آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اگر ٹائم ٹریول ممکن ہو اور آپ کو آج سے چند دہائیوں بعد مستقبل کی کسی تعمیراتی سائٹ پر تشریف لے جانے کا موقع ملے تو آپ کو کس چیز کا سامناہوگا؟ تعمیراتی صنعت کے رجحانات پر نظررکھنے والوں کے مطابق آپ غالباً، ہاتھوں سے ہونے والے زیادہ تر کام روبوٹ اور دیگر ذہین مشینوں کے ذریعہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں گے کہ کچھ تعمیراتی منصوبے خود بہ خود نصب ہورہے اور تکمیل پارہے ہیں۔ آپ انسانوں سے بھی ملیں گے۔ اگرچہ وہ کنکریٹ کی تیاری میں مصروف نہیں ہوں گے، ناںہی بورڈ اٹھاتے اور ناںہی بھاری مشینری کو چلاتے چلاتے پسینے میں شرابور نظر آئیں گے۔ انسانوں کا کردار کمپیوٹر اور جدید ترین سافٹ وئیر کی مدد سے اس عمل کو سنبھالنا ہوگا جو منصوبے کے ارتقاء اور تصور سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل تک تعمیراتی عمل کے ہر پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے۔

’’2050ء کی تعمیراتی سائٹس پر آپ کو انسان نظر نہیں آئیں گے‘‘، تعمیراتی کمپنی بیلفور بیٹی نے گزشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی۔ ’’متحرک نئے مواد کا استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ ڈھانچے کی تعمیر کے لیے روبوٹ ٹیموں میں کام کریں گے۔ تعمیر کے عنصر خود سے جمع ہوں گے۔ ڈرون طیارہ اُڑتا ہوا سائٹ کو مستقل طور پر اسکین اورکام کا معائنہ کرے گا اور جمع ہونے والے اعداد و شمار کو استعمال ہونے سے پہلے ہی پیش گوئی کرنے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کرے گا ۔ ان اعدادوشمار کی روشنی میں ڈرون، روبوٹک کرینوں، کھدائی کرنے والی مشینوں اور خودکار بلڈرز کو ہدایات بھیجے گا، جس میں انسانی شمولیت کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی‘‘۔

سائٹ پر موجود انسانی اہلکاروں کے پاس خصوصی مہارت ہوگی۔ اور کچھ ، حقیقت میں نصف سائبرگ ہوں گے، جو اضافی تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ غیر انسانی مزدوروں کے ساتھ بات چیت کرنے میں ان کی مدد کریں گے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ، ’’انسانی نگران کا کردار کسی دور جگہ پر بیٹھے ایک ساتھ متعدد منصوبوں کا بیک وقت انتظام کرنا، سائٹ اور مشینوں سے 3D اور 4D تصاویر اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تعمیراتی کام مجوزہ منصوبہ کے عین مطابق جاری رہے‘‘۔ رپورٹ میں مزید پیش گوئی کی گئی ہے کہ، ’’بہت کم انسانوں کو خود سائٹ تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی، جنھیں یہ ضرورت پیش ہوگی وہ روبوٹوں کی طرح والا کاسٹیوم پہنیں گے اور سائٹ پر مشینری اور دوسرے روبوٹ کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور کنٹرول کرنے کے لیے اعصابی کنٹرول ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے‘‘۔

ان تشہیرات کا اس صنعت میں شمولیت اختیار کرنے والوں کے لیے کیا معنی ہے؟ اس سے ایک سبق تو یہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ ’تعمیراتی مزدور‘ کی تعریف میں ڈرامائی تبدیلی آرہی ہے۔ روایتی طور پر، تعمیراتی مزدور کو جسمانی مشقت کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے ، جو تعمیراتی کام کرنے کی طاقت ، برداشت ، ہم آہنگی اور مہارت رکھتا ہے۔ اگرچہ، جدید دور میں اس صنعت میں وہ لوگ تیزی سے کام کررہے ہوں گے، جو درج بالا روایتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی اضافی قابلیت ساتھ لائیں گے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ’’نئی ملازمتیں اور صنعتیں سامنے آئیں گی۔ اس وقت جو موجود اور متحرک ہیں، ان میں سے کچھ غائب ہوجائیں گے ، خاص طور پر کم یا صفر مہارت کے حامل افراد اور جو ایک ہی طرح کے کام کو باربار دُہرانے کا کام کرتے ہیں اور جن کے روزگار کا انحصار صرف اسی ایک محدود کام پر ہوتا ہے‘‘۔

مینجمنٹ کی سطح پر، جدید دور کے تعمیراتی ذرائع جیسے بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کو سمجھنا اور اسے استعمال کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔ سائبرسیکیورٹی کی سمجھ بوجھ رکھنا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ تعمیراتی صنعت کا انحصار کمپیوٹر پر بڑھ رہا ہے، اس لیے اسے سائبرخطرات کا بھی زیادہ سامنا ہوسکتا ہے۔ تعمیراتی سائٹ کا کنٹرول کسی بدنیت دشمن کے پاس چلے جانے کی صورت میں، رپورٹ میں بیان کیا گیا مستقبل کا منظر ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوسکتا ہے، جس میں روبوٹ اور ڈرونز تعمیر کے بجائے تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ اسکول ، جیسے کیپٹل ٹیکنالوجی یونیورسٹی ، ’’کنسٹرکشن مینجمنٹ‘‘ کے پروگرام پیش کرتے ہیں جس میں روایتی نصاب کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی بھی پڑھائی جاتی ہے۔ کیپٹل ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے صدر، ڈاکٹر بریڈ فورڈ ایل سمز کا کہنا ہے کہ ، ’’مجھے یقین ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان شعبوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے‘‘۔

تعمیرات اور سائبر کی دنیا کا امتزاج ایک منفرد اور غیرروایتی تصور ہے، جو عشروں سے لاگو تعمیرات کے عمومی عمل سے ہٹ کر کام کرتا ہے۔ لیکن تعمیراتی صنعت میں قائم یہ پرانے طریقے بڑی اور تیز تر تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ایک صنعت جو ایک زمانے تک ’’ٹیکنالوجیکل تبدیلی سے منحرف‘‘ کے طور پر پہچانی جاتی تھی، اب تھری ڈی پرنٹنگ اور ویئرایبلز جیسے ’’اسمارٹ ہارڈ ہیٹ‘‘ پہلے ہی تعمیراتی عمل میں شامل کرچکی ہے۔

کئی لحاظ سے، آپ کو تعمیراتی صنعت کا مستقبل دیکھنے کے لیے اب مزید کسی ٹائم ٹریول مشین کی ضرورت نہیں رہی۔ تعمیراتی صنعت کا مستقبل ہمارے سامنے ہے۔