آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’خواہ مخواہ ڈرا کر رکھا ہوا ہے پوری قوم کو، صرف بڈھے تو مر رہے ہیں کورونا وائرس سے پاکستان میں۔‘

یہ تھا استدلال اس ’دانشور‘ کا جس سے میں نے غلطی سے ایک چھوٹے کمرے میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگوں کو اکٹھے دیکھ کر ’کوروناوائرس ایس او پیز‘ کی خلاف ورزی کا ذکر کر ڈالا۔

جی بالکل، بڈھے ہی تو مر رہے ہیں، ان کی موت سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے، آج نہیں تو کل تو انہوں نے مر ہی جانا تھا، اچھا ہوا جلدی جان چھوٹ رہی ہے ان سے۔

ہر وقت کی کھانسی، جوڑوں میں درد، کمر میں تکلیف، بیمار اور مریل بڈھے اور بڈھیاں، کام کے نا کاج کے، دشمن اناج اور چین و آرام کے۔

لو جی اماں اسی سال سے اوپر کی ہو گئیں اور جیے جا رہی ہیں، ابا 75 سے اوپر کے ہیں اور ہر سال ’آئی سی یو‘ پہنچ جاتے ہیں پھر بھی لوٹ آتے ہیں، ہیں جی؟

ہاں بس فرق پڑتا ہے جمال کو، جب بھی اکیلا ہوتا ہے ماں یاد آتی ہے اور آنکھیں چھلک جاتی ہیں، کہتا ہے کوروناوائرس نہ ہوتا تو کئی برس اور جی لیتیں اماں۔

اس کی والدہ کے جسم کا ہر سسٹم خراب ہو چکا تھا، پھیپھڑے تو گزشتہ کئی برسوں سے خراب تھے ہی، شوگر کی وجہ سے یہ انہیں روز انسولین لگاتا تھا، بلڈ پریشر اور دل کی مریضہ بھی تھیں اور آخری دنوں میں گردے فیل ہو جانے کی وجہ سے ڈائلیسس پر آچکی تھیں۔

’بھائی آخری دنوں میں، میں روزانہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بستر سے اٹھاتا، گاڑی میں بٹھاتا، ایس آئی یو ٹی سے ڈائیلائسس کرواتا اور گھر لے آتا تھا، آخری دو ہفتے تو شاید میں چند منٹ سے زیادہ سویا بھی نہیں، وہ اسپتال میں ہوتی تھیں اور میں سول اسپتال کے آس پاس کی گلیاں ناپا کرتا تھا‘ جمال بتانے لگا، بقول اس کے اماں کئی برس اور جی لیتی اگر کم بخت کوروناوائرس نہ ہوتا۔

55 سالہ ڈاکٹر سلطان خود کورونا میں مبتلا ہیں، روزانہ تیز بخار ہوتا ہے سانس لینے میں تکلیف ہے لیکن جان میرپور خاص میں اپنے گھر میں موجود 84 سالہ اللّٰہ اماں میں اٹکی ہوئی ہے، اماں کو کورونا کی وجہ سے ’ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس‘ تشخیص کیا گیا ہے، بقول ڈاکٹر سلطان کے اتنا بد نصیب ہوں کے اپنی ماں کے قریب بھی نہیں جا سکتا، اپنے لیے کم اور ماں کے لیے زیادہ دعائیں کرتا ہوں اللّٰہ ان کو میری بھی عمر لگا دے۔

اور مجھے وہ سات سالہ بچہ نہیں بھولتا، بقر عید کی رات مجھے اپنے بچوں کے ساتھ قربانی کے جانوروں کے قریب کھڑا دیکھا تو قریب آگیا، باتوں ہی باتوں میں کہنے لگا

’ابو نے بکرا دلوایا تھا لیکن اسے ٹہلانے میرے ساتھ نہ جا سکے, کوروناوائرس نے ابو اور دادی کو ایک ساتھ ہم سے چھین لیا، اب اس بکرے کا کیا کروں میں؟‘ وہ رونے لگا اور مجھے بھی آبدیدہ کر گیا۔

ہاں لیکن کوروناوائرس سے بڈھے ہی تو مر رہےہیں، خوامخواہ ڈرا کر رکھا ہوا ہے پوری قوم کو، کسی کو کیا فرق پڑتا ہے اگر کسی کا بڈھا باپ یا ماں یہ ظالم کوروناوائرس چھین لے تو۔

خاص رپورٹ سے مزید