• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لانگ مارچ جنوری کے آخر میں، استعفوں کا فیصلہ بعد میں ہوگا، پی ڈی ایم

لانگ مارچ جنوری کے آخر میں، استعفوں کا فیصلہ بعد میں ہوگا، پی ڈی ایم


کراچی (جنگ نیوز، ٹی وی رپورٹ) حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں حکومت کیخلاف لانگ مارچ ہوگا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سینیٹ کا الیکٹرول کالج توڑنے کی اسٹریٹجی بنا رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی حکومت کا تحفظ کررہی ہے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم ایک پیج اور اسٹیج پر ہیں، استعفوں پر پارٹی اجلاس بلایا ہے، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور کا جلسہ ہوگا اور بھرپور ہوگا۔

اے این پی کے رہنما اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار نے کہا کہ میاں افتخار نے کہا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ ہوگا، حکومت خوفزدہ ہے گرفتاریاں شروع کردیں، لاہور جلسے میں مزید اعلانات کیے جائینگے۔ 

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ناجائز حکومت کی محافظ بنی ہوئی ہے، اس حکومت کو عوام کی نمائندہ تسلیم نہیں کرتےحکمرانوں کو گھر بھیجنے کیلئے ہم ہر جمہوری حربہ استعمال کرینگے۔ 

اس حکومت کو عوام کی نمائندہ تسلیم نہیں کرتے، تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں، اسٹرینگ کمیٹی میں جلسوں، پہیہ جام اور اسلام آباد مارچ کا شیڈول طے کرینگے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت جلسہ گاہ مینار پاکستان کو ڈیم بنا رہی تاکہ وہاں جلسہ نہ ہوسکے جبکہ کہتے ہیں ہم جلسے کو نہیں روکیں گے لیکن اجازت بھی نہیں دے رہے، پھر جہاں ہم جلسہ کر رہے ہیں اس کو ڈیم بھی بنا دیا ہے تو اس کے متبادل پر بات ہوئی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم طے کیا ہے کہ جلسہ ہو کر رہے گا اور ہر قیمت پر لوگ اس جلسے میں آئیں گے، ہر طرف سے لاہور لوگوں کا مرکز اور 13 دسمبر ایک تاریخی دن ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس پر اتفاق ہے کہ اگر انہوں نے ایک راستہ روکا تو دوسرا راستہ بنانا ہے اور دوسرا راستہ روکا تو تیسرا راستہ بنانا ہے۔

استعفوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ چہ مگوئیوں سے تحریک کو تقویت ملتی ہے، اسٹیرنگ کمیٹی میں شٹر ڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال، جلوس اور اسلام آباد کی طرف مارچ کس وقت کریں گے اس کا فیصلہ ہوگا اور ان تمام مراحل میں استعفوں کا ذکر ہوتا رہے گا.

ان کا کہنا تھا کہ اگلے دنوں میں حکمت عملی بھی واضح کرینگے کہ استعفے کس وقت ڈھال بنا کر ان کے سر پر دے مارنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت نہیں ہے بلکہ آمریت کا ایک مہرہ ہے، جس نے جمہوریت کو دفن کردیا ہے، ہم نے جمہوریت کی احیا، جمہوریت کی بقا اور آئین کے تحت حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ حکومت کی بات کرنی ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس حکومت کو نہ عوام کی نمائندہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی آئینی اور جمہوری حکومت تسلیم کرتے ہیں، اب بھی اسٹیبلشمنٹ انکی محافظ بنی ہوئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جب اسٹیبلشمنٹ اس طرح کی ایک ناجائز حکومت کی محافظ بنی رہے گی تو کس طرح اس نظام کو جمہوری کہہ سکتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے ٹوٹنے سے سینیٹ کے الیکٹورل کالج ٹوٹنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں موجود اسمبلیوں کے ذریعے سینیٹ کے اگلے انتخابات ہونگے تو ظاہر ہے وہ جعلی قسم کے ہونگے اور اسکے الیکٹورل کو توڑنا ایک جمہوری اور آئینی عمل کا حصہ تصور کرینگے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست سڑکوں پر شروع ہوئی تھی اور ہر آمرانہ دور کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی ہم سب مقابلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت اور ان کے سہولت کاروں کو گھر بھیجنے کے لیے نکلے ہیں، اس میں پی پی پی مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز سمیت تمام 11 جماعتیں ایک صفحے اور ایک اسٹیج پر ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے اے پی سی میں 20 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ ہم جلسے بھی کریں گے، سول سوسائٹی سے رابطے اور احتجاج بھی کریں گے، ہم سارے جمہوری حربے استعمال کریں گے اور اس میں استعفے بھی شامل ہیں اور ہم اسی عمل کو آگے لے کر جار ہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس میں پاکستان کے عوام بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی اس موضوع پر سی ای سی کا اجلاس بلا رہے ہیں جہاں اعتزاز احسن سمیت دیگر رہنما شریک ہوں گے اور جو بھی پی پی پی کا فیصلہ ہوگا وہ اعتزاز احسن کا بھی اتنا فیصلہ ہوگا جتنا میرا فیصلہ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے بھی اس موقع پر میڈیا سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے منصوبوں پر ہی یہ تختیاں لگا رہے ہیں، نواز انہوں نے تو ابھی تک ایک اینٹ نہیں لگائی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت کے پاس استعفے جمع کیے جائیں گے۔

تازہ ترین