آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سنگاپور: کیا ایشیائی ’’شیر‘‘ ہانگ کانگ کا متبادل ہوسکتا ہے؟

مرسڈیز روہیل

جب ایک اعلیٰ عالمی سرمایہ کاری فنڈ کے ایگزیکٹو ڈیوڈ نے رواں برس ہانگ کامگ کی بجائے رہائش کیلئےسنگاپور کا انتخاب کیا ، انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ تین بیڈروم والے اپارٹمنٹ کے دو تہائی کرائے میں سرسبز صحن کے ساتھ چھ بیڈ روم والا مکان کرایہ پر لے سکتے تھے۔

اصل نام افشاء نہ کرنے کے خواہشمند ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو اضافی جگہ پسند آئی ہے ، اور اب ہم اسے خرید نے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جون میں سٹی اسٹیٹ کے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ہانگ کانگ سےاور دیگر تارکین وطن خریدار سنگاپور کا رخ کررہے ہیں۔جس نے ریکارڈ توڑ معاشی بدحالی کے باوجود پراپرٹی مارکیٹ کے فروغ میں مدد کی ہے۔

تاہم یہ رازداری میں ایک مشق ہوسکتی ہے۔ایسی متعدد کمپنیاں جن کے ہانگ کانگ میں دفاتر ہیں، اپنے ایگزیکٹوز کو بڑےپیمانے یا تفیریوں کے ساتھ منتقل کرنے سے گریزاں ہیں،اگر چین کی حکومت کا تجاویز کے ساتھ عمل دخل بڑھتا ہے توہانگ کانگ کی ایک فنانس حب کے طور پر کشش کم ہوجاتی ہے۔

ایشیا کے شیر سے معروف شہر سنگاپور میں قانون کی مستحکم حکمرانی ، ٹیکس کی کم شرح اور دنیا کے بہترین مربوط ہوائی اڈوں سے مراد ہے کہ اس کی بین الاقامی خریداروں اور اعلیٰ سطح کے سرمایہ کاروں میں طویل عرصے سے دلچسپی ہے۔یہ اس کی اسٹیمپ ڈیوٹی فیس کے باجود ہے جو زیادہ سے زیادہ 25 فیصد ہوسکتی ہے۔

انڈسٹریل ڈیزائنر اور کاروباری شخصیت جیمز ڈیسن نے مثال کے طور پر گزشتہ سال ریاستی شہر میں ایک جائیداد خریدی تھی، مرکزی کاروباری ضلع میں پینٹ ہاؤس کیلئے 73.8ملین سنگاپوری ڈالر (54.8 امریکی ڈالر) ادا کیے ۔

تاہم کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ جون میں چین کے نئے قومی سلامتی کے قانون کی منظوری کے بعد سے ہانگ کانگ کی کشش میں کمی نے سنگاپور کے استحکام کو اور بھی قیمتی بنادیا ہے۔

سنگاپور کی سب سے بڑی پرائیوٹ رئیل اسٹیٹ کمپنی پروپ نیکس رئیلٹی کے چیف ایگزیکٹو اسماعیل غفور کا کہنا ہے کہ جہاں تک جائیداد کی خریدوفروخت کا تعلق ہے، وبائی مرض کے باوجود سنگاپور کافی مستحکم پوزیشن میں ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے وائرس سے مؤثرانداز میں نمٹنے کی نشاندہی کی۔

حتیٰ کہ اپریل، مئی اور جون کے کچھ حصے میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نفاذ اور ساتھ میں سخت سرحدی کنٹرول کے باوجود اعلیٰ معیار کی جائیدادوں کا مجموعی لین دین گزشتہ سال کی بہ نسبت زیادہ رہا ہے۔

سنگاپور کی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بنیادی وسطی علاقے ، جہاں ریاستی شہر کے مہنگے ترین گھر موجود ہیں،2020 کے ابتدائی نو ماہ میں وہاں 2ہزار 3 سو 62 ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں۔

اس کے باوجود سنگاپور میں وبائی بیماری کی بدولت عالمی مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار مندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حکومت نے جولائی میں کہا تھا کہ دوسری سہ ماہی میں معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.2 فیصد کمی واقع ہوئی۔اس کے بعد تیسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد سکڑاؤ آیا۔

اسماعیل غفور نے کہا کہ ابتدائی نو ماہ میں مجموعی طور پر 260 گھر غیرملکیوں کو فروخت کیے گئے۔ اگرچہ یہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 316 کے مقابلے میں کم تعداد ہے، بہرحال یہ کافی ہیں، وبائی مرض کے باعث سال کے ایک بڑے حصے میں خریداری انتہائی مشکل ہوگئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ 75 فیصد خریداروں کا تعلق چین یا ہانگ کانگ سے تھا۔

پرپارٹی ایجنٹ کشمین اینڈ ویک فیلڈ برائے سنگاپور اور جنوب مشرقی ایشیاء کیلئے ریسرچ کے سربراہ کرسٹین لی نے کہا کہ جب جون میں ریاستی شہر کے لاک ڈاؤن کا دور ختم ہوا تو بیرون ملک فروخت نے زقند بھری۔مارچ، اپریل اور مئی میںغیر سنگاپوریوں کے ذریعے نان لینڈیڈ ٹرانزیکشنز کمی واقع ہوئی، عمومی طور پرجن میں اپارٹمنٹس یا مشترکہ اختیار شامل ہیں۔

جون میں اس رجحان کے برعکس ہوا۔مئی کے مقابلے میں فروخت میں 200 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، جبکہ جولائی میں 33 فیصد اور اگست میں 5 فیصد سے زائدتک ماہ بہ ماہ اضافہ ہوا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سنگاپور کی نجی رہائشی عمارتوں کی قیمتوں میں رواں سال کے دوران 1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کرسٹین لی نے کہا کہ کلیدی مرکزی لگژری مارکیٹ میں قیمتوں میں 3.4 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، تاہم شہر کے مضافاتی علاقوں میں 1.4 فیصداور سرحدی علاقوں میں 0.3 فیصد قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اس کی تلافی ہوئی۔

نائٹ فرانک میں ایسوسی ایٹ ایگزیکٹو سیلز ڈائریکٹر ایلا شرمین نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ایک ایسے جوڑے کیلئے کام کیا جوبرطانوی تارکین وطن اور ہانگ کانگ میں پروان چڑھے تھے اور حال ہی میں سنگاپور میں منتقل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروباروں کے ہانگ کانگ سے سنگاپور منتقل ہونے کی وجہ سے جائیداد کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے زیادہ تر صارفین نجی اداروںمیں کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کی آمد کے نتیجے میں قیمتوں کے بارے میں سوال میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گھر اور مکانات کے تالے کھل گئے

ایک بڑی پراپرٹی کمپنی کی نمائندگی کرنے والے کمرشل کرائے دار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنیاں ٹھیک ٹھال منتقلی کرتے ہوئے سنگاپور میں ذیلی دفاتر کھول رہی تھیں۔یہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہانگ کانگ کے دفاتر کو ہیڈ آفس کے طور پر تبدیل کریں گے۔

اسماعیل غفور نے کہا کہ ابھی تک اعدادوشمار سے ہانگ کانگ کے خریداروں کی دلچسپی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہورہی۔ڈیوڈ کی طرح متعدد افراد پہلے کرائے پر رہنے کا انتخاب کررہے ہیں۔

اکنامک ڈیولیپمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس وبائی مرض کے دوران عالمی ٹیکنالوجی میں اضافے کے نتیجے میں سنگاپور کی پراپرٹی مارکیٹ کے استحکام کا امکان ہے۔ریاستی شہر ایشیاء کے ٹیکنالوجی کے دارالحکومت کی حیثیت سے اپنی مارکیٹ کرتا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے 59 فیصد ایشیائی علاقائی ہیڈکوآرٹروہاں موجود ہے۔ چین کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ علی بابا، ٹینسینٹ اور بائٹ ڈانس نے رواں برس سنگاپور تک کاروبار میں توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

کرسٹین لی نے کہا کہ ٹیک جائنٹس سنگاپور کی جانب آرہے ہیں اور ان کمپنیوں کی مڈل مینجمنٹ کو مارکیٹ کی طلب اور اسٹاک کی قیمتوں کی وجہ سے بھاری انعام سے نوازا گیا ہے۔وہ اعلیٰ درجے کی پراپرٹی خریدنے کی تلاش میں ہیں۔

غیرملکی خریداروں کے لئے اسٹیمپ ڈیوٹی کے زیادہ اخراجات وبائی مرض کے دوران مالی طور پر مضبوط خریداروں کو روک نہ سکے۔کسٹ سوتبیز انٹرنیشنل ریئلٹی کے سائمن وانگ کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں امیر ، امیرتر ہوتے جارہے ہیں۔ ان کلائنٹس کی جانب سے ڈیمانڈ آرہی ہے جو سنگاپور میں طویل عرصے تک اپنی رقم رکھنے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسے ایک محفوظ ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔

ایسا بھی لگتا ہے کہ سر جیمز گزشتہ ماہ اپنا پینٹ ہاؤس 11 ملین سنگاپورین ڈالر سے زائدکے نقصان پر فروخت کرنے پر اتفاق کے باوجود اس میں رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس سنگاپور کے معزز بوٹینک گارڈنز ایریا میں ابھی بھی ایک پرتعیش مکان ہے۔

خریداری کیلئے رہنمائی

- غیرملکی خریداروں کو اس حوالے سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ کون سی رہائشی جائیداد خرید سکتے ہیں۔غیرسنگاپوری باشندے اور غیرمستقل رہائشی زیادہ تر مشترکہ ملکیت والے یا اپارٹمنٹس خرید سکتے ہیں اور سینٹوسا کے علاقے میں لینڈیڈمکانات خرید سکتے ہیں۔مستقل باشندے زمینی جائیداد تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرتے ہیں تاہم انہیں سنگاپور میں معاشی شراکت کا لازمی مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔

-غیرملکی خریدار کو اضافی اسٹیمپ ڈیوٹی کی لاگت ادا کرنا ہوتی ہے۔ ایڈیشنل بائرز اسٹیمپ ڈیوٹی آپ کی جائیداد کی قیمت پر 25 فیصد اضافی ٹیکس ہے۔امریکی شہریوں اور آئس لینڈ ، لیچٹنسٹن ، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے شہریوں کے لئے ایک استثناء موجود ہے۔

آپ کس لیے کیا خرید سکتے ہیں

- 1.9 ملین سنگاپورین ڈالر میں سینٹوسا جزیرے پر دو بیڈرومز کا کنڈومینیم(مشترکہ ملکیت)

-5.2 ملین سنگاپورین ڈالرز میں ایسٹ کوسٹ کے اوپری علاقے پر پانچ بیڈرومز کا علیحدہ گھر

-19.3 ملین سنگاپورین ڈالرز میں سی بی ڈی میں والچ سینٹ پر چار بیڈرومز کا ایک پینٹ ہاؤس( وہی عمارت جہاں سر جیمز نے ڈیسن نے حال ہی میں پینٹ ہاؤس فروخت کیا تھا)

فنانشل ٹائمز سے مزید