آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئرن مین کا ’ریزر ہاوس‘ کس سے متاثر ہوکر بنایا گیا ؟

فلموں سے شغف رکھنے والے اکثر لوگ ’’آئرن مین‘‘ کے مرکزی کردار ٹونی اسٹارک (رابرٹ ڈاؤنی جونیئر) کے ’’ریزر ہاؤس‘‘ (وہ گھر جس میں آئرن مین رہتا ہے) سے واقف ہوں گے۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ آئرن مین کا ریزر ہاؤس (Razor House) درحقیقت امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ساحلی علاقے ’’لاجولا‘‘ میں بلند پہاڑی پر تعمیرشدہ ایک محل نما گھر سے متاثر ہوکر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ہرچندکہ، آئرن مین کا گھر اس کے خالق کی ذہنی اختراع ہے، تاہم پہاڑی کی چوٹی پر اس کی تعمیر اور اس کے جدید آٹومیشن فیچرز ایک دوسرے سے ہوبہو مشابہت رکھتے ہیں۔

آئرن مین کے ریزر ہاؤس کی تھیم سے متاثر اس گھر کو ڈونلڈ برنز نامی امریکی شخص ، جو ٹیکنالوجی کمپنی ’’میجک جیک‘‘ کے سابق چیف ایگزیکٹو ہیں اور اس وقت اپنے نام سے منسوب ایک غیرمنافع بخش ادارہ چلارہے ہیں، نے 2011ء میں 14.1ملین امریکی ڈالر میں خریدا تھا۔ 2019ء میں جب اس گھر کو فروخت کے لیے لِسٹ کیا گیا تھا تو اس کی قیمت فروخت 30ملین ڈالر رکھی گئی تھی، تاہم کچھ ہی دنوں بعد اس گھر کو برائے فروخت کی لِسٹنگ سے نکال دیا گیا تھا۔ بالآخر اس گھر کو امریکی گلوکارہ ایلیشیا کیِز نے 20.8ملین ڈالر میں خرید لیا۔لسٹنگ ادارے ’’ڈگلس ایلی مین‘‘ کے مطابق، 2019ء میں  اس ساحلی علاقے میں فروخت ہونے والا یہ سب سے مہنگا گھر ہے۔

ریزر ہاؤس کو سان ڈیگو سے تعلق رکھنے والے ماہر آرکیٹیکٹ ویلس ای-کوننگھم نے ڈیزائن کیا ہے اور یہ کیلی فورنیا کے ساحلی علاقے ’’لاجولا‘‘ میں ایک بلند پہاڑی پرتعمیر کیا گیا، جہاں سے سمندر کے روح پرور نظارے کیے جاسکتے ہیں۔ یہ حقیقی ریزر ہاؤس، سان ڈیگو کے شمال میں 12میل دور ایک ریزارٹ کمیونٹی ہے، جو اپنے خوبصورت ساحلِ سمندر اور ملٹی ملین ڈالر گھروں کے باعث شہرت رکھتی ہے۔ ریزر ہاؤس انتہائی جدت کا حامل ہے اور یہ 11,545مربع فٹ رقبہ پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید کنکریٹ اور اسٹین لیس اسٹیل سپورٹ سسٹم استعمال کیا گیا ہے۔

یہ گھر چار بیڈ رومز، ایک سرکلر لیونگ روم، ایک فیملی روم، ایک لائبریری، ایک اسکریننگ روم، ایک بلیئرڈ روم اور دو عدد کچن پر مشتمل ہے۔ گھر کے آؤٹ ڈور حصے میں ایک گرم پانی کا پول، ایک اسپا، ایک باورچی خانہ، ایک روف ٹاپ ٹیرس اور ایک گیراج شامل ہے۔ گھر میں مہمانوں کے لیے علیحدہ سے ایک گیسٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے، جو دو بیڈ رومز پر مشتمل ہے۔ گھر کی کھڑکیاں وسیع و عریض ہیں، جو فرش سے شروع ہوکر چھت پر پر ختم ہوتی ہیں۔ گھر کے مرکزی صحن کے گرد انتہائی مضبوط اور اونچی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، جو صحن کو ساحلِ سمندر پر چلنے والی انتہائی طاقتور ہوا ؤں سے محفوظ رکھتی ہیں۔

یہ محل نما گھر جدید ہائی ٹیک آٹومیشن کا حامل ہے، جسے زیادہ تر آئی پیڈ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ لائٹس کو جلانا، بُجھانا یا تیز اور مدھم کرنا، بجلی پر کام کرنے والے رولر وِنڈو شیڈز کو کھولنا اور بند کرنا اور میوزک کو کنٹرول کرنا، اس گھر میں یہ سب آٹومیشن کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ اس میں روشنی سے لے کر میوزک تک ہر چیز کو گیجٹس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس کا ہوم مووی تھیٹر مختلف لیئرز پر بنی کئی صفوں پر مشتمل ہے۔

گھر میں دو اضافی ماسٹر سوئٹِس بھی تعمیر کیے گئے ہیں، جو گیسٹ ہاؤس کے دو بیڈ رومز کے علاوہ ہیں۔ گیراج میں بآسانی کم از کم چار گاڑیاں پارک کرنے کی گنجائش موجود ہے، یہاں سے ’’گلاس ایلیویٹر‘‘ کے ذریعے روف ٹاپ ٹیرس پر جایا جاسکتاہے۔ گھر کے آؤٹ ڈور ایریا میں ساحلی رُخ پر ایک وسیع پول بھی بنایا گیا ہے، جہاں بحرِ اوقیانوس کا براہِ راست نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ خم دار پول اس طرح کا تصور دیتا ہے جیسے اس کا پانی براہِ راست اُفق میں بہہ رہا ہو۔ گھر میں آٹومیٹڈ کولنگ اور ہیٹنگ سسٹم موجود ہے جبکہ بیک اَپ جنریٹر بھی ہے۔ ایک علیحدہ کمپیوٹر روم میں گھر کا تمام انٹیگریشن اور آٹومیشن سسٹم رکھا گیا ہے۔ لائبریری کو خصوصی طور پر تیار کردہ شیشے سے علیحدہ کیا گیا ہے اور وہاں اسٹین لیس اسٹیل سے بنی پول ٹیبلز رکھی ہوئی ہیں۔

کیلی فورنیا کے اس خوبصورت اور پرکشش ساحلی علاقے سے متعلق ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ پیشہ ور افراد کا کہنا ہے کہ 2019ء میں جس وقت یہ محل نما گھر 20.8ملین میں خریدا گیا تھا، اس وقت ریئل اسٹیٹ کی مارکیٹ منجمد تھی، جس کی وجہ سے اس گھر کو 30ملین ڈالر کے ٹیگ کے ساتھ ایک بار لسٹنگ میں شامل کرکے نکال دیا گیا تھا اور پھر چند ماہ بعد یہ معلوم ہوا کہ اسے امریکی گلوکارہ ایلیشیا کیز نے 20.8ملین ڈالر میں خرید لیا ہے۔

کووِڈ19-کے بعد کی دنیا میں لوگ ایسے پُرسکون، صحت کو تازہ کرنے اور وسیع آؤٹ ڈور ایریا رکھنے والے گھروں کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ آج اگر یہ گھر فروخت کے لیے پیش ہو تو اسے 30ملین ڈالر کی قیمت بآسانی مل جائے گی۔