• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی معیشت کی کارکردگی 2019ء کی طرح 2020ء میں بھی اچھی نہیں رہی۔ مالی سال 2017-18ء میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی شرح نمو تیز ہوئی تھی، برآمدات اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا تھا جبکہ مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی، قومی بچتوں اور مجموعی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا تھا اور افراطِ زر میں کمی ہوئی تھی۔ 

موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد مالی سال 2018-19ء میں بیشتر معاشی اشاریوں میں منفی رجحانات نظر آئے البتہ بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات میں اضافہ ہوا جبکہ جاری حسابات کے خسارے میں تیزی سے کمی ہوئی۔اس کمی کی بہت بھاری قیمت معیشت کو ادا کرنا پڑی۔زیرنظر مضمون میں 2020میں معیشت کی صورت حال کیسی رہی، مختصر جائزہ نذر قارئین۔

 دسمبر 2019ء میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ مالی سال 2019-20ء کے بیشتر معاشی اہداف نہ صرف حاصل نہیں کئے جاسکیں گے بلکہ متعدد معاشی اشاریئے اس سے بھی کم تر رہیں گے جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے تھے۔ مالی سال 2017-18ء میں معیشت کی شرح نمو 5.5 فیصد رہی تھی لیکن موجودہ حکومت کے پہلے سال یعنی مالی سال 2018-19ء میں یہ شرح نمو صرف 1.9 فیصد رہی۔ یہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد دوسری سست ترین شرح نمو تھی۔

پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے سے قبل فروری 2020ء میں تخمینہ یہ تھا کہ مالی سال 2019-20ء میں معیشت کی شرح نمو تقریباً 2 فیصد رہے گی جو کہ گزشتہ 49 برسوں میں تیسری سست ترین شرح نمو ہوتی۔ کوویڈ۔19 کی تباہ کاریوں کی وجہ سے حکومت کے مطابق اس مالی سال میں معیشت کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شرح منفی ایک فیصد ہوسکتی ہے۔

یہ بات بھی حیران کن ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں مالی سال 2019 ء اور 2020ء کے دو برسوں میں مجموعی بیرونی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 2 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ حکومت کے دور میں مالی سال 2018ء کے 12 ماہ میں 5 ارب ڈالر کی مجموعی بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آئی تھی۔ 

یہ حقیقت بہرحال تسلیم کرنا ہوگی کہ حکومت اپنے انتخابی منشور اور 2018ء کے انتخابات سے پہلے جو 10 نکاتی حکمت عملی قوم کے سامنے پیش کی تھی ان پر صرف 50 فیصد ہی عمل کرتی تو مالی سال 2019ء میں ہی معیشت کی شرح نمو تیز ہوتی، مہنگائی میں کمی ہوتی ،گردشی قرضوں کا حجم کم ہوتا، حکومتی شعبے کے کچھ اداروں کی کارکردگی میں بہتری آتی، ملک خود انحصاری کی طرف گامزن ہوتا اور عام آدمی کی زندگی میں معنی خیز بہتری آتی۔ 

بدقسمتی سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئے جو معاشی پالیسیاں اپنائی گئیں وہ تحریک انصاف کے منشور اور وعدوں سے براہِ راست متصادم تھیں چنانچہ نہ صرف معیشت کو سنبھالا نہیں دیاجاسکا بلکہ قومی سلامتی کے لئے بھی خطرات بڑھتے چلے گئے اور ’’نیوگریٹ گیم‘‘ کے مذموم مقاصد میں بھی عملاً معاونت ہوئی۔

مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ:

بڑھتی ہوئی مہنگائی دراصل عوام پر ظالمانہ ٹیکس کے مترادف ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت میں معیشت کی شرح نمو سست ہی رہی مگر مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا، نتیجتاً غریب اور متوسط طبقے کے کروڑوں افراد بری طرح متاثر ہوئے۔ گزشتہ حکومت کے دور میں مالی سال 2016ء، 2017ء اور 2018ء میں افراطِ زر اوسطاً 4.1 فیصد رہا تھا۔ موجودہ حکومت کے پہلے سال یعنی مالی سال 2019ء میں افراطِ زر بڑھ کر 6.8 فیصد ہوگیا۔ جنوری 2020ء میں افراطِ زر 14.6 فیصدرہا اور دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 23.8فیصد کا اضافہ ہوا۔ 

اب مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹیکسوں اور توانائی کے شعبوں سمیت متعدد شعبوں میں بہت سی معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور مافیاز (جنہیں اب اشرافیہ کہا جاتا ہے) کے دبائو یا ان کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئے بنائی جاتی رہی ہیں جبکہ اشرافیہ اور حکومت و ریاستی اداروں مثلاً اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایس ای سی پی میں عملاً گٹھ جوڑ نظر آیا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کو استعماری طاقتوں کے اشاروں پر چلنے والے عالمی مالیاتی اداروں کی آشیرباد بھی حاصل رہی۔ 

ان استحصالی پالیسیوں سے پاکستان غیر مستحکم ہوا، معیشت کمزور ہوئی اور حکومت و قوم میں اعتماد کا بحران پیدا ہوا۔ ان پالیسیوں میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی، روپے کی قدر میں کمی، انتخابی منشور سے فرار کے علاوہ خراب طرزِ حکمرانی اور حکومتی رٹ یا سیاسی عزم نہ ہونے کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور اسمگلنگ وغیرہ بھی افراطِ زر میں اضافے کا سبب بنتے رہے ۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کا نظام:

حکومت کا 10 نکاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ اقتدار میں آنے کے 100 روز کے اندر عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردی جائے گی یعنی وفاق اور صوبے ایک مقررہ رقم سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر مؤثر طور پر ٹیکس عائد کریں گے، معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا اور کالے دھن کو سفید ہونے سے روکا جائے گا۔ 

تحریک انصاف کے 2013ء کے منشور میں بھی یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ وفاق اور صوبے ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کریں گے۔ خود اپنی پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے ممبران کے دبائو پر 2013ء سے 2018ء تک صوبہ خیبر پختونخوا میں زرعی سیکٹر اور جائیداد سیکٹر کو مؤثر طورسے ٹیکس کے دائرے میں لانے سے اجتناب کیا گیا حالانکہ تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل تھی۔ 

اب موجودہ دور میں بھی صوبہ پنجاب و خیبر پختونخوا اور وفاق میں ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس مؤثر طور پر عائد نہیں کیا گیا کیوں کہ اس سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ یہی نہیں، 2013ء سے 2018ء تک صوبہ خبیر پختونخوا اور موجودہ دورِ حکومت میں تحریک انصاف نے جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم و صحت کی مد میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میںوعدہ کے مطابق رقوم مختص نہیں کیں اور نہ ہی 2023ء تک ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے۔

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا:

سابقہ دورِ حکومت میں 8 اپریل 2018ء کو ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کیا گیا تھا۔ ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کی آئندہ نسلیں بھی روئیں گی۔موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اس ضمن میں اقدامات اٹھانے کے بجائے ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کردیا لیکن یہ قانون سازی کرلی کہ ’’ناجائز اثاثے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں 7 سال قید اور اثاثوں کی ضبطگی‘‘۔ حکومت کے پاس ناجائز اثاثے رکھنے والوں کی طویل فہرست موجود ہے۔ 

ہماری تحقیق کے مطابق اگر ملک کے اندر موجود ان ناجائز اثاثوں پر ہاتھ ڈالا جائے تو حکومت کو چند ماہ میں تقریباً 900 ارب روپے کی وصولی ہوسکتی ہے لیکن طاقتور طبقوں کے دبائو پر حکومت نے ان ناجائز اثاثوں سے ٹیکسوں کی وصولی کو عملاً روک دیا۔صاف ظاہر ہے کہ طاقتور طبقوںکے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئےقانون پر عمل درآمدنہیں کیا جارہاجس سے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہےہیں۔

یہ امر افسوسناک ہے کہ ناجائز اثاثوں سے ٹیکسوں کی وصولی کے بجائے ایف بی آر نے نومبر 2020ء میں جو اشتہارات اخبارات میں شائع کرائے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ (i) 10 لاکھ فائلرز قابل ٹیکس آمدنی نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کی آمدنی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ (ii) 74 لاکھ افراد سے ودہولڈنگ ٹیکس تو کٹ رہا ہے مگر وہ قانون کے مطابق انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کرارہے۔ 

واضح رہے کہ یہ ٹیکس تو برس ہا برس سے کٹ رہا ہے اور اب چند لاکھ بڑے ناجائز اثاثوں کا معاملہ پس پشت ڈال کر ایک کروڑ افراد کے ٹیکس نیٹ کا معاملہ چابکدستی سے اٹھایا جارہا ہے۔ اس طرح چند برس اور گزر جائیں گے اور ٹیکس چوری کرنے والے بدستور مزے کرتے رہیں گے۔

10 نکاتی حکمتِ عملی

2018ء کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل تحریک انصاف نے 10 نکاتی حکمتِ عملی کا اعلان کیا تھا ۔ اس حکمت ِ عملی پر عمل درآمد سےمختصر مدت میں معیشت میں بہتری آسکتی تھی۔ اس حکمت ِعملی کے چند نکات یہ تھے:

(1) اقتدار میں آنےکے 100 روز کے اندر عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردی جائے گی جس سے معیشت بحال ہوگی اور قرضوں پر انحصار کم ہوگا۔

(2) ان وجوہات کو دور کیا جائے گا جن کی وجہ سے گردشی قرضےپیدا ہوتے ہیں اور توانائی کے شعبے میںاصلاحات کی جائیں گی۔

(3) حکومتی شعبے کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پی آئی اے، ریلوے اور پاکستان اسٹیل ملزمیں ہنگامی بنیاد پر اصلاحات کی جائیں گی۔

لیکن28 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس حکمتِ عملی پر عمل نہیں کیا گیاچنانچہ معیشت کو سنبھالا نہیں دیا جاسکا۔

مالیاتی اور انٹلیکچوئل کرپشن:

مالیاتی کرپشن، بدانتظامی، نااہلی، میرٹ کو نظرانداز کرکے حکومتی اداروں میں ترقیاں و تقرریاں کرنے، قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے، شاہانۂ اخراجات کرنے، اقتدار میں آنے کے بعد وفاق اور صوبوں میں انتخابی منشور اور وعدوں سےبڑی حد تک انحراف کرنے، بیشتر اہم پالیسیاں طاقتور طبقوں کے دباؤ کے تحت بنانے اور حکومتی شعبے کے اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے معیشت کو 9200 ارب روپے سالانہ یعنی 25 ارب روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ انٹلیکچوئل کرپشن (ذہنی وفکری بدعنوانی) کی وجہ سے معیشت کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

چند ناقابل فہم اور تباہ کن معاشی فیصلے:

(1) حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی درخواست کئی ماہ تاخیر سے پیش کی تھی۔ ہم برس ہا برس سے یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارےبشمول عالمی بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک وغیرہ پاکستان کو قرضہ دینےسے پہلے یہ چاہتے ہیںکہ پاکستان معاشی پالیسیوں کی آئی ایم ایف سے توثیق کرائے اور آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے تحت قرضےکے پروگرام کےاندر آجائے یہ بات حیران کن ہے کہ اسٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر رضا باقر جو آئی ایم ایف کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان واپس آئے تھےان کے دور میں28 اکتوبر 2019ء کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”جوں جوں مالی سال 2018-19ء گزرتارہا یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ دوست ممالک سے ملنے والی رقوم آئی ایم الف سے ملنے والے قرضوں کا متبادل ہو ہی نہیں سکتیں۔ 

آئی ایم ایف پروگرام کی چھتری سے دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان کو قرضہ دیتے وقت تسلی ہوتی ہے اور پاکستان کو بیرونی سرمایہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے 8 دسمبر 2020ء کو کہا کہ ان کی حکومت کو اقتدار میں آنے کے فوراًبعد آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے لئے رجوع کرنا چاہیئے تھااور یہ کہ اس میں تاخیر ان کی حکومت کی غلطی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غلطی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ تھا کیونکہ حکومت قوم کو یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضے کے بغیر گزارا کرلیں۔ اس تاخیر کی پاکستانی معیشت اور عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے کی درخواست کرنے میں نہ صرف غیر ضروری تاخیر کی بلکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے والی ٹیم بھی اچانک تبدیل کردی۔ اس درآمد شدہ ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کی منظوری کے لئے جو شرائط تسلیم کیں وہ ناقابل عمل اور معیشت کے لئے تباہ کن تھیں چنانچہ آئی ایم ایف کا پروگرام عملاً فروری 2020ء سے معطل ہے۔

(2) اسٹیٹ بینک نے اگست 2018ء سےجولائی 2019ء کی مدت میں ڈسکائونٹ ریٹ کو 7.5 فیصد سے بڑھاکر 13.25 فیصد کردیا لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت اور اسٹیٹ بینک نے معیشت میں بنیادی اصلاحات کرنے سے اجتناب کیا چنانچہ مہنگائی اور بجٹ خسارے میں تو اضافہ ہوا لیکن مانیٹری پالیسی کے مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔

(3) پاکستان میں کرونا وائرس کی وباکے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے دنیا بھر کی طرح پاکستانی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے متعدد اقدامات کیے۔ اسٹیٹ بینک نے تقریباً 3 مہینوں میں شرح سود 13.25 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کردی۔ اس کمی کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک اور حکومت نے جو اصلاحات کرنی تھی وہ بہرحال نہیں کی گئیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کے ساتھ ہی بینکوں کو احکامات دیئے کہ وہ اپنے کھاتے دارں کو دی جانے والے شرح منافع میں کمی کردیں۔ 

بینکوں کے یہ کھاتے نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر تھے یہ احکامات بینکنگ کمپنیز آرڈیننس کی شقوں 26 الف( 4) اور 40 الف کی خلاف ورزی تھےچنانچہ فروری 2020ء سے اگر ایک بچت کھاتے دار کوایک سال میں ایک لاکھ روپے پر گیارہ ہزار پانچ سو روپےمنافع ملنا تھا تو اگست 2020ء سے اسی رقم پر ایک سال میں صرف ساڑھے پانچ ہزار روپے منافع ملے گا۔ تخمینہ ہے کہ ایک سال میںبینکوں کے کھاتے داروں کومجموعی طور سے 600 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

(4) عمران خان صاحب نے 18 اگست 2018ء کو وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف اٹھایا تھا۔ اس روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 124 روپے 20 پیسے تھی جو حیران کن طور پرجولائی 2019ء میں 159روپے 60 پیسے ہوگئی۔ اس کمی کا کوئی معاشی جواز موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کہ 5 جولائی 2017 کو روپے کی قدر 104.90 سے کم ہوکر 108.25 روپے ہوئی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے اسی روز جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا تھاکہ ’’اسٹیٹ بینک کی رائے یہ ہے کہ اس کمی سے بیرونی شعبے کے عدم توازن میں بہتری آئے گی۔“ اسی طرح 8 دسمبر 2017ء اور 20 مارچ 2018ء کو روپے کی قدر میں کچھ کمی کے بعد پریس ریلیز میں اسٹیٹ بینک نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کمی سے بیرونی شعبے کا عدم توازن دور ہوگا یا یہ کہ کمی کے بعد کا شرح مبادلہ ’’بنیادی حقائق سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے۔“ یہ مؤقف اور دعوے ناقابل فہم تھے کیوں کہ اسٹیٹ بینک اچھی طرح سمجھتا تھا کہ بیرونی شعبے میں بہتری کے لئے حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بنیادی نوعیت کی معاشی اصلاحات کرنا ہوں گی جو کہ نہیں کی جارہی تھیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی سوچ یا اقدامات سے جاری حسابات کا خسارہ بڑھتا رہا اور آخر کار معاشی بحران سنگین ہوگیا۔ شرح سود میں غیر ضروری حد تک تیز رفتاری سے اضافے اور روپے کی قدر میںحیرت انگیز تیز رفتاری سےکمی سے موجودہ حکومت کے دور میں تقریباً 9 ماہ میں معیشت کو تقریباً چھ ہزار ارب روپے کا جھٹکا لگا۔

(5) جاری حسابات کا خسارہ:

حکومت فخریہ اس بات کی تکرار کرتی رہی ہے کہ اسے 19.91 ارب ڈالر کا جاری حسابات کا خسارہ ورثے میں ملا تھا اور کامیاب معاشی پالیسیوں کی بدولت دو برس کے مختصر عرصے میں مالی سال 2020ء میں یہ خسارہ 2.97 ارب ڈالر رہ گیا جبکہ جولائی 2020ء سے نومبر 2020ء تک یہ مثبت ہوگیا ہے۔ یہ بہتری عارضی ہے اور موجودہ مالی سال میں ہی یہ منفی ہوسکتا ہے۔ جاری حسابات میں یہ بہتری برآمدات میں اضافے سے نہیں بلکہ درآمدات میں غیر ضروری حد تک کمی اور ترسیلات میں زبردست اضافے کی وجہ سے آئی ہے۔ مالی سال 2019ء اور مالی سال 2020ء کے دو برسوں میں درآمدات میں 16.47 ارب ڈالر کی کمی ہوئی جو غیر ضروری تھی۔ اس میںمالی سال 2020ء میں درآمدات میں ہونے والی 10.46 ارب ڈالر کی کمی بھی شامل تھی جو بلا جواز تھی۔

مالی سال 2020ء میں جاری حسابات کے خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 3 فیصد رکھاگیاتھا لیکن اس کو کم کرکے 1.1 فیصد تک لایاگیا۔ دانشمندانہ پالیسی یہ ہوتی کہ یہ خسارہ 2.97ارب ڈالر کے بجائے 5ارب ڈالر تک لے جایا جاتا مگر معیشت کی شرح نمو کوبڑھانے کے لئےاقدامات اٹھائے جاتے ۔

(6) برآمدات اور ترسیلات:

مندرجہ ذیل اعداد و شمار چشم کشا ہیں:۔

(i) مالی سال 2018ء کے مقابلے میں مالی سال 2020ء میں ترسیلات میں اضافہ ۔ 3.20 ارب ڈالر

(ii) مالی سال 2018ء کے مقابلے میں مالی سال 2020ء میں برآمدات میں کمی ۔ 1.76 ارب ڈالر

اس حقیقت کا ادراک کیا جانا چاہئیے کہ برآمدات میں اضافہ کرنے کے بجائے ترسیلات بڑھانے کی طرف توجہ مرکوز رکھنا اور ترسیلات کے بڑے حصے کو ملکی سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرانے کے بجائے جاری حسابات کے خسارے کو کم کرنے کے لئے استعمال کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔آنے والے مہینوں میں ترسیلات میں کمی کا خدشہ ہے۔ موجودہ حکومت بھی ترسیلات کے ضمن میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111 (4)برقرار رکھے ہوئے ہے۔ خدشہ ہے کہ آگے چل کر ایف اے ٹی ایف اس معاملے کو اٹھائے گا چنانچہ یہی وقت ہے اس شق پر نظر ثانی کی جائے۔

(7) سرمائے کا فرار:

گزشتہ 27 برسوں میں پاکستانیوں نے اپنی جائز اور ناجائز رقوم سے کھلی منڈی سےبڑے پیمانے پر ڈالر خرید کر پاکستان کے بینکوں میں اپنے بیرونی کرنسی کے کھاتوں میں جمع کرائےہیں۔ تخمینہ ہے کہ ملکی قوانین کے تحت ان کھاتوں میں جمع کرائی گئی رقوم میں سے تقریباً 165 ارب ڈالر بینکوں کے ذریعے پاکستان سے باہر بھجوادیے گئے۔ اس طرح ان کا کالا دھن بھی سفید ہوگیا جو منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قومی خزانے میں ایک روپیہ جمع کرائے بغیر لوٹی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ حاصل کرنا ممکن ہے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ 165 ارب ڈالر کی رقوم تو ملک سے باہر جانے دی گئیں جبکہ ستمبر 2020ء میں پاکستان پر بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم تقریباً 114 ارب ڈالر تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ تعلیم اور علاج معالجے کے علاوہ اس قسم کی رقوم کی ملک سے باہر منتقلی پر پابندی لگادی جائے الاّ یہ کہ اسٹیٹ بینک سے اجازت حاصل کرلی جائے۔

آنے والے برسوں کا منظر نامہ:

حکومت نے اپنے انتخابی منشور اور 10 نکاتی حکمت عملی سے عملاً 100 فیصد انحراف کیا ہے اور متعدد اہم معاشی پالیسیاں طاقتور اشرافیہ کے دبائو پر یا ان کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئے بنائی ہیں۔ حکومت معیشت کو انتہائی کمزور بنیادوں پر استوار کررہی ہے۔ 2020ء کے بیشترمہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم رہنے، کوویڈ۔19 کی وجہ سے دوسری درآمدی اشیاء کی طلب کم رہنے، پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں کچھ مہلت ملنے اور آئی ایم ایف سے 1400 ملین ڈالر کا خصوصی قرضہ ملنے وغیرہ کی وجہ سے معیشت کے چند شعبوں میں کچھ عارضی بہتری نظر آرہی ہے جو ناپائیدار ہوگی۔ 

موجودہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، برآمدات اور بجٹ خسارے جیسے اہم اہداف حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ 10 نکاتی حکمت عملی میں ٹیکسوں و توانائی کے شعبوں اور حکومتی شعبوں کے اداروں کے لئے جن اصلاحات کا وعدہ کیا گیا تھا ان کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ غربت اور بے روزگاری بڑھتی رہے گی۔ تعلیم و صحت کے شعبے نظر انداز کئے جاتے رہیں گے۔ گردشی قرضے 2300 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں جبکہ حکومتی شعبے کے اداروں کے مجموعی نقصانات بھی تقریباً اتنے ہی ہیں۔ گزشتہ 27 ماہ میں اس ضمن کوئی معنی خیز پیش رفت ہوئی ہی نہیں۔

اب یہ واضح طور سے نظر آرہا ہے کہ حکومت کی 5 سالہ مدت میں2023ء تک معیشت کی اوسط شرح نمو اس سے بہت کم رہے گی جو اسے ورثے میں ملی تھی جبکہ افراطِ زر اوسطاً اس سے کہیں زیادہ رہے گا جو اسے ورثے میں ملا تھا ۔یہ بھی نظر آرہا ہے کہ اگلے چند سالوں تک 5 سے 16 سال کی عمر کا ہر بچہ اسکول نہیں جارہا ہوگا جو کہ آئین کی شق 25 الف کی خلاف ورزی ہے۔ 2075تک ہر پاکستانی کو علاج معالجے کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہوں گی۔ 

سی پیک کو گیم چینجر بنانے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ اٹھائے ہی نہیں جارہے۔ معیشت کی شرح نمو سست رہنے کی وجہ سے آئندہ چند سالوں تک بھی پاکستان معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم کے ممبر ممالک کی آمدنی کی سطح پر نہیں پہنچ سکے گا۔ اگر موجودہ معاشی پالیسیاں برقرار رہیں تو آگے چل کر پاکستان کو پھر آئی ایم ایف سے نجاتی پیکیج کے لئے رجوع کرنا پڑے گا۔

اگرگزشتہ چند دہائیوں میں ملکی قوانین کے تحت سوائے تعلیم اور علاج معالجے کے کسی اور مقصد کیلئے رقوم ملک سے باہر منتقل کرنے کی اجازت نہ ہوتی اوردانشمندانہ معاشی پالیسیاںاپنائی جاتیں تو دو بڑے ڈیم تعمیر کرنے، قدرت کے عطا کردہ معدنی وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اورپیداواری مقاصد کیلئے بڑے پیمانے پر بیرونی قرضے لینے کے باوجود آج ہمارے بیرونی قرضوں کا حجم بہت کم ہوتا، معیشت 8-10 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہوتی، جی ڈی پی کا حجم 275ارب ڈالر کے بجائے 1500ارب ڈالر ہوتا اور ہماری برآمدات 22ارب ڈالر سالانہ کے بجائے 125ارب ڈالر سالانہ ہوتیں۔

حکومت کوجن نکات پر عمل درآمدکو یقینی بناناہوگاان میں معیشت کو دستاویزی بنانا ، کالے دھن کو سفید ہونےسے روکنا، جائیدادوں کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لانا، ناجائز رقوم سے بنائے ہوئے ملک کے اندر موجود اثاثوں کو ٹیکس ایمنسٹی دینے کے بجائے ان پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وحکومتی واجبات وصول کرنا، ہر قسم کی آمدنی کو مؤثر طور پر ٹیکس کے دائرے میں لانا، جی ایس ٹی کی شرح کو 5فیصد کرنا،پٹرو لیم لیوی کو ختم کرنا، کھلی منڈی سے خریدی ہوئی بیرونی کرنسی کو بینکوں کے کھاتے میں جمع کرانے پر پابندی عائد کرنا، انکم ٹیکس آرڈنینس کی شق 111(4) پر نظرثانی کرنا ،مالیاتی وانٹلیکچوئل کرپشن پرممکنہ حد تک قابوپانا، ترسیلات کو جاری حسابات میں کمی کرنے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے اس کے بڑے حصے کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرانے کی حکمت عملی وضع کرنا اور جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم کی مد میں 7فیصد اور صحت کی مد میں 4فیصد مختص کرنا لازماً شامل ہوں۔ 

ان اقدامات کے بغیر معیشت اور عام آدمی کی حالت میں بہتری اور قومی سلامتی کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو معیشت اور قومی سلامتی کے لئے خطرات بڑھتے چلے جائیں گے۔