آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جان کارلوس کی جانب سے ہسپانوی ٹیکس معاملات حل کرنے کی کوشش میں 6لاکھ 80 ہزار یورو کی ادائیگی

میڈرڈ: ڈینیئل دومبے

اسپین کے سابق بادشاہ جان کارلوس ، بڑھتے ہوئے اسکینڈل کے دوران ملک چھوڑنے کے چار ماہ بعد اپنے ٹیکس امور اور قانونی مسائل حل کرنے کے لئے نصف ملین سے زائد یورو کی ادائیگی کرچکے ہیں۔

سابق بادشاہ کے وکیل جیویر سانچیز-جنکو نے کہا کہ 678،393.72 یورو کی ادائیگی اور اعلان جان کالورس کا اپنا اقدام ہے اور انہوںنے سود اور سر چارجز سمیت اپنا قرض کا حساب صاف کردیا تھا۔

جیویر سانچیز-جنکو نے مزید کہا کہ جہاں پناہ شاہ جان کارلوس ہمیشہ کی طرح کسی بھی طریقہ کاریا کارروائی جو مناسب سمجھی جائے،اس کیلئے پبلک پراسیکیوٹر آفس کو ہروقت دستیاب ہیں۔

حتیٰ کہ جب بادشاہت اسپین کی پولرائزڈ سیاستکی جڑوں میں رچ بس چکی تھی،2014 میں بادشاہت سے دستبردار ہونے والےسابق بادشاہ کے گرد بڑھتے ہوئے تنازع کے ایک سال بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔

سابق بادشاہ کی سباقہ محبوبہ کورینا زو سائیں، وٹجین اسٹائن نے مارچ میں کہا تھا کہ انہوں نے 2012 میں انہیں 65 ملین یورو دیئے تھے۔یہ رقم سعودی عرب کے شاہ عبداللہ مرحوم کی جانب سے جان کارلوس کو 100 ملین یورو تحفے میں سے دی گئی تھی۔

اس کے فوراََ بعد ہی جان کارلوس کے بیٹے اور اسپین کے فرمانرواں باشاہ فیلپ ششم سابق بادشاہ اور ان کے والد کی جانب سے کسی بھی میراث سے دستبردار ہوگئے اور اپنے والد کو شاہی گھرانے کی تنخواہ سے محروم کردیا۔

قانونی حکام نے جولائی میں انکشاف کیا تھا کہ ملک کی عدالت عظمیٰ کے استغاثہ مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے مابین 7 ارب یورو مالیت کے تیزرفتار ٹرین منصوبے کے سلسلے میں جان کارلوس کو مشتبہ ادائیگیوں کے بارے میں تحقیقات کررہے تھے جو 2011 میں ایک ہسپانوی کنسورشیم کو دیا گیا تھا۔

اگست میں اس اعلان کے بعد کہ ملک کے اداروں اور لوگوں کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے عزم کے ذریعے ہدایت کرتے ہیں،جان کارلوس نے ابوظہبی کے سیون اسٹار امارات ہوٹل میں رہائش اختیار کرتے ہوئے انہوں نے اس وقت اسپین سے باہر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان خبروں کے بعد کہ جان کارلوس نے تیسرے فریق کے ذریعے ادا کردہ کریڈٹ کارڈ استعمال کیے تھے، ریاستی پراسیکیوٹر کے دفتر نے نومبر میں سابق بادشاہ سے علیحدہ تفتیش کا انکشاف کیا تھا اور کہا کہ انہوں نے ملک کے ٹیکس نظارت اور ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کو ممکنہ لیک کے بارے میں خبردار کردیا تھا۔

اگر اس طرح کی تفتیش میں 2011 کے ریل معاہدے کی انکوائری کے مقابلے میں سابق بادشاہ کی 2014 میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد کے واقعات شامل ہوتے تو یہ انکوائری زیادہ قانونی اہمیت کی حاصل ہوتی کیوں کہ بادشاہ کی حیثیت سے جان کارلوس کو بادشاہ کی حیثیت سے مقدمہ چلانے کے لئے آئینی تحفظ حاصل تھا۔

نظریاتی طور پر جان کارلوس پر 2014 کے بعد کی کارروائیوں کے لئے سپریم کورٹ میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ تاہم ، ہسپانوی قانون کے تحت اگر کوئی بقایا قرض ادا کرتا ہے تو اس کے خلاف ٹیکس کے جرم میں قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے، جیسا کہ جان کارلوس کے وکیل کا کہنا ہے کہ باقاعدہ الزامات لانے سے پہلے اب ان کے پاس استثنیٰ ہے۔

ہسپانوی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں اطلاع دی ہے کہ سابق بادشاہ نے دوستوں سے کرسمس کے موقع پر وطن واپس آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم جان کارلوس جنہیں 1970 کی دہائی میں اسپین کو جمہوریت کی جانب لانے کیلئے ان کرداراور 1981 میں بغاوت کی کوشش کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے طویل عرصے سے سراہا جاتا تھا، اب ایک متنازع شخصیت بن چکےہیں۔

بدھ کے روز اعلان سے قبل ہی، اسپین کے حکمراں اتحاد میں جونیئر شراکت دار پوڈیومس کے پارلیمانی ترجمان پابلو ایکینیک نے کہا کہ جان کارلوس کے ٹیکس اعلامیے کو اعتراف سمجھا جائے گا کہ انہوں نے بجٹ کی وزارت کو بدنام کیا۔

حکومتی وزراء زیادہ محتاط رہے ہیں۔ بدھ کے روز بجٹ کی وزیر ماریا جیسیس مانیٹرو نے کہا کہ اگر آپ کو بتادیں کہ ہم قانون کے سامنے برابر ہیں اور خاص طور پر ہم میں سے جو عوامی ذمہ داریوں کا حامل ہیں تو آپ کافی اچھی طرح سے اندازہ لگاسکتے ہیں۔

بادشاہت کے کردار پر ایک ایسے وقت میں سیاسی طور پر الزام لگایا گیا ہے جب حق کے لئے مشتعل علیحدگی پسند باسکی اور کاتالان پارٹیوں کے زریعے اسپین کی بائیں بازو کی حکومت ہے۔

گزشتہ ماہ فوج کے 73 ریٹائرڈ افسران نے سوشلسٹ کمیونسٹ حکومت پر حملہ کرنے اور آبائی وطن کے لئے ان مشکل لمحوں میں بادشاہ سے اپنی وفاداری کا وعدہ کرتے ہوئے فیلپ ششم کو مراسلہ تحریر کیا تھا۔

بدھ کی رات اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ سابق بادشاہ کی بے گناہی کا تصور برقرار رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کام کررہی ہے، ذرائع ابلاغ اطلاعات دے رہےہیں کہ کیا ہورہا ہے، ٹیکس کا نظام بغیر کسی مداخلت کے کام کررہا ہے۔

شاہی محل نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید