• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ متعدد وجوہات کی بناء پر انسانی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ صحت بخش چربی دماغی افعال اور خلیوں کی کارکردگی کا عمل بہتربناتی ہے۔ 

اگر آپ عمر بھر اپنے دماغی افعال کو بہترین رکھنا چاہتے ہیں تو روزمرہ خوراک میں اومیگا تھری کو لازمی شامل کریں۔

 درحقیقت اومیگا تھری نہ صرف دماغی افعال بلکہ امراضِ قلب، کینسر اور آرتھرائٹس جیسی خطرناک بیماریوں کے خلاف بھی مزاحمت کا کام سرانجام دیتا ہے۔ یہ فیٹی ایسڈ انسان کی قوت مدافعت بڑھاتے ہوئے جسم کو بار بار ہونے والے انفیکشن سے بھی بچاتا ہے۔

انسانی جسم کے لیے اس کی خاص اہمیت کے پیش نظر طبی ماہرین یومیہ 2ہزار ملی گرام اومیگا تھری لینا تجویز کرتے ہیں۔ تاہم ،اگر انسانی خوراک میں اومیگا تھری کی مناسب مقدار شامل نہ ہوتوذیل میں درج مختلف بیماریاں جڑ پکڑنے لگتی ہیں۔

قلبی بیماریاں

اومیگا تھری کی مناسب مقدار قلبی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کا کام سرانجام دیتی ہے جبکہ اس کی کمی مختلف اقسام کے قلبی مسائل کو دعوت دیتی ہے۔ مطالعے سے واضح ہے کہ دل کی بیماری سےہونے والی 40فیصد اموات کا سبب ایل ڈی ایل( برے کولیسٹرول) کی سطح کا بڑھنا ہوتا ہے جبکہ اومیگا تھری جسم سے برے کولیسٹرول کی شرح کو کم کرتا ہے۔ یہ جسم میں پائی جانے والی سوزش (انفلیمیشن )، بلڈ پریشر اور شریانوں میں خون جمنے جیسے افعال کے خلاف مزاحمت کا کام کرتا ہے ۔

آرتھرائٹس (گٹھیا)

اومیگا تھری کی شدید کمی جسم اور جوڑوں میں سوزش کا سبب بنتی ہے، اسے آرتھرائٹس کی اہم وجوہات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسٹڈی کے مطابق جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو باقاعدگی سے اومیگا تھری سپلیمنٹ دیے گئے تھے۔ ان سپلیمنٹ کا استعمال ہڈیوں کی تکلیف اور اکڑن کو کافی حدتک کم کرنے کا باعث بنا۔

سیکھنے میں مشکلات

اومیگاتھری دماغی افعال کی انجام دہی میں کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ غذا میں اومیگا تھری کی موجودگی دماغی صحت اور دماغی طاقت بڑھانے کے لیے قدرت کی جانب سے فراہم کردہ بہترین غذائی جُز ہے۔ مطالعے سےثابت ہے کہ اومیگا تھری سے میموری ڈیفیکلٹی (سیکھنے میں مشکلات) میں مبتلا مریضوں کی یادداشت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

ڈپریشن

2018ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں کا زائد جبکہ فاسٹ فوڈ کا کم استعمال ڈپریشن میں کمی لاتاہے۔ سمندری غذاؤں میںاومیگا تھری وافر مقدار میںپایا جاتا ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہے کہ ایسے ممالک جہاں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد کم تھی، وہاں کے باسیوں کی روزمرہ خوراک میں اومیگا تھری لازمی شامل تھی۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ انسان میں ڈپریشن کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ یہ خوشی کا باعث بننے والے ہارمون، سیراٹونن کا لازمی جزو مانا جاتا ہے۔

بینائی کی کمزوری

جسم میں اومیگا تھری کی کمی بینائی کی کمزوری سے لے کر ہائی بلڈپریشر اورآنکھوں کے خطرناک مسئلے گلوکوما کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ آنکھوں کے قورنیے کو دو اقسام کے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے کرسکیں۔

سالمن

سالمن (مچھلی)کو اس سیارے کی بہترین غذائیت رکھنے والی غذاؤں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے ۔ اس میں اعلیٰ اقسام کا پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ ان میں بڑی مقدار میں میگنیشیم، پوٹاشیم، سلینیم اور وٹامن بی شامل ہے۔ سالمن مچھلی کوڈپریشن کے مریضوں کی مخصوص غذا بھی کہا جاتا ہے۔ ڈپریشن انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میںڈرینلن اور کورٹیسول جیسے ہارمونز کی تعداد بڑھ جاتی ہے، تاہم سالمن مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے ان ہارمونز کو قابو کیا جاسکتا ہے۔3.5اونس مچھلی کے گوشت میں 2260ملی گرام اومیگاتھری پایا جاتا ہے۔

کمی کیسے دور کی جائے؟

صحت کو درپیش مندرجہ بالا مسائل کے ذکر کے بعد انسانی جسم کے لیےاومیگا تھری کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ جسم میں اومیگا تھری کی کمی کیسے دور کی جائے؟ چونکہ قدرت نے تمام بیماریوں کا حل قدرتی غذاؤں میں پوشیدہ رکھا ہے، لہٰذا کچھ مخصوص غذاؤں کے استعمال سےخوراک میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی کمی پوری کی جاسکتی ہے ۔

اخروٹ

اخروٹ ایک غذائیت بخش اور فائبر سے بھرپور غذا ہے۔ 28گرام اخروٹ میں 2542ملی گرام اومیگا تھری پایا جاتا ہے ۔ یہی نہیں، اخروٹ میںکاپر، میگنیزاور وٹامن ای کی بھی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

سویا بین

سویابین میں بھی اومیگا تھری فیٹی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ تاہم، ماہرین کی رائے کے مطابق انسان کو مکمل طور پر غذا کے لیے سویا بین پر انحصار نہیں کرنا چاہیےکیونکہ یہ جسم میں سوزش جیسے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ آدھا کپ سویا بین میں 1243ملی گرام اومیگا تھری فیٹیایسڈ پایا جاتا ہے۔

پھول گوبھی

پھول گوبھی کا شمار ان سبزیوں میں ہوتا ہے جنہیں صدیوں سے انتہائی فائدے مند مانا جاتا ہے۔ اس میں 29فیصد کیلوریز، صفر کے برابر شکر اور چکنائی، 73فیصد وٹامن سی، فولیٹ، پینٹوتھونک ایسڈ، وٹام بی6،کولاجن، فائبر، اومیگا تھیر فیٹی ایسڈز اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بیش بہا فوائد رکھتے ہیں ۔

صحت سے مزید