں عام آدمی کو کچھ زیادہ معلوم نہیں ہے۔

شاید اسی لیے ستمبر کے اواخر میں عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں مؤثر ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے بیس لاکھ اموات ہو سکتی ہے اور اگر اس ضمن میں عالمی سطح پر ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہلاکتوں کی یہ تعداد اس سے بڑھ بھی سکتی ہے۔ادارے کے ہنگامی صورت حال کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نےچھبّیس ستمبر کوجنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے صدر دفتر میں ذرایع ابلاغ کے نمائندوںسےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ چین سے کورونا کی وبا کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں اس وائرس کی وجہ سے دس لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک دنیا بھر میں تین کروڑ 20 لاکھ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا کے بیش تر شمالی ممالک میں کورونا کی دوسری لہر دیکھنے میں آئی ہے اور لوگ روز بہ روز اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔کیاکوروناکی ویکسین کی دست یابی سے قبل دنیا بھر میںبیس لاکھ اموات ہونا ممکن ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ریان کا کہنا تھاکہ 'یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھاکہ علاج میں بہتری کے ساتھ اموات کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔ 

لیکن اچھا علاج اور ایک مؤثر ویکسین شاید ان اموات کو بیس لاکھ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کافی نہ ہوں ۔ ڈاکٹر ریان نے دنیا بھر کی حکومتوں پر اس وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے پر زور دیتے ہوئے سوال کیا تھاکہ 'کیا ہم اموات کی اس تعداد سے بچنے کے لیے تیار ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ وبا سے ممکنہ ہلاکتوں کی جس تعداد کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ نہ صرف سوچی جا رہی ہے بلکہ بدقسمتی سے ممکنہ طور پر ہو بھی سکتی ہے۔

پاکستان میں پیش رفت

پاکستان میں ویکسین کی آزمایش کے ہونے والے تجربات کے ضمن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کےوائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق حالیہ آزمایش تیسری اور حتمی سطح کی ہےجس کے بعد ویکسین صرف بازارمیں لائے جانے کا کام باقی رہ جائے گا۔اس کا محفوظ ہونا پہلے ہی دو سے تین تجربات کے دوران ثابت ہو چکا ہے۔ حالیہ تجربات سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایاجانا مقصود ہے، یعنی یہ کورونا وائرس کے خلاف کتنی مؤثرہے۔

تاحال جن سات ہزارسے زایدافرادکو آزمایش کے دوران یہ ویکسین دی گئی ان میں سے پانچ سے سات فی صدافراد میں پہلے روز معمولی بخار کی علامات ظاہر ہوئیں،لیکن اس کے کوئی منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔یاد رہے کہ پاکستان پہلی مرتبہ کسی ویکسین کی آزمایش کے عمل کا حصہ بنا ہے۔ تاہم یہ تحقیق اور اس ویکسین کی تیاری بیرونی ممالک کے ادویہ سا ز ادارے ہی کر رہےہیں۔

ماہرین کے مطابق ویکسین لگنے کے چار سے چھ ہفتے بعد اینٹی باڈی ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے جس سے یہ علم ہو سکتا ہے کہ آپ کے جسم میں وائرس کے خلاف اینٹی باڈیزبنی ہیں یا نہیں۔ایسا ہی اس آزمایش کے نتائج سے پتا چلا ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم کا استدلال ہے کہ یہ ٹرائلز پاکستان کے لیے دہری اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ٹرائلز کا حصہ بن کر پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی عالمی کوش کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے بہ قول ہر دوا یا ویکسین مختلف علاقوں کے باسیوں پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتی ہے۔ مختلف آبادیوں میں اس کے مختلف قسم کے ردِ عمل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ ویکسین ہماری آبادی اور اس کے مختلف گروہوں پر آزمائی جائے۔ویکسین اس آزمایش سے گزرے گی تب ہی یہ کام یابی سے مقامی آبادی کو دی جا سکے گی اور آگے چلے گی۔

عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی صورت حال کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کے مطابق علاج میں بہتری کے ساتھ اموات کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔ لیکن اچھا علاج اور ایک مؤثر ویکسین شاید ان اموات کوبیس لاکھ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کافی نہ ہو

آزمایشی مراحل سے کام یابی سے گزرنے کی صورت میں اس ویکسین کی پاکستان میں دست یابی کے ضمن میں ڈاکٹر جاوید اکرم کا موقف ہے کہ یہ ایک سیاسی اوراقتصادی فیصلہ ہو گا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں تحقیق کارجن ویکسینز کے تجربات کر رہے ہیں وہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔حال ہی میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنی ویکسین کو پینسٹھ تا پچّانوے فی صد مؤثر قرار دیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق آکسفورڈ نے اپنی تحقیق ایسٹرا زینکا نامی ادویات بنانے والی کمپنی کو بیچ رکھی ہے۔جنوبی ایشیا کے لیے ویکسین کے دست یابی کی ذمے دار یہ کمپنی بھارت میں موجود ہے۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق جب انہوں نے مذکورہ ادارے کے ذمے داران سے رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ ہم سب سے پہلے اپنے ایک ارب بھارتی باشندوں کو یہ ویکسین دیں گے، اس کے بعد دیکھیں گے کہ ہم اسے برآمد کر سکتے ہیں یا نہیں۔اس لیے ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی پاکستانیوں کے لیے دست یابی سیاسی فیصلہ ہو گاجو حکومتی سطح پرکیا جائے گا اور اس میں اقتصادی ترجیحات بھی مدِنظر رکھنا ہوں گی۔

اسی ضمن میں دوسری اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان نے کورونا وائرس کے خلاف تیّار کی جانے والی ویکسین کی پیشگی بکنگ کا فیصلہ کرلیا ہے۔پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن ورکرز اورپینسٹھ برس سے زاید عمر کے افراد کو ویکسین دی جائے گی۔ اس ضمن میں ’’جیو نیوز‘‘کے مارننگ شو ’’جیو پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت، نوشین حامد کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے لیے حکومتی سطح پر پاکستان نے دو بڑے ادویہ ساز اداروںسے رابطہ کیا ہےاور وزیرِ اعظم نےدواکی پیشگی بکنگ کرانے کی منظوری دے دی ہےجس کے لیے بہت جلد پاکستان ادائیگی کر دے گا۔نوشین حامد کے بہ قول پہلے مرحلے میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین میسر آئے گی۔اس مرحلے میں فرنٹ لائن ورکرز اورپینسٹھ برس سے زایدعمر کے افراد کو ویکسین لگے گی۔

ملک میں ویکسین کی آزمایش

پاکستان میں جس ویکسین کی آزمایش ہورہی ہے اسے چین کی کمپنی بایو ٹیک کینسائنو بایو نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بنایا ہے۔ اسے ’’اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی گئی ایسٹرا زینیکا ویکسین سے ملتی جلتی ہے۔

ویکسین میں کورونا وائرس میں شامل پروٹین کو ایک اور وائرس، ایڈینو وائرس (عام نزلے، زکام کا سبب بننے والا جرثومہ) کو استعمال کر کے کم زور کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ مزید نہ بڑھے۔ یعنی کورونا وائرس کی اسپائک پروٹین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ریکامبیڈنٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ اس سے جسم میں اینٹی باڈیز بنتی ہیں۔ اس کا بڑی آبادی میں (سیلولر اور ہیمورل) ردعمل دیکھا جاتا ہے۔ 

اس سے رضا کار کو کورونا ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ویکسین کی آزمایش کے دوران پہلے دو مراحل میں سائیڈ افیکٹس یا مضر اثرات ایک فی صد تک سامنے آئے ۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کا معیاریہ ہے کہ اگر کوئی ویکسین تجرباتی مراحل میں پچاس فی صدتک موثر ہونابھی دکھا رہی ہو تو اسے استعمال کیا جائے گا۔

پاکستان میں ویکسین کی حالیہ آزمایش تیسری اور حتمی سطح کی ہے جس کے بعد ویکسین صرف بازار میں لائے جانے کا کام باقی رہ جائے گا۔ اس کا محفوظ ہونا پہلے ہی دو سے تین تجربات کے دوران ثابت ہو چکا ہے۔ حالیہ تجربات سے اس کی افادیت کا اندازہ لگایاجانا مقصود ہے، یعنی یہ کورونا وائرس کے خلاف کتنی مؤثر ہے

پاکستان میں اس کے’’فیز تھری‘‘ یا تیسرے مرحلے کی آزمائش ہورہی ہے۔ملک کی طبی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب یہاں کسی ویکسین کی آزمایش کی جا رہی ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ کام یابی کی صورت میں یہ ویکسین بڑی مقدار میں پاکستان کو بھی مل سکے گی۔

دست یاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پانچ اسپتالوں میں دس ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین لگانے کا منصوبہ تھا۔ دنیا بھرمیں مجموعی طور پر چالیس ہزار رضا کاروں کو اس آزمایشی مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔

دراصل فیز تھری تک کسی ویکسین کے پہنچنے کا مطلب ہے کہ وہ کلینیکل آزمایش اور انسانوں پر آزمایش کے ابتدائی مراحل میں کام یاب ہو چکی ہے۔ یعنی ویکسین اپنے محفوظ ہونےکا عمل دکھا چکی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ انسانی جسم میں کام کر سکتی ہے۔ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے، پھر کم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔اس ویکسین کے پہلے دو مراحل، یعنی فیز ون اور فیز ٹو کےتجربات چین میں ہوئے تھے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں نتائج کے مطابق ایک فی صد مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹس دیکھنے کو ملے۔

لیکن اس سلسلے میں طویل عرصے تک انتظار نہیں کیا گیا،کیوں کہ اسے بنانے والے جلد بازار میں لے کر آنا چاہتے ہیں۔تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا گیا کہ’’اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین‘‘اگر زیادہ آبادی کو لگایا جائے تو کیا ہو گا۔ دراصل اس سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ویکسین ہر طرح کے انسانوں کے لیے کس قدر محفوظ اور موثر ہے۔

امریکا اور برطانیہ میں مقابلے کی دوڑ

امریکا میں دو ویکسینز کی کام یاب آزمایش کے اعلان سے تقریبا دو ہفتے قبل، یعنی دس نومبر کو برطانوی وزیرِ صحت، میٹ ہین کوک نےدنیا کو بتایا تھا کہ برطانیہ کا قومی ادارہ صحت، نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کورونا وائرس کے علاج کے لیے جلد از جلد ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھاجب ایک روز قبل ادویہ ساز بین الاقوامی اداروں،فائزر اور بایوٹیک نےاعلان کیا تھا کہ ان کی جانب سے بنائی گئی ویکسین کے ابتدائی تجرباتی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وہ نوّے فی صد لوگوں کو کووِڈ کی لپیٹ میں آنے سے بچا سکتی ہے۔واضح رہے کہ اس وقت تک دنیا بھر میں ایک درجن سے زاید ویکسینزپر کام ہو رہاتھا جو آزمایش کے تیسرے اور آخری مرحلے میں تھیں، لیکن یہ پہلی ویکسین تھی جس کے نتائج اس وقت سامنے آئے تھے۔

میٹ ہین کوک کا کہنا تھا کہ عوام تک ویکسین پہنچانے کے لیے ویکسی نیشن کلینک ہفتے کے ساتوں دن کھلیں گے اور مختلف مقامات پر قائم کیے جائیں گے۔ہمیں علم نہیں کہ کتنے لوگوں کو اس ویکسین کی ضرورت ہوگی جس کے بعدیہ کہاجا سکے کہ زندگی معمول پر واپس آ جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی وہ کہ تحمل سے کام لیں ۔واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے اس ویکسین کے چار کروڑ آرڈر پہلے ہی دے دیے ہیں جس کی مدد سے دو کروڑ افراد کو یہ ویکسین دی جا سکے گی، کیوں کہ ایک انسانی جان محفوظ کرنے کے لیے ویکسین کی کم از کم دو خوراک دینا ضروری ہو گا۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت، نوشین حامد کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے لیے دو بڑے ادویہ ساز اداروں سے رابطہ کیا گیا ہے اور وزیرِ اعظم نے دوا کی پیشگی بکنگ کرانے کی منظوری دے دی ہے

ایک ،دو ماہ قبل تک یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ویکسین تیّار کرنے کی عالمی دوڑ میں برطانیہ کوامریکا پر سبقت حاصل ہے۔لیکن ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمایش کے آخری مرحلے کو اُس وقت روکنا پڑا جب اس آزمایش میں شامل ایک رضاکار میں شدید نوعیت کا منفی ردعمل سامنے آگیا تھا۔

اس وقت مذکورہ کمپنی کی جانب سے کہا گیاتھا کہ ایسا ایک ایسی بیماری کی وجہ سے ہوا جس کی اب تک کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے اور اس کی وجہ سے کمپنی نے آزمایشی مرحلے میں معمول کا وقفہ لیا ہے۔ اس ویکسین کی آزمائش پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں اور یہ تصور کیا جارہا تھا کہ مغربی ممالک میں آکسفورڈ اور آسٹرازینیکا کے اشتراک سے ہونے والی آزمایش عالمی طور پر استعمال ہونے والی ویکسین کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہے۔واضح رہے کہ اس وقت تک یہ ویکسین آزمایش کے دو مراحل سے گزر چکی تھی اور اس پر تحقیق آخری اور حتمی مرحلے میں تھی جوچند ہفتے قبل ہی شروع ہوا تھا۔ آخری مرحلے کی آزمایش میں تیس ہزار افراد شرکت کر رہے تھے جن کا تعلق برطانیہ، امریکا، برازیل اور جنوبی افریقا سے ہے۔

مذکورہ رضاکار میں شدید نوعیت کامنفی ردعمل سامنےآنے کے بعد اس ویکسین کی دنیا بھر میں آزمایش عارضی طور پر روک دی گئی تھی اور واقعے کی آزادانہ طورپر تحقیق شروع کردی گئی تھی تاکہ حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آزمایش دوبارہ کب شروع کی جائے۔ اُس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 'بڑے پیمانے پر کی جانے والی آزمایشوں میں بیماریاں سامنے آ سکتی ہیں، لیکن ہمیں آزادانہ طور پر اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہوا کیاہے۔ 

یاد رہے کہ وہ دوسرا موقع تھا جب آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کی آزمائش کو روکا گیا۔ واضح رہے کہ عام طور پر کسی بھی ویکسین کی آزمایش کے تیسرے مرحلے میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ عمل کئی برس تک جاری رہتا ہے۔ اور دنیا بھر میں کسی بھی دوا کی آزمایش کے دوران کوئی منفی ردعمل سامنے آنا معمول کی بات ہے۔ لیکن اگر اس عمل میں حصہ لینے والے افراد میں سے کوئی بھی بیمار ہو جائے اوراسپتال میں داخل ہو تو آزمایش کا عمل عارضی طور پر روک دیا جاتاہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی بیماری کی وجہ کیا ہے۔

ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں ویکسین کی امیدوار 180 دواؤں پر تجربات جاری ہیں اورادارے کو امید نہیں ہے کہ کوئی ویکسین رواں سال اس کے مؤثر اور محفوظ ہونے کے راہ نما اصولوں پر پوری اترے گی، کیوں کہ انہیں محفوظ انداز میں آزمانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اس وقت عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس کا کہنا تھا کہ اب تک کلینیکل تجربات کے اگلے مرحلوں میں موجود کوئی بھی ویکسین کم از کم پچاس فی صد موثر ہونے کا 'واضح اشارہ نہیں دے سکی ہے اورحقیقت پسندانہ طور پرہم اگلے سال کے وسط تک وسیع پیمانے پر ویکسینی نیشن ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز کے ڈائریکٹر جنرل، تھامس کیونی نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیاتھا۔ان کا موقف تھا کہ 'مجھے اس بات کا کافی کم امکان لگتاہے کہ سال ختم ہونے سے قبل کوئی ویکسین منظور ہوگی یا بڑے پیمانے پر تقسیم ہونا شروع ہوجائے گی۔ ہمیں حیرت ہو سکتی ہے، مگر یہ واضح ہے کہ ادویہ ساز ادارے معیار کے بجائے رفتار نہیں چاہتے۔اس کے باوجودیہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چین اور روس نے بعض اہم سرکاری ملازمین کو مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین لگاناشروع کردی ہے،حالاں کہ اس وقت تک یہ تمام ویکسینز عالمی ادارہ صحت کی جانب سے زیرِ آزمایش قرار دی گئی تھیں۔

اسی دوران امریکا میں دواؤں کے قومی ریگولیٹر، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے عندیہ دیا تھا کہ کلینیکل آزمایش کا تیسرا مرحلہ مکمل ہونےسے قبل بھی کورونا وائرس کی ویکسینز کی منظوری دی جا سکتی ہے۔دوسری جانب اسی دوران ویکسین تیار کرنے والے نوادویہ ساز اداروںنے کورونا وائرس کی ویکسین کی تلاش میں سائنسی اور اخلاقی معیارات برقرار رکھنے کے لیے ایک 'تاریخی عہد کیا تھا۔ فائزر اور مرک سمیت ان اداروں نے کہا تھا کہ وہ ریگولیٹری اداروں کو ویکسین کی منظوری کے لیے صرف اس وقت درخواست دیں گی جب ان کی ویکسینز آزمایش کے تینوں مرحلوں سےبہ خوبی گزر جائیں گی۔

اپنے اس عہد میں نو بایوفارماسیوٹیکل کمپنیز نے صدر ٹرمپ کا ذکر نہیں کیا(جو انتخابات سے قبل ویکسین کی دست یابی کے خواہاں تھے)، مگر کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے اقدام سے کسی بھی ویکسین کی تیاری پر 'عوام کا اعتماد یقینی بنایا جا سکے گا۔ادویہ سازاداروں کا کہناتھا کہ وہ عوامی اعتماد کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے عہد کیا کہ وہ 'ویکسین لگوانے والے افراد کے تحفظ اور صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں گے۔

نگراں اداروں کا کڑا امتحان

ساری دنیا کی نگاہیں اس وقت ویکسین تیّارکرنے والے اداروں پر مرکوز ہیں۔ایسے میں لاکھوں، کروڑوں افراد کے لیے (یا دنیا بھر کے لیے) ایک نئی ویکسین متعارف کرانےکےلیے آپ کو اس کے موثرہونےکے بارے میں بھرپور اعتماد ہونا چاہیے جو آزمایشی جانچ اور مریضوں کے زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار حاصل کرنے سے آتا ہے۔

کسی نئی ویکسین یا دوا کو انسانی استعمال کے لیے پیش کرنا بچّوں کا کھیل نہیں ہوتا ،کیوں کہ معاملہ انسانی جانوں کا ہوتا ہے۔صحت عامہ کےشعبے سے وابستہ افراد کو وہ واقعات اچھی طرح یاد ہوں گے جب ایک نئی متعارف کرائی گئی ویکسین غلط نکلی تھی۔یہ اب سے تقریبا چوّالیس برس قبل کی بات ہے ۔1976میں 'سوائین فلو کی وبا پھوٹنے کا خوف پیدا ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت نے ویکسین بنانے کا کام تیز رفتار سے کیا اور لاکھوں لوگوں کو وہ ویکسین لگا دی گئی۔ 

جس وبا کے پھوٹنے کا خوف تھا وہ تو نہیں پھیلی ،لیکن بعض اندازوں کے مطابق، تیس کے قریب افراداس ویکسین کے خلاف جسم میں پیدا ہونے والے ردعمل کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔چناں چہ اس قسم کے واقعات کی وجہ سے صحت عامہ کے محکمے پر ان کے اعتماد کو ٹھیس لگتی ہے اوران سے ویکسین کی مخالفت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہے۔کوئی بھی حکومت،ادویہ ساز ادارہ ،ماہرینِ طب اور سائنس داں کسی بھی وبا کے دوران اس قسم کا ردعمل بالکل نہیں چاہیں گے۔لہذا سب بہت محتاط ہیں۔

دنیا بھر میں ادویات کی توثیق کرنے والے اداروں کے فیصلے کرنے کے اختیارت کے ساتھ ان پر بھاری ذمےداری بھی عاید ہوتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آف میڈیسن، سر جان بیل کے بہ قول اس وقت ہمارےپاس انتظار جیسی سہولت موجود نہیں ہے کہ ہم کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے حتمی نتائج حاصل کر لیں۔

کسی بھی ریگولیٹر (نگراں ادارے)کےلیے سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب اُسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں دوا یا ویکسین محفوظ اور موثر ہے، اور اس کے اجرا کی اجازت دی جاتی ہے۔سر جان بیل کے بہ قول وہ ایسی ذمے داری نہیں لینا چاہیں گے۔ یہ بہت ہی کٹھِن کام ہے۔ اگر ان کا جواب مثبت ہوتاہے تو اس ویکسین کو حاصل کرنے والے ساڑھے تین ارب افراد کی اچانک قطار لگ جائے گی۔

پاکستان کا ابتدائی ردّ ِعمل

دوسری جانب فائزر کی ویکسین کے اعلان پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے قایم کردہ کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ، ڈاکٹر عطا الرحمان نےاس وقت (نو نومبرکو)کہاتھا کہ فی الوقت اس ویکسین سے متعلق امید لگانا قبل از وقت ہوگا۔جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ اس ویکسین کو اب تک امریکا کے ادویہ سے متعلق نگراں ادارے نے منظور نہیں کیا ہے اور اس میں مزید دو مہینے لگیں گے۔ 

اس ویکسین کو منفی اسّی ڈگری پر رکھنا ہوگا اورپاکستان سمیت تیسری دنیاکے ممالک میںاس کے لیے سہولتیں موجود نہیں ہیں۔اور اس وقت تک یہ بھی نہیں معلوم کہ اس ویکسین کا اثر کتنی دیر تک قائم رہے گا۔ پاکستان میںجاری چینی ویکسین کی آزمایش کےضمن میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں کافی کام یابی ہوئی ہے۔

مسائل کم نہیں

پہلے ماہرین ویکسین کی تیاری کے بارے میں سوچ رہے تھے، لیکن اب وہ کئی امور پر ایک ساتھ سوچ رہے ہیں،یعنی اس کی بڑی مقدار میں تیاری،نرخ کا تعیّن ، ترسیل،لوگوں کی رسائی وغیرہ جیسے نکات۔انہیں اس بات کی کوشش کے علاوہ کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مناسب مقدار میں ویکسین دست یاب ہو، ویکسین سے متعلق بعض غیر دل چسپ پہلوؤں پر بھی دھیان دینا پڑ رہا ہے،مثلا کیا دنیا میں اتنی تعداد میں چھوٹی شیشیاں موجود ہیں جن میں ویکسین بھری جا سکے۔ 

اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ طبی استعمال کے لیے شیشے کی پیداوار میں بھی کچھ ممکنہ رکاوٹیں موجود ہیں۔ویکسین تیار کرنے والوں کا عالمی اتحاد’’گیوی‘‘ ، بھی اس ضمن میں پریشان ہے اوراس نے پہلے ہی دو ارب خوراکوں کے لیے شیشیاں خرید لی ہیں۔ گیوی کا کہنا ہے کہ یہ اتنی خوراکیں ہیں جن کے متعلق ہم امید کر رہے ہیں کہ وہ 2021کے آخر تک تیار ہو چکی ہوں گی۔گیوی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، سیٹھ برکیلے کے مطابق شیشیاں ممکنہ مسئلہ ہیں، تو ریفریجریٹر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، کیوں کہ اکثر ویکسینز کو کم درجہ حرارت پر رکھنا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں جن رکاوٹوں کا سامنا ہے ان میں سے ایک سب سے بڑی، ’’ویکسین نیشنل ازم‘‘ بھی ہے۔ان کا موقف ہے کہ تمام ممالک کو اس بارے میں عالمی طورپر سوچنا چاہیے، نہ صرف اس لیے کہ ایسا کرنا ٹھیک ہے بلکہ اس لیے بھی کہ مفاد کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر آپ کے ارد گرد کے ممالک میں وائرس بڑی تعداد میں موجود ہو گاتو آپ معمول کے مطابق پہلےکی طرح تجارت، سفر اور لوگوں کی حرکت کی طرف واپس نہیں جا سکیں گے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ اس طرح کی سوچ رکھی جائے کہ ہم اس وقت تک محفوظ نہیں ہوں گے جب تک سب محفوظ نہیں ہوں گے۔

ہر ملک کے حکّام کو ویکسین دینے کے ضمن میں ترجیحات کا تعیّن کرنااور اس پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہوگا ورنہ انتشار اور بد امنی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ حکّام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ویکسین کی کسےزیادہ ضرورت ہے؟ کون سے سب سے زیادہ خطرے والے گروہ ہیں؟ اور سب سے زیادہ ترجیح والے کون سے ہیں ؟ماہرین کے بہ قول یہ بات بالکل واضح ہے کہ ابتدائی ویکسین کی طلب، رسد سےکہیں زیادہ ہو گی،اس لیے متعلقہ ممکنہ مسائل کا حل پہلے سے سوچنا ہوگا۔