آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ)

مشرقی پاکستان چوبیس برس مملکتِ پاکستان کا حصّہ رہا۔ اِسی سرزمین پر 1906میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مسلمانوں کے اِس عظیم اجتماع کے بندوبست میں جناب نواب سلیم اللہ نے کلیدی کردار اَدا کیا تھا۔ قائدِاعظم کی قیادت میں برِصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا اور چوبیس برسوں کے اندر ہی دولخت ہو گیا۔ اِن چوبیس برسوں میں وہ کیا کیا واقعات رُونما ہوئے جو پاکستان کی شکست و ریخت کا باعث بنے، اُن کا دو چار کالموں میں احاطہ بہت مشکل ہے، تاہم سمجھ دار لوگوں کے لئے اشارے ہی کافی رہیں گے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قائدِاعظم ایک پارلیمانی اور وفاقی مملکت کے خواہاں تھے جو اسلام اَور جمہوریت کے بلند اصولوں اَور مسلمہ روایات پر قائم ہو۔ اُنہوں نے اپنی تمام تر سیاسی جدوجہد میں جمہوری تقاضوں کا پورا پورا خیال رکھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے مجاز اِداروں سے مشاورت کے ساتھ ہر بڑا قدم اُٹھایا۔ ایک موقع پر آخری وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائدِاعظم سے ایک اہم ترین ملاقات میں کہا کہ ہندوستان میں دو خودمختار اَور آزاد رِیاستوں کے قیام کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کے لئے فوری طور پر آپ کی منظوری دَرکار ہے۔ اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا مَیں مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلاؤں گا اور اُس کے سامنے تقسیم کا منصوبہ رکھوں گا اور ہم اُس کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔

جمہوری عمل سے پاکستان وجود میں آ گیا اور پارلیمانی اصولوں کے مطابق نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے وزیرِاعظم چُنے گئے جنہوں نے قائدِاعظم کی مشاورت سے کابینہ تشکیل دی۔ قائدِاعظم نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالنے کے چند ہی ماہ بعد مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دے دِیا اور اِس کی تنظیمِ نو کے لئے چوہدری خلیق الزماں کنوینر مقرر ہوئے اور ایک نیا تنظیمی ڈھانچہ وجود میں آیا۔ اِسی دوران ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا۔ جناب حسین شہید سہروردی نے تجویز پیش کی کہ مسلم لیگ کا بیس وسیع کرنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ سے ’مسلم‘ کا لفظ خارج کر دیا جائے۔ جناب عبدالرب نشتر نے اِس تجویز کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے بڑے پُرجوش لہجے میں کہا کہ ہم نے آزادی مسلم قومیت کی بنیاد پر حاصل کی ہے جو ہمارے سیاسی وجود کا ایک ناگزیر جزو بن چکا ہے۔ سہروردی صاحب کی تجویز سے یہ تاثر قائم ہوا کہ وہ سیکولر ہیں اور اُنہیں پاکستان سے زیادہ کلکتے میں دلچسپی ہے۔ دراصل قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کلکتے میں خونریز فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں لاکھوں مسلمان شہید کر دیے گئے تھے۔ یہ فسادات بہار، اڑیسہ میں بھی پھیلتے جا رہے تھے۔ اُن پر قابو پانے کے لئے سہروردی کلکتے ہی میں اقامت پذیر اور گاندھی جی کے ہمراہ فسادات کی آگ بجھانے کے لئے دن رَات مصروف رہے۔ اُن کی غیرموجودگی میں وہ مسلم لیگ سے نکال دیے گئے اور قانونی ترمیم کے ذریعے دَستور ساز اَسمبلی میں رکنیت بھی ختم ہو گئی، حالانکہ 1946کے تاریخ ساز اِنتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کی محیرالعقول کامیابی میں اُنہوں نے زبردست کردار اَدا کیا تھا۔

وہ 1949میں کراچی آئے، کیونکہ مشرقی بنگال میں اُن کا داخلہ بند تھا جس کے وزیرِاعلیٰ خواجہ ناظم الدین اُن کو اپنا سیاسی حریف سمجھ بیٹھے تھے۔ دوسری طرف وزیرِاعظم پاکستان جناب نوابزادہ لیاقت علی خان بھی اُن کا سیاسی وجود تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے، کیونکہ اُنہوں نے وزیرِاعظم پر کڑی تنقید شروع کر دی تھی۔ وزیرِاعظم نے اُنہیں برے لقب سے پکارتے ہوئے کہا بھارت نے پاکستان میں اپنے کتے چھوڑ رکھے ہیں۔ بلاشبہ نوابزادہ لیاقت علی خان بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ قائدِاعظم کے دستِ راست رہے تھے اور نئی مملکت کا نظم و نسق کمال دانش مندی اور حسن و خوبی سے چلا رہے تھے مگر اُن کا مزاج اپوزیشن کی اہمیت سے ناآشنا تھا، چنانچہ جمہوری نظام جو حزبِ اختلاف کے بغیر قائم ہی نہیں رہ سکتا، اُس میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ اِس غیرفطری جبر کے نتیجے میں بغاوت نے سر اٹھایا۔ پنجاب میں سب سے پہلے جناب افتخار ممدوٹ نے بغاوت کی اور جناح مسلم لیگ کی بنیاد رَکھی۔ صوبہ سرحد میں وزیرِاعلیٰ خان عبدالقیوم خاں کے خلاف پیر مانکی شریف مسلم لیگ کے مدّمقابل آن کھڑے ہوئے۔ مشرقی بنگال میں جناب سہروردی نے مولانا بھاشانی کے تعاون سے عوامی مسلم لیگ کی بنیاد رکھی جس میں سے بعدازاں مسلم کا لفظ خارج کر دیا گیا۔ اِس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں تھی جس کی پاکستان کے تمام صوبوں میں گہری جڑیں ہوں۔ علاقائی جماعتیں نعروں اور عصبیتوں پر طاقتور ہوتی گئیں اور یہی سقوطِ پاکستان کا بہت بڑا عامل ثابت ہوا۔ بدقسمتی سے یہی عامل آج بھی ہماری سیاست کا گلا گھونٹتا چلا جا رہا ہے۔

قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں پنجاب، سرحد اور بہاول پور میں جو انتخابات ہوئے، اُن میں اِس قدر دھونس اور دھاندلی کے مظاہر دیکھنے میں آئے کہ ’جھرلو‘ کی اصطلاح رائج ہوئی۔ جعلی انتخابات کے نتیجے میں جعلی حکومتیں قائم ہوتی رہیں جو آگے چل کر سول اَور ملٹری بیوروکریسی کی آلۂ کار دکھائی دیں۔ مغربی پاکستان میں ہونے والے جعلی انتخابات کا شدید ردِعمل مشرقی پاکستان کے اندر دیکھنے میں آیا۔ وہاں مسلم لیگ کی حکومت انتخابی عمل کو برسوں ٹالتی رہی اور آخرکار مارچ 1954میں انتخابات کا معرکہ برپا ہوا۔ مسلم لیگ کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں ’’جگتو فرنٹ‘‘ کے نام سے انتخابی میدان میں اتریں اور حکمران جماعت کو 300کے ایوان میں صرف 9نشستیں مل سکیں۔ اِس ایک واقعے نے پاکستان کی سیاست میں ایک ہولناک بحران پیدا کیا جو سقوطِ ڈھاکہ کا سبب بنا اور آج اِسی کے سبب سقوطِ اقتدار کے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ پہلے سول بیوروکریسی اپنے ہاتھ دکھاتی تھی۔ اب سیاست دانوں نے فوج کو بھی انتخابی عمل کی نگرانی میں شامل کر لیا تھا۔ اِس تجزیے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپوزیشن کی حیثیت پوری خوش دِلی سے تسلیم کی جائے، اِسے فیصلہ سازی میں شامل رکھا جائے۔ اِسی طرح منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کو اوّلین اہمیت دی جائے اور اِسی مقصد کے لیے تمام جدید ذرائع بروئے کار لائے جائیں کہ اِنہی کے ساتھ ملکی سلامتی وابستہ ہے۔ (جاری ہے)

تازہ ترین