آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پنجابی زبان میں ایک محاورہ ہے ”من حرامی تے حُجتاں ہزار“ مگر ذرا رکئے، آپ ”حرامی“ کے لفظ پر خواہ مخواہ کسی مغالطے کا شکار نہ ہوجائیں۔ وضاحت ضروری ہے!
پنجابی ایک RUSTIC زبان ہے، جو کبھی بھی سرکار دربار کاحصہ نہیں رہی، اس لئے اس میں اردو اورفارسی جیسا لوچ اور نفاست آپ کوکم کم ہی نظر آئے گی۔ اس کا بیانیہ یا اظہار کھلاڈلا ہوتا ہے۔ پنجابی اپنے مفہوم اور مطلب کو کبھی تکلفات کا جامہ یا پاجامہ نہیں پہناتی مگر اس محاورے میں حرامی کا مطلب اصل والا حرامی ہرگز نہیں۔ اردو میں اس محاورے کاقریب ترین مطلب یہ ہوگا کہ اگر ”آپ کا دل بدنیت ہے تو آپ اپنے حق میں لاکھوں دلیلیں تراش سکتے ہیں۔“
صبح کو اخبارات پڑھتے ہوئے نگران وفاقی حکومت کا تقرریوں اور تبادلوں پر موقف پڑھا تو بے اختیار یہ محاورہ ذہن میں در آیا۔ باقی افسروں کا معاملہ تو اپنی جگہ، سب سے دلچسپ دلیل نگران وزیراعظم کے بیٹے کی ایک پرکشش عہدے پرتقرری کے حوالے سے تھی۔ وضاحت میں کہا گیا تھا کہ ”وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے بیٹے (جو گریڈ 18 میں کام کر رہے تھے) کی NHA میں گریڈ 19میں تقرری، زرداری حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ”آغاز حقوق بلوچستان پیکیج “کے تحت کی گئی۔
یہ دلیل لاجواب ہے! آغاز حقوق بلوچستان پیکیج سے بلوچوں کو تو کچھ نہ ملا اسلم رئیسانی اور ان کے ہمنوا،

اربوں روپے ہڑپ کرکے اب یوں غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔کوئی نئی سڑک نہ بنی نہ سکول قائم ہوا، نوکری بھی شاید ہی کسی کو ملی ہو۔ اب نگران وزیراعظم کے صاحبزادے کو پرکشش نوکری ملنے پر اتنے بڑے سیاسی اقدام کا کچھ نتیجہ تو نکلا۔ نگرانوں نے اپنی حکومت کا آغاز تو ڈرتے ڈرتے شریفانہ انداز میں کیا تھا، مگر آخیر آتے آتے سردار ہرنام سنگھ کی طرح ہر چیزکی ایسی کی تیسی کردی۔ نگرانوں نے جو کیا وہ تو سب کے سامنے ہے۔ خبریں چھپ رہی ہیں، مقدمات عدالتوں میں چلے گئے ہیں، سب کچھ میڈیا میں آجائے گا۔ نگرانوں سے ملتا جلتا جو کام ہرنام سنگھ نے کیا، آیئے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
سردار ہرنام سنگھ کا وزن بے تحاشا بڑھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے ڈانٹا، پھٹکارا اور کھانے پینے کا چارٹ بنا کردیا اور کہا کہ اس کے مطابق کھانا اور پینا ہے۔ خبردار جو کچھ اور کھایا ۔یہ چارٹ کچھ یوں تھا:
صبح ساڑھے سات بجے… صرف ایک سلائس ڈبل روٹی ا ور ایک انڈہ
صبح دس بجے …ایک کپ گرین ٹی
دوپہر بارہ بجے… ایک کپ ابلے ہوئے چنے
شام پانچ بجے… ایک کپ چائے، بغیر چینی کے
شام سات بجے … ایک گلاس دودھ بغیر ملائی کے
رات 9بجے … ایک کپ گرین ٹی
سردار ہرنام سنگھ نے رات 9بجے تک اس ڈائٹ پلان پر حرف بحرف عمل کیا۔ ساڑھے نو بجے الماری کھولی ”دارو“ کی بوتل نکالی اوربیٹھ گیا۔ رات ساڑھے دس بجے ٹن ہوکر اس نے قریبی ہوٹل کو فون کیا اورکہنے لگا:
”میرے لئے چکن تکہ، روغنی نان، دال مکھنی، گاجر کا حلوہ اور گلاب جامن فوراً بھیجو! اِس ڈائٹنگ کی……“
سو نگرانوں نے بھی آخر میں آ کر اپنی ”نگرانی“ کی ایسی کی تیسی کردی! اللہ ان کی عاقبت بہتر کرے!
”من حرامی“ والا محاورہ ہمیں سابق صدر آصف زرداری کے لاہور میں دیئے گئے بیانات پڑھ کر بھی یاد آیا، جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کی شکست کچھ ”قومی اور بین الاقوامی“ اداروں کے کھاتے میں ڈال دی۔ یہ درست ہے کہ ”کج شہر دے لوک وی ظالم سن“ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ”کج سانوں مرن دا شوق وی سی!“ ادارہ جاتی تحقیقات کرانے سے پہلے اگر جناب آصف علی زرداری ان لوگوں کی خبر لیں جن کی گفتگو کی بنیاد پر کالم لکھے جارہے ہیں۔ خاتون کون ہے؟ آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کا اعلیٰ افسراس خاتون کو رقم کس کھاتے میں پہنچا رہا ہے؟ ملتان سے گفتگو کرنے والا سابق حکمران کون ہے؟ 25کروڑ کس حساب میں دیئے گئے؟ سب سامنے کی باتیں ہیں اور سب ہی جانتے ہیں… یہی لوگ زرداری صاحب سمیت، پیپلزپارٹی کی ان انتخابات میں شکست کے ذمہ دارہیں۔ حجتیں آپ ہزار کرسکتے ہیں!!
میں اپنے اس موقف پر آج بھی سختی کے ساتھ قائم ہوں کہ اس ملک کی اصل حکمران بیوروکریسی ہے۔ جہاں بھی کوئی سیاستدان جرم کرتا ہے اس جرم میں بیوروکریسی کاحصہ 51 فیصد ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں بیوروکریسی ”غیرت مند“ ہو تو قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی نہ لوٹا جاسکے۔ لالچی سیاستدان پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو بیوروکریسی ان کے رستے میں مزاحم ہونے کے بجائے انہیں رستہ دکھاتی ہے، ان کی معاونت کرتی ہے اور اپنا حصہ وصول کرتی ہے! بیوروکریسی کا یہی رویہ سیاستدانوں کو بدنام کرنے کا باعث بنتا ہے۔ سیاستدانوں کی واردات انفرادی سطح پر ہوتی ہے اس لئے ان کی نشاندہی ہوجاتی ہے اور پکڑے بھی جاتے ہیں۔ بیوروکریسی یہ سب کچھ بطور ادارہ کرتی ہے، خود کو قواعد و ضوابط کی پناہ میں رکھتی ہے۔ ایک بیوروکریٹ ایک جگہ واردات کرکے اگلی پوسٹنگ کسی ایسی جگہ لے لیتا ہے جہاں وہ پھر سے نیک نام بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ کوئی دوسرا اسے بچانے کے لئے اس کی جگہ لے لیتا ہے!
1988 سے 2013 تک کے اخبارات کی فائلیں گزشتہ دنوں کھنگالنے کا موقع ملا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت نے اس عرصے میں ایک دوسرے پر اتنی غلاظت اچھالی کہ خدا کی پناہ… مگر بیوروکریسی کاادارہ ایک ہی تھا، دونوں کے ساتھ یکساں وفادار، دونوں کی وارداتوں میں یکساں شریک اور معاون… دونوں پارٹیوں کے راہ نما تو بار بار قیدوبند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں مگر آج تک ایک بیوروکریٹ بھی کیفرکردار تک نہیں پہنچا… سب ”حاجی ثنا اللہ“ بن کر ریٹائر ہوگئے۔
آخر کیوں! حجتیں تلاش کرنے سے پہلے رک کر سوچنا ضروری ہے! کل کو مسلم لیگ (ن) بھی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر حجتیں تلاش کرے گی۔
اسے ابھی سے اپنے اعمال نامے کی فکر کرنی چاہئے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں