• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا واشنگٹن ایران کے ردعمل کو بھانپنے میں ناکام رہا؟

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ(فائل فوٹو)۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ(فائل فوٹو)۔ 

کیا واشنگٹن ایران کے ردعمل کو بھانپنے میں ناکام رہا؟ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی تیل کی منڈیوں اور خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز صرف 24 میل چوڑا سمندری راستہ ہے مگر دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ 

ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں برسوں سے خبردار کیا جاتا رہا، لیکن جب کشیدگی بڑھی تو سوال اٹھا، کیا واشنگٹن واقعی تیار تھا؟

ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائی یا شدید دباؤ ڈالا گیا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خطے کے تیل و گیس انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کے بڑے ذخیرے کے باعث ایران کو اس معاملے میں اہم فوجی برتری بھی حاصل سمجھی جاتی ہے۔

جبکہ امریکی سیکریٹری وار پیٹ ہیگ سیتھ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اپنے پڑوسیوں کو نشانہ بنانا بڑی غلطی ہے، ہم نے یہ ضرور سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے، لیکن شاید اس انداز میں ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر خطرہ پہلے سے معلوم تھا تو تیاری کیوں نہ کی گئی؟ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کی سطح دہائیوں کی کم ترین حدوں کے قریب بتائی جاتی ہے، جبکہ خلیج میں موجود امریکی بحری قوت بیک وقت ممکنہ فوجی کارروائی اور عالمی آئل ٹینکرز کی مکمل حفاظت کے لیے محدود سمجھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران وہی کر رہا ہے جس کی وہ بارہا دھمکی دیتا رہا یعنی دباؤ کے جواب میں ردعمل۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی صرف خطے تک محدود رہے گی یا عالمی توانائی منڈیوں کو ایک بڑے بحران کی طرف لے جائے گی؟

بین الاقوامی خبریں سے مزید