آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نہایت خوبصورت حمد و نعت۔ خالد احمد کی یاد میں...”انتخاب“ کا شمارہ اپریل بڑا قیمتی مواد سامنے لایا ہے

”ادب دوست“ لاہور کا شمارہ برائے اپریل (2013) سامنے ہے۔ سرورق پر علامہ اقبال کی پوری غزل (نظم) ہے۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
یہ غزل تو سنیں اس کے بحر و شعر ضرور زد زباں رہتے ہیں، بھرپور قومی سطح پر۔ تو آئیے اس روزنامے کی بہت بڑی گشتی حیثیت Circulation کو دیکھتے ہوئے ایک بار میں بھی پوری غزل قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
یہ شعر پچاسیوں بار پڑھے اور لکھے ہوں گے اس وقت بھی لکھتے لکھتے ایک عجیب عالم طاری ہو گیا۔ محسوس ہوتا ہے میں ستاروں کی طرح آسمان کی گہرائیوں میں گھوم رہا ہوں اور سامنے بڑی خوبصورت منزلیں میرا انتظار کر رہی ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ اگر علامہ اقبال ہم لوگوں میں پیدا نہ ہوئے ہوتے تو ہم کہاں ہوتے، شاید کہیں بھی نہیں۔
”ادب دوست“
”ادب دوست“

لاہور کا ایک ماہنامہ ہے جو حضرت اے جی جوش کی یاد میں خاصی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے منتظم اعلیٰ خالد تاج ہیں۔ مدیر مسئول ڈاکٹر سعید اقبال سعدی، مدیر عابد فیروز، مدیر منتظم شاہد عشری اور تزئین کار مقبول شرقپوری۔ قیمت فی پرچہ بیس روپے سالانہ 200 روپے (بارہ جلدیں) پتہ 39 کمرشل زون، لبرٹی مارکیٹ لاہور۔ ترتیب اس مرتبہ کچھ یوں ہے۔
حمد خالد احمد، نعتیہ اکائی ریاض حسین چوہدری، نعت رسول مقبول حسن عسکری کاظمی، نعت رسول مقبول صابر عظیم آبادی، نعت رسول مقبول نورین طلعت عروبہ، نعت رسول مقبول عثمان قیصر، سفر نامہ حجاز سید شوکت علی شاہ، گوشہ اقبال، فہیم بال جبریل خواجہ محمد زکریا، خالد احمد کی یاد میں، نسیم سحر، آہ… خالد احمد، سعد اللہ شاہ، عصر حاضر کا آخری بزرگ، نوجوان خالد احمد مشاہیر ادب کی نظر میں، اعتبار ساجد، تشبیب ناتم گرفتہ، اعجاز رضوی۔ غزلیں اسلم گورداسپوری، روحی کنجاہی، نسیم سحر، حسن عسکری کاظمی،انور فیروز،کرامت بخاری، مظفر بخاری، سید صفدر حسین جعفری، رب نواز مائل، صابر عظیم آبادی، ڈاکٹر جاوید منظر،تصور اقبال، اے جی جوش۔ افسانہ ”اعتراف“ عرفان جاوید، نظمیں شہر افسوس۔ کرامت بخاری، کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کرامت بخاری، میں یہاں ہوں۔ فیصل ہاشمی، حادثہ۔ فیصل ہاشمی، خرد کیا بڑی شے ہے۔ رب نواز مائل، جب مسکان سے ہونٹ سنوارے، خالد محمود امر۔ تاثرات آپ کے خطوط، پنجاب رنگ، گیت، رفیع یوسفی محرم، غزل، اسلم کولسری، آپ کیلئے انتخاب بابر پرویز۔ یہ فہرست کی فہرست میں نے اسلئے دی کہ میں چاہتا تھا ان لکھنے والوں کے نام بھی بتا دوں جو نہ جانے اپنا کتنا خون پسینہ کر کے اپنی تخلیقات پیدا کرتے ہیں اور پھر انہیں آپ کی خدمت میں مفت پیش کر دیتے ہیں۔ میں ایک بہت ہی معمولی لکھنے والا سہی لیکن جب بھی تخلیق کی گھڑی سے گزر رہا ہوتا ہوں میرے اندر اور باہر ایک آگ سی لگی ہوتی ہے۔
انتخاب
جب تک یہ مضمون آپ کی نظر سے گزرے ہمارا سالانہ قومی انتخاب ہو چکا ہو گا۔ وہ چہرے سامنے آ گئے ہوں گے جنہوں نے چند برس اس ملک کو چلانا ہے۔ میں ان سب کی کامیابی کے لئے دست بہ دعا ہوں۔ تاریخ نے اب تک جمہوری انتخابات کے ذریعے ملک چلانے سے بہتر کوئی اور انتظام، کوئی اور فارمولا پیش نہیں کیا ہے۔ یہ نظام ہزاروں برس کے مشاہدات اور تجربات سے پیدا ہوا ہے۔ بہت ہی مہنگا انتظام ہے اسے چلانا۔ کامیاب کرنا۔ ہمارا غالباً سب سے بڑا قومی فرض ہے۔ دیکھئے
دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
یہاں عملاً مال نہیں کئی سال ہیں۔ ہماری قومی غیرت کے لئے ایک چیلنج۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اپنے فرائض سے روکنے والی کوئی بیرونی طاقت کبھی کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ہم نہ صرف ایک آن بان شان رکھنے والی قوم ہیں بلکہ ماشاء اللہ ایک صاحب وسائل ملک ہیں۔ سب سے بڑھ کر ہم اپنی خوراک خود پیدا کر لیتے ہیں اور اپنے لئے کپڑے بنانے کا سامان بھی اپنے قومی (مقامی) ذرائع تلاش کر لیتے ہیں۔ (دنیا میں بے شمار ممالک انہی دو سے محروم ہیں۔ مگر اپنی لیاقت اور محنت پر زندہ ہیں اور کامیاب نظر آتے ہیں)۔
خالد احمد مرحوم
لیجئے خالد احمد کو بھی مرحوم لکھنا پڑا۔ یہ ایسے خوبصورت اور مفید لوگ بیٹھے بٹھائے کیوں ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔خالد احمد ایک نہایت عمدہ شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نویس تھے۔ اچھے انسان تو تھے ہی دوستوں کے دوست بھی تھے۔ (جو ہونا اس زمانے میں بڑا مشکل کام ہے) اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے۔ ایسا آدمی واقعی اس مصرے کا مستحق ہوتا ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
میری بد قسمتی کہ ان سے کبھی ذاتی تعارف نہ ہو سکا۔ بس ان کی تعریفیں ہی سنتا رہتا تھا۔ اب اس شمارے میں کچھ اس کے بارے میں چند مشاہیر کی بے حد مفید آراء چھپی ہیں۔ مشاہیر کے نام میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ ”کلام آپ کو خود پڑھنا ہو گا، آخر آپ خود بھی تو کچھ کریں۔
کشور ناہید،بشریٰ رحمن، خورشید رضوی، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، انور مسعود، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، شاہدہ حسن، فاطمہ حسن، عباس تابش، اسلم کولسری، بالی احمد پوری، ڈاکٹر ضیاء الحسن، صوفیہ بیدار اور نہ جانے کتنے جرائد میں کتنے محترم اہل قلم کے تاثرات چھپے ہوئے اور چھپتے رہیں گے۔ عباس تابش نے تو انہیں ایک عہد ساز شاعر قرار دے دیا ہے۔ ان کے بقول انہوں نے تین نسلوں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ ان کی تربیت کی“۔
فی الحال اتنا ہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں