آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

2020 گزشتہ چوتھائی صدی میں ریٹیل سیلز کیلئے بدترین سال

لندن ( پی اے ) برٹش ریٹیل کنسورشیم ( بی آر سی) کا کہنا ہے کہ 2020 میں ریٹیلرز کو اپنی فروخت میں ریکارڈ بدترین کارکردگی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلز میں خاصی کمی واقع ہوئی۔ فیشن اور ہوم ویئر پروڈکٹس میں کی مانگ گر گئی تھی۔ جبکہ فوڈ سیلز میں 5.4 فیصد اور اضافہ ہوا جبکہ نان فوڈ سیلز 5 فیصد کم ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوروناوائرس سے متاثر سال کے دوران مجموعی طور پرریٹیل سیلز میں 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 1995 میں جب سے سی آر بی نے اعداد و شمار اکٹھا کرنا شروع کیے ہیں اس کے بعد سے یہ سالانہ بدترین پرفارمنس ہے۔ کرسمس کے موقع پر کچھ بہتری ہوئی جبکہ زیادہ تر ہائی سٹریٹس اب بھی بند پڑی ہیں۔ فزیکل نان فوڈ سٹورز بشمول تمام غیر ضروری ریٹیل سٹورز کی سیلزمیں 2019 کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ بی آر سی چیف ایگزیکیٹو ہیلن ڈکسن نے کہا کہ کرسمس میں ان ریٹیلرز کو بہت کم مہلت ملی تھی۔ کیونکہ بہت ساری دکانیں کاروبار کے عروج کے دوران کورونا وائرس پابندیوں کی وجہ سے بند پڑی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیلز میں 5.4 فیصد اضافے کا سبب یہ تھا کہ شاپرز سپر مارکیٹس میں آئے تھے جبکہ پینڈامک کے دوران گروسریز کا سٹاک رکھنے کیلئے آن لائن گروسری خریداری ہوئی۔ دسمبر میں ریٹیل سیلزمیں 1.8 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ شاپرز نے کرسمس

کی تیاریوں اور خریداری کیلئے زیادہ وقت صرف کیا۔ لائیک فار لائیک سیلز میں بھی 4.8 فیصد اضافہ ہوا ۔ کورونا لاک ڈائون پابندیوں کی وجہ سے دکانوں کی بندش سے ان کی آمدن میں کمی ہوئی ۔ آن لائن نان فوڈ سیلز میں دسمبر کے دوران 44.8 فیصد اضافہ ہوا تھا ۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق اس میں زیادہ تر حصہ آن لائن شاپنگ کا تھا۔ کے پی ایم جی کے ریٹیل یو کے چیف پال مارٹن نے کہا کہ ریٹیل انڈسٹری کیلئے انتہائی اہم مہینے میں اخراجات کی مسلسل تبدیلی سے کچھ مثبت نمو ہوئی ہے۔ ٹریول اور تفریح ​​جیسی دوسری چیزوں کے اخراجات اس جانب منتقل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ مصنوعات کی خریداری کی نوعیت اور خریداری کیلئے استعمال ہونے والے چینلز میں بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں بہت زیادہ گروتھ آن لائن ہو رہی ہے جہاں تقریباً نصف نان فوڈ آئٹمز کی خریداری کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ نیا لاک ڈاؤن بہت سی غیر ضروری دکانوں اور ہائی اسٹریٹ کے حالات کو مزید خراب کر دے گا۔ گزشتہ ہفتے سینٹر فار ریٹیل ریسرچ (سی آر آر) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ 25 برسوں میں ہائی سٹریٹ ملازمین کے بیروزگار ہونے کے حوالے سے 2020 بد ترین سال رہا کیونکہ کورونا وائرس نے آن لائن شاپنگ کے رجحان کو تیز تر کر دیا ۔آر سی سی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال تقریباً 180000 ریٹیل جابس ختم ہوئیں جو 2019 کے مقابلے میں ایک چوتھائی زیادہ ہیں ۔

یورپ سے سے مزید