آپ آف لائن ہیں
ہفتہ14؍رجب المرجب 1442ھ 27؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دستاویزی فلم ’بولی وڈ میں موت‘ کی پہلی قسط 7لاکھ سے زائد افراد نے دیکھ لی

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بولی وڈ اداکارہ جیا خان کی پراسرار موت پر برطانوی نشریاتی ادارے نے دستاویزی فلم نشر کی ہے جس نے ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔گجنی اور ہاؤس فل میں اداکاری کرنے والی 25 سالہ جیا خان سال 2013 میں اپنے فلیٹ پر مردہ حالت میں ملی تھیں۔ اداکارہ کی مبینہ خودکشی کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے تاہم ان کی موت کا ذمہ دار اداکار آدتیہ پنچولی کے بیٹے سورج پنچولی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی تین حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’بولی وڈ میں موت‘ کی پہلی قسط 7 لاکھ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔فلم میں اداکارہ کے اہل خانہ نے بھی موت کے حوالے سے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق حادثے کی سچائی ابھی تک سامنے نہیں آئی اور جب جیا خان کی موت واقع ہوئی اس رات کے حوالے سے کئی سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے۔جیا خان کے اہلخانہ نے سوال اٹھایا کہ جیا نے اپنی موت سے پندرہ منٹ پہلے جو ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا وہ ابھی تک پولیس کو نہیں مل سکا۔اداکارہ کی فیملی کے مطابق جیا خان

کے بوائے فرینڈ سورج پنچولی نے انہیں خود کشی کرنے پر مجبور کیا تھا۔بھارتی کے قانون میں یہ ایک جرم ہے جس کی سزا دس سال کی قید ہے۔‘سورج پنچولی ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔فلم میں دکھایا گیا ہے کہ جیا خان کی والدہ ایک تفتیشی افسر کی خدمات حاصل کرتی ہیں جو فرانزک ثبوت کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ پولیس نے خود کشی کا معاملہ نمٹانے میں جلد بازی کی تھی۔فلم میں جیا خان کی والدہ اپنی بیٹی کو انصاف دینے کے لیے اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔دستاویزی فلم پر ملا جلا رد عمل رہا لیکن اکثریت نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ٹوئٹر صارف سندی ہیرانی نے فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سشانت سنگھ۔ کے کیس میں بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ پولیس نے معاملے کی صحیح طریقے سے تحقیقات نہیں کی تھیں اور جیا خان کے کیس میں بھی حکام بضد تھے کہ اداکارہ نے خود کشی کی تھی۔‘ایک اور ٹوئٹر صارف راج بدھن کا کہنا تھا کہ ’یہ فلم جیا خان کی موت پر مزید سوالات کو جنم دیتی ہے، ممبئی پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات میں انتہائی نالائقی دکھائی ہے۔‘

دل لگی سے مزید