آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’کلا نکر‘‘ قدیم جھیل جو پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے تباہی سے دو چار ہے

آپ نے اب تک کینجھر، انڈھر اور ہالیجی جھیلوں کا نام سنا ہوگا بلکہ بہت سے لوگوں نے وہاں کی سیر بھی کی ہوگی ۔ لیکن اس کے علاوہ بھی درجن سے زائد جھیلیں ہیں جو شہر کے باسیوں کی نظروں سےاب تک اوجھل ہیں۔ا چھڑو تھر جو 23 ہزار مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اس کی حدود عمرکوٹ سے شروع ہوکر سندھ کے ضلع گھوٹکی سے آگے پنجاب سے جاکر ملتی ہیں ، جس کے بعد چولستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔عمرکوٹ کےقصبے، ڈھورونارو سے شمال کی سمت6کلومیٹر کے فاصلے پراچھڑوتھر کے علاقے میں ریت کے ٹیلوں کے درمیان واقع تاریخی ومشہورکلانکر جھیل واقع ہے۔

نارا کینال آج جہاں سے بہتی ہے، اگر اس بہاؤ کی لکیر کو غور سے دیکھیں تواندازہ ہوتا ہےکہ پانی کی اس لکیر کے مغرب میں جو زمین ہے وہ انتہائی زرخیز ہے اور اسے’ ’نارا ویلی‘‘کے نام سے پکارا جاتا ہے اور مشرق کی طرف ریت کے ٹیلےہیں، جن کے درمیان خوب صورت جھیلوں کا سلسلہ ہے۔ کلانکر جھیل بھی یہاں واقع ہے۔4 ہزار مربع ایکڑ پر پھیلی یہ جھیل اب سکڑ کر ایک ہزار مربع ایکڑ سے بھی کم اراضی تک محدود ہوگئی ہے۔لیکن اس کے باوجود جب پہلی بار اس کوئی دیکھتا ہے تو اسے اس کے گرد بلند و بالا ٹیلے اور ان کے درمیان پانی کی نیلی چادر اچھی لگتی ہے۔ گردونواح میں پیلو، دیوی اور لئی کے درخت، بوہ (Desert Lavender) کی خوشبودار جھاڑیاں، ٹیلوں کے اوپر بنے ہوئے چوئنروں کے گاؤں، بکریاں چراتے بچے،دیکھ کردل پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

کلانکر جھیل میں نارا کینال سے میٹھا پانی آنے کے راستوں پر قبضے کے بعد آب رسانی بند ہونے اور بااثر افراد کی جانب سےاس کا منظورشدہ پانی چوری ہونےکے باعث جھیل خشک ہوتی جارہی ہے۔ جھیل کے مشہور ہونے کی وجہ ،خوبصورت نظاروں کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی مچھلیاں جن میں چاکڑ،سنگاری،کرڑیو،،جھرکا ،آسریو،ودیگر مچھلیاں شامل ہیں،یہاں وافر تعداد میں پائی جاتی تھیں۔ کچھ عشرے قبل تک جب اس میں نارا کینال سےپانی آتا تھا تو یہاں کی مچھلیاں ڈھورو نارو شہر کے ریلوے اسٹیشن سے ملک کے دُور دراز شہروں تک جاتی تھیں۔

اس جھیل میں کڑھی (یہ مقامی طور پر لکڑیوں سے ایک گول فریم کی طرح بنتی ہے جس کے اندر جال کو باندھا جاتا ہے اورایک کڑھی کو ایک ہی آدمی استعمال کرکے مچھلی کا شکار کرسکتا ہے) کا شکار مشہور تھا کیونکہ لاڑ (زیریں سندھ) کی طرح یہاں جھیلوں کی بہتات نہیں ہے۔ اس لیے یہاں شکار دیکھنے کے لیے لوگ آتے تھے۔ مگر یہ سب اب قصےکہانیاں بن گئی ہیں۔لوگ بارش کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ 

اگر دو ہفتےتک بارش ہوجائے اور دس دن بعد دوبارہ بارش ہو تو اس میں پانی بھر جاتا ہے اور جہاں جال پھینکو مچھلیاں وافر مقدار میں لگتی ہیںاور اس وقت ایسا لگتا ہے کہ بارش میں پانی کم اور مچھلی زیادہ برستی ہے، لیکن اب تو برسات نے بھی منہ موڑ لیا ہے۔

جھیل کے ارد گرد کے علاقوں میںماہی گیروں کے 150گھروں پر مشتمل گائوں آباد تھا ، جس کے باسی معاشی مسائل کی وجہ سے یہاں سے نقل مکانی پر مجبورہوئے ہیں اور آج اس میں صرف 10 گھر باقی بچے ہیں۔ وہ بھی جھیل میں پانی کی کمیابی کی وجہ سے بہ مشکل گزر بسر کر پارہے ہیں۔کلانکر جھیل کے ساتھ کھاروڑ جھیل، موڈاکر جھیل، ڈسریو جھیل،لون کھان جھیل،روجانی جھیل اورسرن والی جھیل ودیگر چھوٹی چھوٹی جھیلیں منسلک ہیںاور ان کا سلسلہ اچھڑو تھر سے شروع ہوکرہندوستان کے علاقے جیسلمیر تک جاپہنچتا ہے۔

جھیل کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس میں برساتی پانی کے علاوہ، میٹھے پانی آنے کا کوئی ذریعہ نہ ہونے سےاس کا پانی کڑوا ونمکین ہونے لگا ہےجو آبی حیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔اس کی وجہ سے مچھلیوں کی افزائش بھی انتہائی کم ہوگئی ہے ۔تمام قدرتی گزرگاہوں پہ بااثرافراد نے قبضہ کرکے فصلیں کاشت کی ہوئی ہیں۔نارا کینال سے جھیل کو پانی فراہمی کرنے والے قدرتی نالےچھنڈن سے لے کرجھیل تک کے راستے پہ قبضہ مافیا کی وجہ سے یہ علاقہ تباہی و بربادی سےدوچار ہے۔

یہ ایک خوب صورت سیاحتی مقام بھی ہے، جہاں کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ پکنک منانے کی غرض سے آتے ہیں۔لیکن ضلعی وصوبائی حکومت سمیت علاقے سے منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی کے سبب تین کلومیٹر کا چھوٹا سے راستہ تعمیر نہ ہونے کے سبب ڈھورورنارو سےیہاں تک کا فاصلہ ریگستانی علاقے میں چلنے والی مخصوص فور وہیل جیپ کرائے پر لے کر طے کرناپڑتا ہے۔جھیل کے قریب محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے 3 ریسٹ ہاوسز بنائے گئے ہیں جو ناقص مٹیریل کے استعمال کے سبب زبوں حالی کے شکار ہیں۔ ان پر ڈالی جانے والی کھپریل کی چھتیں مخدوش ہو گئی ہیں ۔

جھیل کے اندر پختہ پلیٹ فارم و سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیںجب کہ سیرو تفریح کے لئے ایک سرکاری کشتی بھی مہیا کی گئی ہے۔موسم سرما کے دنوں میں پردیسی پرندے بھی بڑے تعداد میں لمبا سفر طے کرکے یہاںپہنچتے ہیں ، لیکن پانی کی کمی کے سبب ان کی تعداد میں بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ علاقے کے سیاسی وسماجی رہنمائوں عارف قریشی،مشتاق کنبھار ودیگر نے مطالبہ کیا ہےکہ حکومت فوری طورپر جھیل کی چھنڈن پہ قبضے ختم کرواکے جھیل میں تازہ میٹھا پانی چھوڑاے جانے کے اقدامات کرے اور جھیل تک پختہ راستے کی تعمیر سمیت دیگر سہولیات فراہم کرکے باقاعدہ مناسب اقدامات اٹھائے۔