• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرٹیچنگ اسپتال کے ڈائریکٹر سمیت 6 ملازمین معطل


پشاور کے خیبرٹیچنگ اسپتال میں گیس کی کمی کے باعث 7 مریضوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ سے متعلق اسپتال کے بورڈ آف گورنرز نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ، اسپتال ڈائریکٹر سمیت 6 ملازمین کو معطل کردیا۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب آکسیجن گیس کی کمی کے باعث مختلف وارڈز میں زیر علاج 7 مریض جاں بحق ہوئے ، اس واقعہ سے متعلق اسپتال کے بورڈ آف گورنرز نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی اور اسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر ندیم خان سمیت 6 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔

معطل ملازمین میں فیسیلیٹی منیجر طاہر شہزاد اور منیجر سپلائی چین علی وقاص ، آکسیجن پلانٹ اسسٹنٹ نعمت، آکسیجن پلانٹ ڈیوٹی ایمپلائی وحید اور شہزاد اکبر شامل ہیں۔

اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی کے بیک اپ کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، فیسیلٹی منیجر نے آکسیجن پلانٹ کے غیر حاضر عملے کی رپورٹ نہیں دی، سپلائی چین نے آکسیجن کی مطلوبہ مقدار بروقت مہیا نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بائیومیڈیکل انجینئر ڈیوٹی دینے میں ناکام رہا، خیبرٹیچنگ اسپتال کے پاس کوئی ایمرجنسی ریسکیو اسکواڈ موجود نہیں، جبکہ پاکستان آکسیجن لمیٹیڈ کمپنی کے مانیٹرنگ ،سپلائی نظام کےمعیارکی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ آکسیجن سپلائی کمپنی کے ساتھ معاہدہ 30 جون 2017 کو ختم ہوچکا ہے جبکہ اسپتال ریکارڈ میں معاہدے میں توسیع یا نئے معاہدے کا کوئی آفس آرڈر نہیں۔

رپورٹ کے مطابق مریضوں کی اموات کا واقعہ آکسیجن پلانٹ کا نظام ناکام ہونے سے پیش آیا، پلانٹ کے ٹینک میں آکسیجن کی شدید کمی کا بروقت نوٹس نہیں لیا گیا کمپنی نے ٹینک کو مطلوبہ سطح تک آکسیجن سے کبھی بھی نہیں بھروایا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال کے پاس 10 ہزار کیوبک میٹر کی گنجائش کا آکسیجن اسٹوریج ٹینک ہے، 4 دسمبر کو کمپنی نے ٹینک کو 3 ہزار 40 کیوبک میٹر تک آکیسجن سے بھروایا، واقعہ کے وقت 90 مریض آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھے، 13 مریضوں کو فوری طور پر شعبہ ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا جبکہ آئسولیشن وارڈ میں 6 مریض آکسیجن نہ ہونے سے جاں بحق ہوئے۔

قومی خبریں سے مزید