آپ آف لائن ہیں
اتوار15؍ رجب المرجب 1442ھ 28؍ فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رواں برس کراچی امن و امان کے حوالے سے بدترین سال رہا۔ شہر ی اسٹریٹ کریمنلز اور ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے، جب کہ حکومتی عمل داری کسی جگہ بھی نظر نہیں آئی۔کراچی کی ہر شاہ راہ ، گلی کوچوں میں لٹیرے اور راہ زن دندناتے رہے اور شہری موبائل فون، نقدی اور قیمتی اشیاء سے محروم ہوتے رہے۔ ڈکیتوں کے گروہ بینکوں، ، گھروں، کاروباری مراکز میں لوٹ مار کرتے رہے۔ ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز میں مزاحمت پر درجنوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سال دہشت گردی کے بھی نصف درجن کے قریب واقعات رونما ہوئے، جن میں سب سے بڑا واقعہ اسٹاک ایکسچنج پر حملہ تھا، جسے سکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنادیا ۔ 

اس واقعے میں چار دہشت گرد مارے گئے، جب کہ ایک پولیس افسر اور تین سکیورٹی اہل کار شہید ہوئے۔نصف درجن کے قریب بم دھماکے ہوئے، جب کہ کئی علمائے کرام کو شہید کردیا گیا۔ سائبر کرائمز کی واداتیں بھی عروج پر رہیں، جب کہ سولجر بازار میں ایف آئی اے سائبر کرائمز کا جعلی سیل بھی پکڑا گیا۔ پولیس اور دیگر اداروں نے کارروائیاں کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ’’را ‘‘ کا نیٹ ورک بھی پکڑا۔یہ سال معصوم بچوں کے لیے بھی انتہائی روح فرسا رہا۔ پرانی سبزی منڈی میں ایک بچی سے اجتماعی زیادتی کے بعد اسے زندہ جلا کر کچرا کنڈی میں پھینکنے کا واقعہ منظر عام پر آیا۔ اس سے بھی زیادہ دردناک واقعہ کراچی کی ایک خاتون اور اس کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ پیش آیا۔ رواں برس سندھ بھر میں ہونے والے جرائم کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

شہرِ قائد سال 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی اسٹریٹ کرائم کی جنت بنا رہا، اسٹریٹ کرائم سمیت پولیس ،رینجرز اورقانو نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی دہشت گردوں کے نشانے پر رہے ، سی پی ایل سی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2020میں 18974 افراد کو موبائل فونز سے محروم کردیا گیا ، سال 2020 کے پہلے ماہ یعنی جنوری میں1912 موبائل فونز شہریوں سے چھینے گئے ۔فروری میں 1824 موبائل فونز سے شہریوں کو محروم کردیا گیا، مارچ میں 1369 اپریل میں 832 مئی میں 1410 ، جون میں 1877 جولائی میں 2084 ، اگست میں 2014، ستمبر میں 2471، اکتوبر میں 2144 ،نومبر میں 1843 اور سال کے آخری ماہ میں 1300 سے زائد موبائل فونز چھینے اور چوری کیے گئے ، سال 2020 میں گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتوں میں بھی کمی نا آسکی ، اس سال 1381 گاڑیوں سے شہریوں کو محروم کیا گیا،سال 2020 کے جنوری میں 191 گاڑیاں چھینی اور چوری ہوئیں ،فروری میں 150،مارچ میں 121,اپریل میں 70 مئی میں 77،جون 154,جولائی 177,اگست میں 123,ستمبر 174,اکتوبر 178,نومبر میں 155 گاڑیاں چھینی اور چوری ہوئیں۔ رواں سال کے آخری مہینے دسمبر میں بھی 135 سے زائد افراد کو اپنی قیمتی گاڑیوں سے محروم ہونا پڑا۔

کورونا کے خُوف میں بھی موٹرسائیکل چوری اور چھینے کی وارداتوں میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2020میں ہی 32324 موٹراسائیکلیں چوری اور چھینی گئی ہیں ، اس سال کہ پہلے ماہ میں 2789 موٹرسائیکلوں سے شہریوں کو محرم کیا گیا۔فروری میں 2632 ،مارچ میں 2518,اپریل میں 2128,مئی میں 3083,جون 2979,جولائی میں 3130,اگست میں 3433,اس سال کے ستمبر کا مہینہ موٹرسائیکل لفٹر اور اسٹریٹ کرمنل کے لیے بہترین مہینہ ثابت ہوا، کیوں کہ ستمبر میں سب سے زیادہ 4277 موٹرسائیکلوں سے شہریوں کو محروم کیا گیا۔اکتوبر میں 3941,نومبر میں 3377 اور آخری ماہ دسمبر میں 2930 موٹرسائیکلوں سے شہریوں کو محروم کر دیا گیا ۔ دوسری جانب سال ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں اغوا برائے تاوان کی دو بڑی وارداتیں ہوئیں، جب کہ بھتہ خوری کے 20 واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جن میں جنوری اور اکتوبر میں دو دو ،فروری اور اپریل میں خوش قسمتی سے کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ 

تاہم مارچ ،مئی ،جون ،اگست میں ایک ایک اور جولائی میں 6 ،ستمبر اور نومبر میں تین تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سال بینک ڈکیتی کی بھی دو وارداتیں ہوئیں، جن میں ملزمان بینک سے لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہوئے ہیں ۔اگر بات کی جائے دہشت گردی کے واقعات کی تو کراچی کے امن پر 2020 میں بھی دہشت گرد وقتا فوقتا وار کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ اس سال دہشت گردی کا بڑا واقعہ 29جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر منظم حملہ تھا، جسےسیکیورٹی اداروں کے بروقت اور مؤثر ایکشن نے ناکام بنایا۔ 

حملے میں ایک پولیس افسر اور تین سیکیورٹی گارڈز نے جام شہادت نوش کیا، مگر دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل نہ ہونے دیا۔پولیس کی بروقت کارروائی میں چاروں دہشت گرد چند منٹ کے دوران ٹھکانے لگے۔ 10اکتوبر کو معروف عالم دین ڈاکٹر مولانا عادل خان کو شاہ فیصل کالونی میں شہید کرکے دہشت گردوں نے شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کی ۔31 اکتوبر کو جمشید روڈ پر مفتی عبداللہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،جس میں وہ زخمی ہوئے،لیکن ان کی زندگی محفوظ رہی۔ سال کے وسط میں رینجرز پر دستی بموں سے سیریل حملے کیے گئےاور لانڈھی،گلستان جوہر اور سچل میں رینجرز کی گاڑیوں اور ریٹائرڈ افسر کو نشانہ بنایا گیا۔

گلشن حدید میں جشنِ آزادی کےاسٹال،اورنگی ٹاؤن میں مومن آباد تھانے اور لیاقت آباد میں احساس پروگرام سینٹر پر بھی دستی بموں سے حملے کیے گئے۔20اکتوبر کو کیماڑی آئل ٹرمینل کے قریب بس اڈے پر بم دھماکہ کیا گیا ، جس میں 6افراد زخمی ہوئے، جب کہ 21 اکتوبر کی صبح گلشن اقبال مسکن چورنگی کے قریب رہائشی اپارٹمنٹ دھماکے سے 9افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے۔ جامعہ کراچی کی فارنزک لیب نے دھماکے کے مقام سے حاصل اشیا میں دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق کی۔15 دسمبر کی صبح کلفٹن کے علا قے میں چائنیز ریسٹورنٹ کے مالک کی گاڑی کو میگنیٹک بم لگا کر دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی،جو خوش قسمتی سے ناکام رہی۔کچھ ہی گھنٹے بعد جامعہ کراچی کے دروازے پر قائم رینجرز چوکی پر دستی بم سے پھینکا گیا، جس سے تین افراد زخمی ہوئے۔رواں سال کے دوران منظور کالونی، سرجانی،نادرن بائی پاس، کورنگی اور لائنز ایریا میں 6پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کِلنگ بھی کی گئی ہے۔

شہر قائد میں آگ لگنے کے 2000 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، رواں سال بھی صدر فائر اسٹیشن سر فہرست رہا، جہاں247 واقعات رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات ماہ فروری میں ہوئے، آتشزدگی کے سب سے کم واقعات ماہ مئی میں رونما ہوئے، رواں سال صنعتوں میں آتشزدگی کے 192 واقعات رونما ہوئے۔ جنوری میں 246، فروری میں 260 واقعات ہوئے، مارچ میں 210 ، اپریل میں 119 اور مئی میں 115 واقعات رپورٹ ہوئے، رپورٹ جون میں آتشزدگی کے 177، جولائی میں 159 اور اگست میں 132 واقعات رپورٹ ہوئے، ستمبر میں 124 جب کہ اکتوبر میں آتشزدگی کے 228 واقعات رپورٹ ہوئے،رواں برس نومبر میں 212 اور دسمبرمیں 150 کے قریب واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

ویسے تو سال2020میں جرائم اور حادثات کے کئی واقعات ہوئے۔ تاہم یہاں چند اہم واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے،جب کہ کورونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈائون کو نافذ کرنے کے لیے پولیس کا کلیدی کردار رہا،پولیس کے افسران اور جوانوں نے کورونا وبا کے باوجود اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیے، اس دوران کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن سمیت متعدد پولیس افسران کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔15 دسمبر تک کورونا وائرس سے متاثرہ پولیس افسران اور جوانوں کی مجموعی تعداد 3935 ہوگئی ۔ کورونا کے خلاف فرائض کی ادائیگی کے دوران22 پولیس افسران/جوان شہید ہوئے۔ زیر علاج افسران اور جوانوں کی تعداد 374 ہے، جب کہ اس دوران 3539افسران اورجوان صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔ 

کورونا وائرس کے باعث سندھ کے تمام پولیس ٹریننگ سینٹرز میں ہونے والے مختلف امتحانات ملتوی ہو گئے تھے ۔سال 2020میں عید الفطر سے دو روز قبل لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا بد قسمت طیارہ لینڈنگ سے چند لمحے قبل آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا،مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما کیپٹن (ر ) صفدر کی جانب سے مزار قائد پر نعرے بازی کے بعد ان کے خلاف پی ٹی آئی رہنمائوں کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا،بعد ازاں پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری اور آئی جی سندھ کے مبینہ اغواہ کے بعد سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی میں سندھ پولیس کے افسران نے چھٹیوں کی درخواستیں دے دی تھیں اور ایک ہی دن میں تقریباً تمام سینئر پولیس افسران سمیت ایس ایس پیز،ایس پیز،ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے بھی چھٹیوں کی درخواست دے ڈالیں، جس نے ایک بُحران کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی،بعد ازاں سندھ حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف کی یقین دہانی پر پولیس افسران نے اپنی درخواستیں واپس لے لیں۔

کراچی اور لاہور میں مقابلہ رہا۔ پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں رواں سال 2020 کے پہلے چھ مہینوں میں ڈکیتی پر مزاحمت کے دوران قتل ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً برابر رہی ہے۔لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق شہر میں جنوری سے جون کے مہینے تک 20 افراد قتل ہوئے۔ دوسری جانب کراچی کی سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصہ میں کراچی میں اسی نوع کی وارداتوں میں قتل ہونے والوں کی تعداد 21 رہی ہے۔ ہراسانی روکنے کے لیے قوانین بنائیں گے۔ عام طور پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں ملک کے دیگر شہروں سے زیادہ ہوتی ہیں، تو کیا لاہور بھی اب کراچی کے نقش قدم پر ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈی آئی جی آپریشن لاہور کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہرگز نہیں ہے۔

ایسی بات آپ تب کریں جب اعداد و شمار میں مجموعی اضافہ ہو رہا ہو۔ یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے، کیوں کہ اسٹریٹ کرائم کئی اقسام کے ہوتے ہیں اور ان میں لاہور ہمیشہ کراچی سے بہت نیچے رہا ہے اور یہ اتفاق ملک میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے، جہاں بعض اوقات تو جرائم میں کہیں زیادہ کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ صوبہ پنجاب کے سابق آئی جی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں لاہور اور کراچی کا کرائم ریٹ برابر ہونا ایک بہت بڑی خبر ہے،محض ایک نکتے پر یہ فیصلہ کرنا درست نہیں۔ ڈکیتی پر مزاحمت کے دوران قتل کے اعدادوشمار میں برابری حادثاتی ہوسکتی ہے۔

سابق آئی جی کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث لاک ڈاؤن اور زندگی معطل ہونے والے محرکات نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔غیر محفوظ ترین شہروں میں کراچی 71ویں نمبر پر ہے۔ کراچی میں لاہور کی نسبت لمبا اور مؤثر لاک ڈاؤن بھی رہا ہے۔ ان چیزوں نے جہاں زندگی کے ہر شعبے پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں، تو یقینی طور پر جرائم کے اعداد وشمار بھی بدلے ہیں اور یہ ایک وقتی صورت حال بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کورونا ختم ہوتا ہے، تو سال کے اختتام پر مجموعی طور صورت حال مزید واضح ہو جائے گی۔ دنیا کے غیر محفوظ ترین شہروں میں کراچی 71ویں نمبر پر جب کہ لاہور ایک سو 74ویں نمبر پر ہے۔

سال 2020ڈاکوؤں کے لیے انتہائی سازگار رہا، جب کہ شہریوں کے لیے خوف و دہشت کا سال رہا۔ سندھ میں اسٹریٹ کرائمز عروج پر رہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورت حال، ڈکیتوں اور اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے انتہائی بدتر رہی، قانون کی عمل داری کسی جگہ بھی نظر نہیں آئی ۔ ڈاکو اور اسٹریٹ کریمنلز کو شہریوں کو لوٹنے کی مکمل آزادی حاصل رہی۔ پُورے سال شہری ان کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے۔ ڈاکو اور اسٹریٹ کرینملز تمام شہر میں لوٹ مار کرتے اور اپنے بنائے ہوئے قانون’’ اسٹریٹ کریمنلزاور ڈکیت ایکٹ‘‘ کے تحت واردات میں مزاحمت کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے، اس دوران پولیس کا کہیں بھی نام و نشان نظر نہیں آیا۔فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی ، ملیر، لانڈھی ،کورنگی ، گلستان جوہر، گلشن اقبال میں اس حوالے سے صورت حال تشویش ناک حد تک مخدوش رہی۔ درجنوں افراد ڈکیتی مزاحمت پر ہلاک کردیے گئے۔ 

 سابق پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے دور میں اینٹی اسٹریٹ کرائمز فورس بنائی گئی تھی، جس میں کمانڈو ٹریننگ کے حامل اہل کاروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ انہیں انتہائی جدید ہتھیار اورطاقت ور انجن والی ہیوی بائیکس دی گئی تھیں۔ ان میں سے ہر بائیک کی قیمت تقریباً دو ملین روپے سے زائد تھی۔ لیکن اس کے اہل کاروں کی کارکردگی بھی صفر رہی۔ وہ کبھی کبھار شہر کے چوراہوں پر تو ضرور دیکھے جاتے تھے، لیکن ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے دوران ان کا دُور دُور تک پتہ نہیں ہوتا تھا۔کچھ عرصے بعد یہ فورس قصہ پارینہ بنتی گئی۔ رواں سال کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے ایس ایس پی کورنگی اور کاٹی کے اشتراک سے اس فورس کی کورنگی سائٹ ایریا میں تشکیل نو کی گئی، لیکن وہاں لوگوں سے لوٹ مار اور ڈکیتیوں کا سلسلہ ہنوز جاری رہا، جب کہ کورنگی کاز وے پر سفر انتہائی غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

بلوچ کالونی کے پُل سے لے کر انڈسٹریل ایریا تک ڈاکو اور اسٹریٹ کریمنلز بے قابو رہے ۔ سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا اور سپر ہائی وے کے علاقے بھی ڈاکوؤں سے محفوظ نہیں رہے۔ڈاکو شہر میں گھروں کے اندر گھس جاتے ہیں ، اہل خانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کرتے ہیں، جب کہ مزاحمت پر قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اسپتال، کلینکس،بھی ان کی دست بُرد سے محفوظ نہیں رہے۔ آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف کے واضح احکامات کے باوجود  متاثر ہونے والے افرادکی شکایت پر ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہوتا اور محرر و ہیڈ محرر متاثرہ شخص کو مختلف دفعات بتا کر اس قدر ہراساں کردیتے ہیں کہ وہ وہاں سے بے نیل و مرام واپس جانے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔ 

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن جنہوں نے جولائی 2019 میں چارج سنبھالا تھا، اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے خاتمے کے لیے اب تک کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کرسکے۔ ان کے دفتر میں ہر ہفتے اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے پولیس حکام کا اجلاس منعقد ہوتا ہے، جس میں طے کیے جانے والے اقدامات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بعض علاقوں میں ڈاکوؤں اور اسٹریٹ کریمنلز کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے بھی ہوئے، جن میں ڈاکوؤں کے علاوہ پولیس اہل کاروں کو بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کراچی میں مبینہ طور سے منی لانڈرنگ کے مرتکب گروہ بھی پکڑے گئے، جن کےروابط مبینہ طور سے کراچی میں موجود دہشت گردوں، جن کا نیٹ ورک بھارت میں تھا، ان کے سہولت کار کے طور پر کام کررہےتھے۔ 

بچوں کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے جہاں سندھ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دِل خراش واقعات پیش آئے، کراچی بھی ان سے محفوظ نہیں رہا۔ 2020کے اوائل میں یونی ورسٹی روڈ پر سبزی منڈی کے علاقے میں ایک معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا،جو چیز لینے کے لیے گھر سے باہر نکلی تھی کہ اسے اغواء کرلیا گیا ۔ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے جلا کر قتل کردیا گیا۔اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی۔ سائبر کرائمزکی وارداتیں بھی عروج پر رہیں اورخواتین کو بلیک میل کرنے والے متعدد افراد کو ایف آئی اے سائبر کرائمز نے گرفتار کیا۔ مارچ 2020میں کراچی پولیس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘کا بڑا نیٹ ورک پکڑا ، جب کہ کراچی میں اس کے سرغنہ اور تین کارندوں کو گرفتار کیاگیا۔ 

اس سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نےکراچی میں را کے سرغنہ اور ایم کیو ایم لندن کے دہشت گرد سمیت تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ نیٹ ورک کے ارکان بھارتی خفیہ ایجنسی کوحساس نوعیت کی معلومات فراہم کرتے تھے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان حساس اداروں اور اہم مقامات کی معلومات بھارت پہنچاتے تھے، جب کہ دہشت گردی کے لیے رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے آتی تھی۔ بھارت میں مذکورہ معلومات اے پی ایم ایس او کے سابق چیئرمین محمود صدیقی کو فراہم کی جاتی تھیں۔ غلام نبی میمن کے مطابق راکا نیٹ ورک متحدہ لندن کے لوگ کافی عرصے سے منظم انداز میں چلا رہے تھے ۔

گرفتار ملزمان کی نشان دہی پر پولیس نے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کرلیا، جس میں ایس ایم جی 9 آر پی جی ، 60 دستی بم، 10 ڈیٹونیٹر،مارٹر گولے ، اسلحے سے بھرے 53 باکس ، سیٹلائٹ فون اور 2 پاسپورٹ بھی شامل ہیں۔ چھاپے کے دوران فیڈرل بی ایریا میں ایک گھر سے مذکورہ اسلحہ برآمد ہوا اور اسلحہ چھپانے والے کارندوں میں ایم کیو ایم لندن کے وہ کارندے شامل تھے، جو بھارت سے ٹریننگ لے کر آئے تھے۔

ایڈیشنل آئی جی کے مطابق شہر میں دستی بم حملوں اور دھماکوں میں اسی گروپ کا ہاتھ تھا۔اس گروپ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملوث ملزم خالد شمیم کے اکائونٹ میں بھی رقم ڈلوائی تھی۔ کس کو کتنی رقم دینی ہے، وہ ای میل میں درج ہوتا تھا اور کرپٹ ای میل کوماجد نامی ملزم ڈی کوڈ کرتا تھا۔ ملزمان نےبھارت کے صوبے اتر پردیش کے شہر نوڈیا میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔

جنوری 2020 میں سولجر بازار کے علاقے میں ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کا جعلی سیل پکڑا گیا۔ اس کارروائی کے دوران جعلی سیل سے برآمد ہونے والاتمام الیکٹرنک سامان بشمول موبائل فونز اور ڈی وی آر کو ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے اپنی تحویل میں لیا ۔ ایف آئی اے کے جعلی افسران نے سائبر کرائمز ونگ کا سسٹم ہیک کیا ہوا تھا اور سائبر کرائمز سرکل میں شہریوں کی جانب سے بھی شکایتیں آتیں، وہ جعلی سائبر کرائمز کے دفتر میں پہنچ جاتیں، جس کے اہل کار لوگوں کو بلیک میل کرتے۔اس سلسلے میں متاثرہ افراد نے پولیس سے رابطہ کیا۔ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی کی ہدایت پر پولیس نے کارروائی کرکے الیکٹرونک آلات برآمد کیے۔ 

چھاپے کے دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ کشمور میں کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون اور بچی کے ساتھ روح فرسا واقعے نےحکومت کو ایسے بہیمانہ واقعات کے خلاف سخت قوانین وضع کرنے پر مجبور کردیا۔کشمور میں کراچی کی خاتون کے علاوہ اس کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے علاوہ اس حد تک تشدد کیا گیا کہ بچی کے پیٹ میں شگاف پڑ گیا اور اس کی انتڑی باہر نکل آئی۔ 

اس واقعے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ،جس میں بعض وفاقی وزراء نے زیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا اور رائے دی کہ ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے۔ وفاقی وزراء فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے پھانسی کی حمایت کی جب کہ دیگر وزراء نے مخالفت کی۔ 

 وزیراعظم نےزیادتی کے مجرمان کی سزا کےلیے تر میمی قانون کی منظوری دی، جس کے تحت کیسٹریشن (جنسی صلاحیت سے محروم کرنا) کا قانون نافذ کرکے مجرموں کو نامرد بنایا جائے گا۔ اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کے تحفظ کے لیے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہوگی، ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا ہوگا۔ 

ان کاکہنا تھا کہ قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے، سخت سے سخت قانون کا اطلاق یقینی بنایا جائے گا اور متاثرہ خواتین یا بچے بلاخوف وخطر اپنی شکایات درج کراسکیں گے، جب کہ متاثرہ خواتین وبچوں کی شناخت کے تحفظ کا بھی خاص خیال رکھا جائےگا۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کو بتایاگیا کہ قانونی ٹیم نے ریپ قانون آرڈیننس کے مسودہ پر کام مکمل کرلیا ہے، خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات، اور گواہوں کا تحفظ قانون کا بنیادی حصہ ہوگا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید