آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی

ارشادِ ربانی ہے:ترجمہ! بھلا کون بے اقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے سوا اور کوئی معبودبھی ہے؟ (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو۔(سورۃ النمل )معلوم ہوا کہ اللہ ہی کے سامنے عرض معروض کرنا چاہیے اور کسی دوسرے سے کسی قسم کی امیدیں نہیں باندھنا چاہئیں اورہمیشگی اختیار رکھنی چاہیے،جیسا کہ حکم ہوا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ! اور اپنے پروردگار کو دل ہی میں دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا۔(سورۃ الاعراف)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے ہر موقع پر اور صبح و شام رات و دن دعائیں کرتے رہنااور اس امر سے غافل نہیں ہوناچاہیے۔سرورِ عالم ﷺنے فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(حاکم)یعنی دعا ایسا مضبوط ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کی نصرت و تائید حاصل کر کے فتح یاب و کامران ہو سکتا ہے۔ جیساکہ سرورِ عالمﷺ کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ ہر موقع پر اپنے رب سے رجوع فرماتے، یقیناً اللہ تعالیٰ نے سرورِ کائناتﷺ کو مستجاب الدعوات بنایا تھا، اسی طرح دیگرانبیائے کرام ؑصدیقین صالحین اور مظلومین ایسے ہیں، جن کی دعا ردنہیں ہوتی، البتہ اللہ ہی کو اختیار ہے جس کی دعا قبول فرمائے یا رد فرمائے ۔ دعا کی طلب و مقبولیت کے کچھ آداب و شروط‘ اوقات و مقامات بیان کئے گئے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ و اہتمام کر لیا جائے تو امید واثق ہے کہ مانگی ہوئی دعائیں ضروراللہ کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو جائیں گی۔

دعا مانگنے اور درجہ قبولیت کے حصول کے لئے لازم ہے کہ بندہ کسب حلال اختیار کرے۔ شریعت کی پابندی کرے۔ دعا کے لئے دو زانو باادب بیٹھے تو افضل ہے ،البتہ چلتے پھرتے لیٹتے جاگتے ہر حال میں رب سے دعائیں کر سکتا ہے۔ دعا مانگتے ہوئے عاجزانہ صورت اختیار کرے۔ دعا کے وقت اپنے گناہوں کااقرار کرے ،تاکہ دل میں اللہ کا خوف و ندامت پیدا ہو اور خشوع و خضوع نمایاں ہو۔دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا یقین کامل کے ساتھ مانگی جائے، کیونکہ اللہ نے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے ‘ البتہ بے یقینی و بے دلی سے کی گئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جب دعامانگیں تو ہتھیلیاں پھیلا کر اپنے ہاتھ اس قدر اونچے اُٹھائیں، یہاں تک کہ انگوٹھے کندھوں کے مقابل ہو جائیں۔ سینے سے اوپر ہاتھ نہ اُٹھنے چاہئیں۔ دعاکرتے ہوئے مکمل یکسوئی اختیار کرنا چاہیے اور ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہیے۔ 

دعا کی ابتدا بسم اللہ اوراللہ تعالیٰ کی حد درجہ تعریف و توصیف اور سرورِ عالمﷺ پر درود شریف سے کرنا چاہیے۔ دعا کے اختتام پر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور درود شریف پڑھنا چاہیے ،چونکہ درود شریف کے بغیر دعا معلق رہتی ہے، جیساکہ حدیث مبارکہ ہے کہ جس دعا میںدرودنہ پڑھا جائے ،وہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے(شرف قبولیت حاصل نہیں کر پاتی) اس کے بعد خوب دعا کریں۔ تین تین بار تکرار کریں۔ دعاکے بعد آمین کہنی چاہیے۔ آخرمیں درود شریف کے بعد اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیرنا چاہیے۔ انشاء اللہ آ پ کی دعائیں قبول ہوں گی۔ اگر عربی میں یادنہ ہوں تو اپنی زبان میں بھی دعا مانگ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمانے والا ہے۔

وہ اوقات جن میں خصوصیت کے ساتھ دعا قبول ہوتی ہے۔

(1) اذان اور تکبیر کے درمیان دعا قبول ہوتی ہے۔(2) مغرب کی اذان کے وقت(3) روزہ افطار کرنے کے وقت( 4) جہاد میں جب جنگ شروع ہو۔( 5) فرض نماز کے بعد(6) دن رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔(7) سجدے میں ،اس وقت بندہ اللہ کے بہت قریب ہوتا ہے۔(8) جمعے کے دن(9) بعض روایات کے مطابق جب امام دو خطبوں کے درمیان بیٹھتا ہے اس وقت دعا قبول ہوتی ہے( 10) جمعہ کے دن بعد نماز عصر سے مغرب تک دعا قبول ہوتی ہے(11) بارش برسنے کے وقت(12) شب قدر میں (13) ذوالحج کی نویں تاریخ (14) تلاوت قرآن پاک کے بعد(15) رمضان کا پورا مہینہ قبولیت کا ہے۔(16) جمعہ کی رات (17) صبح صادق کے وقت(18) زم زم پینے کے وقت(19) جہاں اہل ایمان کثرت سے جمع ہوں مثلاً جمعہ‘ عیدین‘ میدان عرفات وغیرہ (20) کعبۃ اللہ شریف کو دیکھتے وقت(21) رات کے پچھلے پہر میں۔صبح اذان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اٹھیں یہ رات کا آخری پہر ہوتا ہے۔ یہ عبادت اور دعائیں قبول ہونے کا بہترین وقت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: اور وہ رات کے پچھلے پہر معافی مانگتے ہیں۔(سورۃ الذریات : آیت18)

سرورِ کائناتﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ رات کے آخری پہر کے درمیان (رات کے آخری حصہ) میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ (ترمذی)

وہ مقامات جہاں خصوصیت کے ساتھ دعا قبول ہوتی ہے۔

(1) مسجد الحرام (2) مسجد نبویﷺ(3) مسجد اقصیٰ(4) خانہ کعبہ کے اندر (5) طواف میں(6) ملتزم میں(7) باب کعبہ پر (8) رکن یمانی میں(9) مقام ابراہیم پر(10) حطیم کے اندر (11) صفا ومروہ پر(12) عرفات میں(13) مزدلفہ (14) منیٰ۔ جمرات پر(15) میزاب رحمت کے نیچے وغیرہ۔ ان سب مقامات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ جس مسلمان کو ان جگہوں پر جانا نصیب ہو تو کثرت سے دعائیں کریں۔