امریکا اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی نے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکا کو مہنگائی، معاشی سست روی اور کاروبار میں بڑے پیمانے پر مسلسل کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے بدھ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکا نے جنگ پہلے ہی گھنٹے میں جیت لی تھی‘، تاہم صورتحال تاحال غیر یقینی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں امریکا میں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔
ایندھن کے معاملات کے تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق بدھ تک امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3،59 ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی تھی جو فروری کے مقابلے میں 65 سینٹ زیادہ ہے۔
ان کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو ہر ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 25 سے 40 سینٹ مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر تیل کی قیمت طویل عرصے تک 140 ڈالرز فی بیرل کے قریب رہتی ہے تو امریکی معیشت کساد بازاری (معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر اور مسلسل کمی) کی طرف جا سکتی ہے۔
شکاگو یونیورسٹی کے توانائی پالیسی ماہر سیم اوری کے مطابق تاریخ میں جب بھی تیل کی قیمتیں امریکی مجموعی معیشت کے 4 سے 5 فیصد کے برابر ہوئیں تو اس کے بعد معاشی بحران پیدا ہوا۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث خلیج میں بحری ٹریفک متاثر ہونے سے عالمی بندرگاہوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، اگر یہی صورتِ حال ایک ماہ تک جاری رہی تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خلیجی ممالک سے آنے والی مصنوعات جیسے کھاد، پلاسٹک، ادویات اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ہیلیم گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس سے مستقبل میں زرعی پیداوار اور گاڑیوں سمیت دیگر صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے امریکی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو گا اور حکومتی قرض بھی بڑھے گا۔
عرب میڈیا نے براؤن یونیورسٹی کے تحقیقی منصوبے ’کاسٹس آف وار‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پہلے ہی عراق اور افغانستان کی جنگوں پر لیے گئے قرضوں کے سود میں کم از کم 1 کھرب ڈالرز ادا کر چکا ہے، اگر خلیج میں جنگ جَلد ختم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف توانائی کی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور امریکی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔