آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سال 2020ء میں کورونا وائرس نے جہاں مختلف شعبوں کو تباہ کیا، وہیں ثقافتی سرگرمیوں کا گلا بھی گھونٹ دیا تھا، سب کچھ رُک گیا تھا، تھیٹر کے فن کاروں میں مایوسی نے اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی،کچھ فن کار تو ایسے بھی تھے، جن کا کہنا تھا کہ ہم تو لاک ڈائون کے دوران یہ بھی بُھول گئے تھے کہ ہم کام کیا کرتے تھے۔ کورونا وائرس نے سب سے زیادہ نقصان روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے چولہے ٹھنڈے کرکے پہنچایا۔ ایسے حالات ہوگئے تھے کہ کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ ہر طرف اُداسی کے سناٹے تھے۔ 

ایسے میں آرٹس کونسل کراچی، پی این سی اے، ’’ناپا‘‘ اکیڈمی، الحمرا آرٹس کونسل اور پاکستان امریکن کلچر سینٹر نے ایس او پیز کے تحت ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ثقافتی اداروں میں آرٹس کونسل کراچی نے ملک بھر کے تمام ثقافتی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آرٹس کونسل کراچی نے احمد شاہ کی قیادت میں فن کاروں کو گھروں سے نکالا اور درجنوں اسٹیج ڈرامے پیش کرنے کا اعلان کیا۔ ’’عوامی تھیٹر فیسٹیول‘‘ میں درجنوں اسٹیج ڈرامے کام یابی کے ساتھ پیش کیے گئے، کورونا کے سائے میں قہقہوں کا طوفان برپا کیا گیا۔ 

ان اسٹیج ڈراموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ کئی اسٹیج ڈرامے ایسے بھی تھے کہ اس موقع پر حاضرین کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ زیڈ۔اے بخاری اوپن ایئر تھیٹر میں ہزاروں افراد موجود تھے ، اور اتنی ہی بڑی تعداد آرٹس کونسل کی پارکنگ اور مین گیٹ کے باہر جمع ہوگئی تھی۔ 

عوام کا رَش کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو بُلایا گیا، لیکن ان سے بھی کنٹرول نہیں ہوا تو آرٹس کونسل کی انتظامیہ نے رینجرز سے مدد مانگی تو حالات کنٹرول میں لائے گئے۔ کورونا وائرس کے لاک ڈائون کے دوران فن کے دلدادہ تفریح کو ترس گئے تھے۔ وہ اپنی صحت کی پروا کیے بغیر ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے اسٹیج ڈرامے بڑی تعداد میں دیکھنے آئے۔ دو ماہ تک آرٹس کونسل کراچی میں اسٹیج ڈراموں اور سنجیدہ تھیٹر کی مسلسل بارش ہوتی رہی اور فن کے دیوانے اس بارش میں بھیگ کر انجوائے کرتے رہے۔ 

ابتدا میں ’’عوامی تھیٹر فیسٹیول‘‘ میں ہنسی اور قہقہوں کا طوفان برپا کیا گیا، بعد ازاں سنجیدہ اور طنزومزاح سے بھرپور تھیٹر کئی روز پیش کیا گیا۔ اتنے کم عرصے میں تھیٹر کی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں کہ اتنی بڑی تعداد میں تو کئی اداروں میں سال بھر میں اتنے سارے ڈرامے پیش نہیں کیے جاتے، جو دو ماہ میں پیش کیے گئے۔ یہ بھی کہا گیا کہ گھٹن زدہ ماحول میں تھیٹر کی غیر معمولی سرگرمیوں نے کورونا کے خلاف ویکسین کا کام کیا۔ مارچ 2020ء میں پاکستان میں لاک ڈائون شروع ہوا تو اس کے بعد تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں۔

آرٹس کونسل کراچی نے اگست 2020ء میں یہ جمود توڑا اور جشن آزادی کے موقع پر شان دار تقریبات کا آغاز کیا، جس میں ہزاروں ممبران نے شرکت کی۔ بعد ازاں عوامی تھیٹر فیسٹیول کا آغاز 18؍ستمبر 2020ء سے ہوا اور 4؍اکتوبر تک جاری رہا۔ تمام ڈرامے ممبران اور اُن کی فیملی کو مفت دکھائے گئے۔ پاکستان کو کیسا ہونا چاہیے،اس فیسٹیول میں کوشش کی گئی کہ ملک میں رہنے والوں کی تمام زبانوں میں تھیٹر پیش کیا جائے، اس طرح قومی یکجہتی کی فضا بھی دیکھنے کو ملی۔ فیسٹیول میں پیش کیے گئے تمام ڈرامے فیملی کے لیے بنائے گئے تھے، ان میں کسی قسم کی ولگریٹی دیکھنے کو نہیں ملی۔ 

یہی وجہ تھی کہ لوگ پُوری فیملی کے ساتھ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں شریک ہوئے۔ ایک اور خاص بات سامنے آئی کہ اسٹیج ڈراموں کی دوسری اور تیسری نسل نے بھی مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس فیسٹیول کا مقصد عوام کو تفریح پہنچانے کے ساتھ ساتھ لاک ڈائون کی وجہ سے پریشان فن کاروں اور ہنرمندوں کی سپورٹ کرنا بھی تھا۔ لاک ڈائون کی وجہ سے 6؍ماہ سے جو صورت حال جاری رہی، اس سے عام شہری کی طرح اسٹیج فن کار بھی ڈپریشن کا شکار ہوئے۔

آرٹس کونسل نے اسٹیج فن کاروں، گلوکاروں، میک اپ آرٹسٹوں کے لیے نقد رقم اور راشن کا انتظام بھی کیا۔ فیسٹیول کے بارے میں عالمی شہرت یافتہ فن کار طلعت حسین نے بتایا کہ برطانیہ، روس اور فرانس تک ہمارے تھیٹر کے چرچے ہوئے۔ تھیٹر کسی بھی ملک کی ثقافت کو پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ 2020ء میں کورونا کے باوجود آرٹس کونسل نے شان دار تھیٹر پیش کیا۔‘‘

عوامی تھیٹر فیسٹیول میں ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردینے والے ڈرامے پیش کیے گئے۔ ان اسٹیج ڈراموں میں سب سے پہلے معروف مزاحیہ فن کار پرویز صدیقی اور ذاکر مستانہ نے اسٹیج ڈراما ’’خالہ خیالوں میں‘‘ پیش کیا گیا۔ دیگر اسٹیج ڈراموں میں ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ ’’دنیا دو نمبری‘‘ ’’جوڑی نمبر ون‘‘ ’’گھبرائے جونہائے‘‘ ’’اوپیرا‘‘ ’’شرارت‘‘ ’’میرا ویا کرائو‘‘ ’’حوا کی چیخ‘‘ ’’شادی نہ کرنا یارو‘‘ ’’بیٹی رانی‘‘ اور ’’یہی سوچ‘‘ شامل تھے۔ تمام ڈرامے ہائوس فل گئے۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں جن نئے اور سینئر ہدایت کاروں کو موقع دیا گیا۔ 

ان میں شکیل صدیقی، رئوف لالہ، پرویز صدیقی، ذاکر مستانہ، شکیل شاہ، نذر حسین، زاہد شاہ، آدم راٹھور، الیاس ندیم، حمید راٹھور، الطاف سومرو، عابد نوید، جمیل راہی، آفتاب کامدار، ظہور ملک، محمد علی نقوی، ریاض مخدوم، عرفان ملک اور علی حسن نے اپنی بہترین کاوشوں سے اداس چہروں پر مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کیے۔ اس موقع پر ڈرامے وقت پر شروع کرنے کی روایت بھی سامنے آئی۔ فیسٹیول شروع ہونے سے قبل اگست ہی سے اس کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔ آرٹس کونسل میں فن کاروں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ 

آرٹس کونسل کے کسی کونے میں کوئی ڈراما ریہرسل ہورہا ہوتا تھا، تو دوسری جانب کوئی اور ٹیم اپنے ڈرامے کی تیاریاں کررہی ہوتی تھی۔ فن کاروں کی مختلف ٹولیاں اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آٗئیں۔ لاک ڈاؤں کی وجہ سے فن کاروں نے 6؍ماہ کی فنی پیاس شان دار پرفارمنس کے ذریعے بجھائی۔ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے نہایت دل چسپ گفتگو کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’’آج کے دور میں جہاں ہر کوئی ٹی وی اور موبائل فون اور گھر تک محدود ہوگیا ہے، ایسے میں آرٹس کونسل نے سیکڑوں افراد کو ایک چھت تلے جمع کرکے مثال قائم کردی۔ یہ حقیقت ہے کہ آرٹ پُوری دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ 

مجھے عوامی تھیٹر فیسٹیول کے موقع پر شہریوں کے چہروں پر ایک الگ خوشی نظر آئی۔ احمد شاہ نے ثقافتی ڈھول بجانا شروع کردیا ہے۔ ہم بھی ان کی دیکھا دیکھی سندھ کے مختلف شہروں میں ثقافتی ڈھول بجائیں گے۔ فن کاروں کو دی جانے والی عوامی پذیرائی، انتہا پسندی کے حوصلے پشت کردے گی۔‘‘

ابھی ’’عوامی تھیٹر فیسٹیول‘‘ کی رنگارنگی اور مقبولیت کم نہ ہوئی تھی کہ فوراً ہی آرٹس کونسل کے ’’اے سی آڈیٹوریم ‘‘میں ’’کراچی تھیٹر فیسٹیول‘‘ کا آغاز کردیا گیا۔اس کی افتتاحی تقریب میں بھی صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’شہری روز روز ایک جیسی خبریں دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں۔ ہمیں ایک نئے دور کی شروعات کرنی چاہیے۔ پاکستان میں تھیٹر کی روایت پروان نہیں چڑھ سکی، اس لیے کراچی تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔‘‘مختلف سنجیدہ اور اہم موضوعات پر مبنی تھیٹر کا آغاز یکم اکتوبر 2020ء سے ہوا اور 18؍اکتوبر 2020ء تک قہقہوں کی بارش ہوتی رہی۔ 

اس موقع پر آرٹس کونسل کی تھیٹر اکیڈمی کے فن کاروں نے ’’نکڑ ناٹک‘‘ کی روایت کو بھی زندہ کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر نکڑناٹک پیش کیا جاتا تھا۔ اس کا تمام کریڈٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر میثم نقوی کو جاتا ہے۔ کراچی تھیٹر فیسٹیول میں ڈراما ’’بانو‘‘ (میثم نقوی) ’’ہیر‘‘ (زین احمد) ’’لیڈیز ٹیلر‘‘ (ثمینہ نذیر) ’’تماشا‘‘ (عظمیٰ ثبین) ’’راحت جان‘‘ (انجم ایاز) ’’بے چارہ چور‘‘ (عبیر اقبال) ’’انوسٹی گیشن سیل‘‘ (کلثوم آفتاب) ’’اسٹیپمڈ‘‘ (رئوف آفریدی) ’’کھویا ہوا آدمی‘‘ (ذیشان نل والا) ’’ڈیڈ اینڈ‘‘ (سنیل شنکر) ’’پھر مجرم کون؟‘‘ (وجدان شاہ) ’’پنٹو ڈیتھ کلب‘‘ (پارس مسرور) ’’بیگم جان‘‘ (ماریہ سعد) ’’لو اون سیل‘‘ (یونس خان) ’’لائٹس آئوٹ‘‘ (فواد خان) لائٹس آؤٹ(فواد خان)’’منہ میں تو موجود‘‘(شیما کرمانی) ’’بیڈ روم کزورزیشن‘‘ (خالد احمد) ’’عشق کے بعد‘‘ (زرقا ناز) ’’اڑتا تیر‘‘ (مظہر منظر) ’’گڈ لک ڈارلنگ‘‘ (فرحان عالم) ؔ"A Doll,s House" (دانیال عمر) نُکڑ ناٹک ’’سفر‘‘ (آفرین سحر) اور گڈ لک ڈارلنگ ( فرحان عالم) نے پیش کیا۔ فیسٹیول میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے فن کاروں اور ہنرمندوں میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپیئر اور ڈراما نگار انور مقصود نے ایوارڈ تقسیم کیے۔ 

 اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے،اُن کا کہنا تھا کہ ’’23؍تھیٹر کے 44؍شوز پیش کرنا، کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ ہمیں ہر صورت نوجوان ہدایت کاروں اور فن کاروں کے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہوگا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ میں تمام ہدایت کاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے کورونا کے سائے میں لاجواب تھیٹر پیش کیا۔ انور مقصود نے اپنی طزومزاح سے بھرپور گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ٹیلی ویژن پر چلنے والے سوفی صد ڈراموں میں 90؍فی صد صرف خواتین لکھ رہی ہیں اور وہ ڈراموں کو بچوں کا کھیل سمجھ رہی ہیں۔ 

خدارا ٹیلی ویژن ڈراموں کو بدلیں۔ جو ڈراما دیکھو، تمام لڑکوں نے شیو رکھی ہوئی ہے۔ ہیرو اور وِلن کا فرق ہی نہیں محسوس ہوتا۔‘‘ احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں تھیٹر کے دروازوں کو زنگ لگ گیا تھا۔ انور مقصود نے قلم اٹھایا اور تھیٹر کو نئی زندگی دی اور شاہ کار ڈرامے پیش کیے۔ ’’پونے چودہ اگیت‘‘ ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ ’’ناچ نہ جانے‘‘ وغیرہ نے پُورے ملک میں دُھوم مچائی۔ خوف کی فضا میں اس طرح کے تھیٹر میلے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے۔دونوں فیسٹیولز کی کام یابی نے کورونا کے خوف میں کمی واقع کی اور فن کاروں کی غیر معمولی پذیرائی سے انہیں حوصلہ ملا۔‘‘

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے تحت سال 2020ء میں درجنوں سیشن آن لائن ہوئے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فوزیہ سعید نے بتایا کہ جب سے میں نے چارج سنبھالا ہے، تھیٹر سمیت درجنوں پروگرام پیش کیے۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں خُوب صورتی اور نکھار پیدا کرنے کے لیے فنون لطیفہ نمایاں کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً آج کے دور میں معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی اور بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحانات کی وجہ سے فنون لطیفہ کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، کیوں کہ نوجوانوں کی زندگی سے محبت اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے کے لیے ان کی آرٹ سے وابستگی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہم نے اس طرح کے پروگرام اور ڈرامے پیش کیے، جن سے زندگی میں خُوب صورتی اور مزاج میں ٹھہرائو پیدا ہو اور محبتوں کو فروغ حاصل ہو۔ پی این سی اے میں قومی پتلی گھر موجود ہے۔ 

ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے پاکستان میں پہلا قومی پپٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ حال ہی میں قومی پُتلی گھر کو جدید تقاضوں سے ہم آہٓنگ کرنے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت فاروق قیصر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو قومی پُتلی گھر کے فن کاروں کو نت نئے انداز سے تربیت دے رہے ہیں اور کورونا اور لاک ڈائون کی موجودگی میں سوشل میڈیا کے ذریعے اس فن کو لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ پُتلی تماشے میں بچوں اور بڑوں یعنی والدین کی یکساں دل چسپی دیکھنے کو ملتی ہے۔ 

بچے رنگ برنگے دل کش ملبوسات پہنے پپٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور مشہور ملی نغمے، لوک گیت اور خُوب صورت کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ فنون لطیفہ میں پُتلی تماشے کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تفریح کا سب سے قدیم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے ہم نے لوگوں کو تاریخی واقعات اور روایات سے آگاہی فراہم کی۔

2020ء میں ہم نے زیادہ تر آن لائن سرگرمیاں کیں۔ پُتلی تماشا فیسٹیول کا شان دار رسپانس آیا۔ عموماً پتلیوں کی چار اقسام ہوتی ہیں۔ ان میں دستانے والی پتلی جو (Glove Puppet) کہلاتی ہے، جس میں فن کار اپنے ہاتھوں پر دستانے چڑھا کر انگلیوں کے اشارے سے کہانی بیان کرتا ہے۔ دوسری قسم سائے والی پتلی (Shodow Puppet) ہوتی ہے، جس میں پروجیکٹر کی روشنی کے سامنے کٹ آئوٹ میں بنی پتلیوں کو روشنی سے گزارا جاتا ہے اور سامنے پردے یا دیوار پر شبیہ کے ذریعے کھیل پیش جاتا ہے۔ 

تیسری قسم دھاگوں والی پتلی (String Puppet) کی ہوتی ہے، جس میں دھاگوں یا تاروں کے ساتھ بندھی پتلیوں کو زمین پر رقص کروایا جاتا ہے اور ان کے مابین لڑائی یا دوسرے سین پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی نمائش زیادہ تر میلوں یا گلی کوچوں میں کی جاتی ہے۔ پتلی کی چوتھی قسم چھڑی والی پتلی (Rod Puppet) ہوتی ہے۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ 1974ء میں قومی پتلی گھر کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد اس تاریخی فن کو ترقی دینا اور تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور خصوصاً بچوں کو اپنی ثقافت اور معاشرتی اقدار، روایات اور تاریخی ورثے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ عوامی جمہوریہ چین نے ہمیشہ پاکستان کو زندگی کے مختلف شعبوں کو ترقی دینے کے لیے مدد فراہم کی۔ چین کی پتلیاں اپنی خُوب صورتی کے لیے دُنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس فن کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سترہویں صدی کے معروف صُوفی شاعر وارث شاہ نے اپنی محبوبہ کو ’’چینی پُتلی‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔‘‘

عالمی شہرت یافتہ فن کار ضیاء محی الدین کی قیادت میں ’’ناپا‘‘ اکیڈمی کام یابی سے فن کی خدمت کررہی ہے۔ اداکار اور موسیقارمحمود ارشد اور راحت کاظمی کی زیرنگرانی عمدہ پروگرام پیش کیے گئے۔

2020ء کے آغاز میں ’’ناپا‘‘ اکیڈمی نے ’’لافٹر فیسٹیول‘‘ کا شان دار انعقاد کیا، جس میں درجنوں تھیٹر کھیل شامل تھے۔ تمام کھیل ضیاء محی الدین آڈیٹوریم میں پیش کیے گئے۔ فیسٹیول میں زرقا ناز کی تحریر و ہدایات میں ڈراما ’’واپسی‘‘ کو بے حد پسند کیا گیا۔ ’’ناپا‘‘ اکیڈمی نے 2020ء کا آغاز لافٹر یعنی قہقہوں کے طوفان سے کیا بعدازاں ’’ناپا‘‘ اکیڈمی نے انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول کا آغاز کیا۔ 

 رواں برس کے مارچ کا مہینہ تھا، کورونا تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ انٹرنیشنل فیسٹیول میں چند ہی ڈرامے پیش کیے گئے بعدازاں لاک ڈائون کی وجہ سے فیسٹیول کو ادھورا بند کرنا پڑا۔ مختلف ممالک سے تھیٹر کے نامور آرٹسٹ پاکستان پہنچ چکے تھے، مگر کورونا نے اس فیسٹیول کو مکمل نہیں ہونے دیا۔ 

تھیٹر 5؍مارچ سے شروع ہوکر 22؍مارچ تک جاری رہنا تھا۔ فیسٹیول کے ڈائریکٹر زین احمد کا کہنا تھا کہ ہم نے فیسٹیول میں اردو، انگریزی، سندھی زبانوں کے ڈرامے شامل کئے۔ ’’ناپا‘‘ اکیڈمی جہاں اپنے طالب علموں کو تربیت فراہم کرتی ہے، وہیں انہیں فن کا مظاہرہ کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔‘‘ کراچی میں تھیٹر کی روایت کو زندہ رکھنے میں ’’ناپا‘‘ اکیڈمی نے نمایاں کردار ادا کیا۔

اس ادارے کے تحت نہایت کام یاب تھیٹر فیسٹیول پیش کیے گئے۔رواں برس لاہور الحمراء آرٹس کونسل نے 71ویں سالگرہ منائی گئی،جس میں مشہورشخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر الحمراء آرٹس کونسل کی 71ویں سال گرہ کا کیک بھی کاٹا گیا اورگرینڈ پرفارمنسز کا انعقاد ہوا، جس میں ملک کے نامور فن کاروں نے اپنے فن کا جادو جگایا۔

پاکستان سمیت دُنیا بھر سے آرٹ سے محبت کرنے والوں نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل ثمن رائے نے کہا ہے کہ الحمرا کا 71برسوں کا سفر نہایت خُوب صورت رہا ہے۔ چیئرپرسن الحمراء منیزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہا کہ الحمرا میرے اپنے گھر کی مانند ہے۔ہم نے کورونا وائرس کے باعث ٹھپ پڑی فن و ثقافت کی سرگرمیاں ٹیکنالوجی کے ذریعے بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ 

فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے آرٹس کونسل کی جانب سے ایک اچھی کاوش بھی سامنے آئی۔ فن کے دلدادہ لوگوں نے بلامعاوضہ موسیقی، سِتار، گٹار، طبلہ اور بانسری سمیت آرٹ کی دیگر اصناف کی تربیت حاصل کی، کیوں کہ الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس نے تربیتی ویڈیوز آن لائن پیش کیں۔

فن کاروں کے مطابق کورونا کے سبب درپیش صورتِ حال میں جہاں یہ ویڈیوز سیکھنے میں مدد گار ثابت ہوئیں، وہیں تفریح کا ذریعہ بھی بنیں۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل ثمن رائے کا کہنا ہے کہ تربیتی ویڈیوز ریلیز کرنا فن کو زندہ رکھنے کی کوشش تھی۔ ہم نے مختلف تربیتی کورسز آن لائن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ موسیقار سجاد طافو کا کہنا تھا کہ ان تربیتی ویڈیو سے موسیقی کے بے شمار طلباء بھی مستفید ہو ئے، جب کہ دیگر گھر بیٹھے شائقین نے بھی خُوب انجوائے کیا۔ 

ایگزیکٹو ڈائریکٹر چمن رائے کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فن و ثقافت کی سرگرمیاں بالکل ماند پڑ چکی تھیں، اس لیے ہم نے سوچا تمام سرگرمیوں کو ریکارڑ کر کے انٹر نیٹ پر پیش کریں، جس کا ہمیں شان دار رسپانس آیا۔الحمرا انتظامیہ پرامید ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جاری ہونے والی ویڈیوز کو نوجوانوں نےخوب پسند کیا ہوگا۔

رواں برس تھیٹر کے سب سے مقبول فن کار امان اللہ ہم سے جُدا ہوگئے، ان کے انتقال کی وجہ سے قہقہوں کی موت ہوگئی۔لاکھوں شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا فن کار اُداس کر کے چلا گیا۔ایسے فن کار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغۂ حسنِ کارکردگی کا اعزاز پانے والے چھیاسٹھ برس کے امان اللہ گردوں اور پھیپھڑوں کی تکلیف کے باعث لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ 

ان کے انتقال کی خبرسنتے ہی شوبز کے حلقوں کی تمام سرگرمیاں معطل ہوگئی تھیں۔ امان اللّٰہ خان سن1954 میں گوجرانوالہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن سے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے پھیری لگا کر چیزیں بیچنا شروع کر دیا۔ انہوں نے سب سے پہلے سِکسر نامی ایک اسٹیج ڈرامے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پھر ان کے بہت سے ڈرامےنہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی مقبول ہوئے۔ اپنے چونتیس برس کے کیریئر میں امان اللہ نے طویل عرصے تک مسلسل اسٹیج شوز پر اداکاری کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔

2020ء میں کورونا کی وجہ سے اتنی زیادہ سرگرمیاں تو نہ ہوسکیں، لیکن فن کے دیوانوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کو صحت مند تفریح پہنچانے کی بھرپور کوشش کی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید