• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے والد، حکیم حافظ سید محمد انوارالدین دہلوی

میرے والدِ بزرگوار، حکیم حافظ سیّد محمد انوار الدین نے 1922ء میں دہلی، بھارت میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے دینی تعلیم دارالعلوم دیوبند سے حاصل کرنے کے بعد طب سے متعلق تعلیم کے لیے طبیہ کالج، دہلی میں داخلہ لیا۔ یہاں حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصّہ لینا شروع کردیا۔ وہ جلد ہی کالج یونین کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے۔ ملک کے معروف حکیم اور ہمدرد فائونڈیشن کے صدر، حکیم محمد سعید شہید بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل اور والد مرحوم سے ایک سال سینئر تھے۔ جب کہ مشہور حکیم، محمود احمد برکاتی اُن کے کلاس فیلو تھے۔ میرے والد اپنے بہترین رویّے اور خوش مزاجی کے باعث کلاس فیلوز میں بہت مقبول تھے۔ انہوں نے اپنے مختلف کلاس فیلوز کے نام طبی جڑی بوٹیوں پر رکھے تھے۔ سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے اُن کے کلاس فیلوز انہیں’’ گلِ سُرخ‘‘ کے نام سے پُکارتے تھے۔ 

انہوں نے طب کی عملی تعلیم دہلی کے مشہور حکیم سیّد ناصر نذیر فراق دہلوی کے صاحب زادے، حکیم سیّد ناصر خلیق سے حاصل کی، جو مشہور شاعر اور خواجہ میر درد کے نواسے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی ہجرت کی اور آرام باغ میں مطب اور دواخانہ قائم کیا۔ بعدازاں 1959ء میں یہ دواخانہ برنس روڈ منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے ساری زندگی محنت اور ایمان داری کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ جوشاندے، عرقیات، خمیرہ جات اور جوارشات تیار کرکے مریضوں کو انتہائی ارزاں نرخوں پر فراہم کرتے۔ بہت سے ایسے مریض، جو دوا خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے، انہیں بلامعاضہ بھی فراہم کرتے۔

وہ بیش تر مریضوں کا علاج کالی مرچ، لونگ، دارچینی، سفیدزیرے اور چھوٹی الائچی ہی سے کرتے۔ انہیں خالص شہد، موسمی پھل، سبزیوں اور مختلف غذائوں کے ذریعے علاج میں خاص مہارت حاصل تھی۔ مریضوں کے علاج کے ساتھ اُن کی روحانی اور دینی تربیت کا بھی اہتمام کرتے۔ اُردو کے علاوہ عربی اور فارسی پر دست رس حاصل تھی۔ اکثر زندگی سے مایوس مریضوں کو فارسی کا مشہور مقولہ سناتے کہ ’’پائے مرا لنگ نیست، مملکت خدا تنگ نیست۔‘‘ ساری زندگی طبیہ کالج، دہلی کا ٹریڈ مارک، شیروانی اور ترکی ٹوپی اُن کا لباس رہا۔ 

وہ اپنے مریضوں اور عزیزاقرباء کودرس دیتے ہوئے کہتے کہ ’’زندگی کے حساب سے ایسے جیو کہ ابھی بہت جینا ہے، اور عمل کے حساب سے ایسے جیو کہ ہوسکتا ہے، یہ زندگی کا آخری عمل ہو۔‘‘ خود بھی ساری زندگی اسی فلسفے پر کاربند رہے اور عوام النّاس کی خدمت کو شعار بنائے رکھا۔ پچاس سالہ طبّی خدمات پر کسی صلے کی تمنّا کے بغیر 12مارچ1998ء کو داغِ مفارقت دے گئے۔ انتقال سے قبل فجر کی نماز باجماعت ادا کی اور حسبِ معمول گھر آکر سوگئے۔ اسی سکون کی حالت میں روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔ وہ اکثر ایک شعر سناتے تھے کہ؎یہ اقامت ہمیں پیغامِ سفر دیتی ہے..... یہ زندگی، موت کے آنے کی خبر دیتی ہے۔ (سیّد اشفاق الدین، کراچی)

تازہ ترین