آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنیوالی 47 آئی پی پیز دو گروپس میں تقسیم

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے والی 47 آئی پی پیز دو گروپس میں تقسیم ہوگئی ہیں۔ دو روز کے اندر 9 بڑی آئی پی پیز نے ماسٹر معاہدے پر کام شروع کرکے اس گروپ سے راہیں جدا کرلی ہیں جو 53ارب روپے کے مبینہ اضافی منافع کو ماہرین کے پینل کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں۔ 13آئی پی پیز کے گروپ کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ میں چوں کہ نیپرا ایک پارٹی ہے لہٰذا وہ نہیں چاہتے کہ وہ اس مسئلے کا فیصلہ کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ پی پی ایز کے تحت مصالحتی عدالت واحد فورم ہے جو اس قسم کے مسئلے حل کرسکتی ہے۔ مجموعی طور پر 47 آئی پی پیز میں سے 19 آئی پی پیز حکومت کے ساتھ معاہدے پر رضامند ہوچکی ہیں۔ جب کہ حکومت نے ماہرین کا پینل تشیل دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ منشا گروپ کی قیادت میں 13 آئی پی پیز ماہرین کے پینل کے ذریعے اضافی منافع کا تصفیہ چاہتی ہیں۔ جب کہ گزشتہ دو روز کے اندر 9 بڑی آئی پی پیز نے بجلی خریداری معاہدوں میں ترمیم کا آغاز کرکے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کی قیادت میں تین آئی پی پیز کے ایک گروپ نے ترمیمی پی پی ایز پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ ان تین آئی پی پیز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اضافی

ادائیگیوں کا مسئلہ ماہرین کے پینل کے بجائے نیپرا کو حل کرلینا چاہیئے۔ اس حوالے سے باضابطہ معاہدے پر حکومتی عہدیداران اور آئی پی پیز کے دستخط وفاقی کابینہ اور متعلقہ آئی پی پیز کے بورڈز کی منظوری کے بعد ہوں گے۔ جب کہ اس سے قبل شمسی اور گنے کے خام مال سے چلنے والے پاور پلانٹس ترمیمی پی پی ایز پر دستخط کرچکے ہیں۔ دریں اثنا مزید چھ آئی پی پیز جن میں صبا، لال پیر، پاک جین، اینگرو، اتلس اور سیف شامل ہیں۔ یہ آئی پی پیز 1994 اور 2002 پاور پالیسی کے تحت لگائی گئی تھیں۔ جنہوں نے ماسٹر ایگریمنٹ کانٹریکٹس پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ اب تک 47 میں سے 19 آئی پی پیز حکومت کے ساتھ قانونی بائنڈنگ معاہدوں پر رضامند ہوچکی ہیں۔ آئی پی پیز کی جانب سے مبینہ طور پر 55 ارب روپے زائد منافع حاصل کرنے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات خطرات سے دوچار ہوگئے ہیں کیوں کہ حکومت نے ماہرین کا پینل بنانے سے انکار کردیا ہے۔ تاہم، پاور پالیسی 2002 کے تحت لگائے گئے 3 آئی پی پیز جن میں اورینٹ پاور، سیفائر اور ہالمور شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید