سوشل میڈیا پر جہیز کی لعنت کے خلاف پاکستانی فیشن ڈیزائنر کی پُراثر آگاہی مہم نے دل موم کردئیے۔ کسی نے داد دی، کسی نے جہیز نہ لینے کا عہد کیا، تو کسی نے الٹا ڈیزائنر ہی کو آئینہ دکھا دیا، خود ان کے مہنگے ترین ملبوسات کی ہوش رُبا قیمتوں پر سوال اٹھادئیے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر جس میں جہیز سے لدی ایک گاڑی کو کرب میں گھسیٹتی ایک دلہن کو دکھایا گیا ہے نے دیکھنے والوں کے دل پگھلادئیے۔
نمائش نہ لگاؤ جہیز خوری بند کرو، کے عنوان سے پاکستانی ڈیزائنر علی ذیشان نے ایک فیشن شوٹ کو جہیز کی لعنت کے خلاف عوام میں شعور جگانے کا ذریعہ بنایا۔
جسے سماجی تنظیموں اور عوام کی جانب سے بڑی پزیرائی ملی۔
کسی نے اسے ایک طاقتور پیغام قرار دیا، تو کسی نے جہیز نہ لینے کا عہد کیا، ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ یہ تصاویر جہیز کے بوجھ تلے دبی ایک دلہن اور اس کے والدین کے درد کی حقیقی ترجمانی کرتی ہیں، تو دوسرے نے کہا کہ تعجب ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود آج تک لوگ جہیز لے رہے ہیں۔
کوئی بولا لالچ سے شروع ہونیوالی شادیوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے۔
کسی نے سادگی اپنا کر شادی کو آسان بنانے کا پیغام دیا تو کسی نے یاد دلایا کہ بیٹیوں کو وراثت میں جائز حق سے محروم نہ کریں۔
دوسری جانب کچھ لوگوں نے الٹا ڈیزائنر ہی کو آئینہ دکھا دیا، توپوں کا رخ ان کی جانب موڑ دیا، خود ان کے مہنگے ترین ملبوسات کی ہوش رُبا قیمتوں پر سوال اٹھادئیے۔
ایک نوجوان نے کہا کہ خود آپ کا ایک عروسی جوڑا دس لاکھ سے کم کا نہیں، اس پر آپ سادگی کی باتیں کررہے ہیں۔
ایک اور صاحب نے ان ہی کے فیشن شوٹ سے قیمتی ملبوسات میں تصویر شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ نمود نمائش میں نہیں آتا؟