• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں جنگ جیو کے مرکزی دفتر پر حملہ، توڑ پھوڑ، عملہ محصور

کراچی میں جنگ جیو کے مرکزی دفتر پر حملہ ، توڑ پھوڑ


کراچی (اسٹاف رپورٹر / جنگ نیوز) کراچی میں جنگ جیو کے مرکزی دفتر پر قوم پرستوں نے حملہ کردیا اور توڑ پھوڑ کی ، مشتعل مظاہرین نے عمارت میں استقبالیہ کے شیشے اور واک تھرو گیٹ توڑ دیئے ، سیکورٹی اور دیگر عملے سے بدسلوکی کی اور مغلظات بکیں ، مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے بعد دھرنا بھی دیا اور نعرے لگائے ، حملے کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی تاہم بعدازاں 18؍ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ واقعے کی خود چھان بین کروں گا جبکہ وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کیخلاف ایکشن ہوگا ، ایف آئی آر بھی کٹے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے، پر امن احتجاج سب کا حق ہے لیکن تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ امید ہے سندھ حکومت جنگ / جیو دفتر کی حفاظت یقینی بنائے گی ۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) ، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے ) ، پی ایف یو جے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں ، بڑے اور چھوٹے میڈیا چینلز ، تاجر تنظیموں نے جنگ جیو دفتر پر حملے پر مذمت کا اظہار کیا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب سمیت مختلف رہنماؤں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے بھی جنگ جیو کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے جنگ جیو سے اظہار یکجہتی کیا۔ علاوہ ازیں مختلف شہروں میں صحافی تنظیموں کے اجلاس منعقد ہوئے جس میں جنگ جیو آفس کراچی پر حملہ کی مذمت کی گئی۔ واضح رہے کہ مظاہرے کا اعلان جیو نیوز کے ایک طنز و مزاح کے پروگرام کے ایک حصے پر کیا گیا تھا اور جیو نیوز اگلے ہی پروگرام میں اس پر وضاحت بھی نشر کر چکا تھا۔ارشاد بھٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ ان کا پروگرام طنز و مزاح کا پروگرام ہے، سندھ اور سندھی اسی طرح ان کے وجود کا حصہ ہیں، جس طرح ملک کا کوئی اور دوسرا صوبہ ہے۔ جیو نیوز کی انتظامیہ نے واقعے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیو نیوز کی انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ احتجاج سب کا بنیادی حق ہے لیکن تشدد اور توڑ پھوڑ کسی مسئلے کا حل نہیں اورانتظامیہ اس معاملے پر اپنا قانونی حق استعمال کرے گی۔ جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے کہ پروگرام کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ جیو اور جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ ’احتجاج کریں تشدد نہیں، جیو اور جینے دو‘۔ تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہوکرجنگ اور جیو ٹی وی کے مرکزی دفتر پر آکرحملہ کیا، مشتعل مظاہرین نے جنگ اورجیو ٹی وی ہیڈ آفس کی مرکزی عمارت حملہ کر کے استقبالیہ کے شیشے اور واک تھرو گیٹ توڑ دیئے ،سیکورٹی اور دیگر عملے سے بد سلوکی، مغلظات بکیں ، اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی، مشتعل مظاہرین کے حملے کے وقت جنگ اور جیوکے دفاتر میں خواتین سمیت عملے کی بڑی تعداد موجود تھی ،بعد ازاں مشتعل افراد جنگ ، جیو ٹی وی کے دفاتر کے باہر حتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ گئے، پولیس نے18؍ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 5افراد کو رہا کردیا گیا جبکہ 13افراد سے تفتیش جاری ہے ، دھرنے کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ، صوبائی وز یر اطلات ناصر حسین شاہ جیو نیوز کے افس پہنچے۔ جبکہ احتجاج ختم ہو گیا اور مظاہرین منتشر ہو گئے۔ گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جو بھی نقصان ہوا ہے سندھ حکومت اس کا ازالہ کرے گی، جو بھی ملوث ہیں اس کیخلاف ایف آئی آر بھی ہوگی اور سخت ایکشن لیا جائے گا، احتجاج پر امن طریقے سے سب کا حق ہے، جیسے جیو کی انتظامیہ کہے گی ایکشن ہوگا ، سندھی قوم تاریخی قوم ہے، سندھی قوم یا سندھ کی توہین نہیں ہونے دیں گے،اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے تو نکال دے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جیو اور جنگ کے مرکزی دفترپر حملےکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی خود چھان بین کروں گا۔ آئی جی سندھ نے حملے کانوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کراچی میں مظاہرین کے جنگ اور جیوگروپ کے مرکزی آفس پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے، پر امن احتجاج سب کا حق ہے لیکن تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں اور حکومت کسی صورت میں کسی کو تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے حملے کی مذمت کی ہے اورکہاکہ صحافتی ادارے پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے۔ حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ امید ہے سندھ حکومت جنگ / جیو کے دفتر کی حفاظت یقینی بنائے گی اور وزارت داخلہ ہر ممکن سپورٹ اور تعاون دے گی۔آل پاکستان نیوز پیپر ز سوسائٹی نے جنگ گروپ کی عمارت پر حملے کی مذمت کی۔ اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری جنرل سرمد علی نے واقعہ کو پریس پر حملہ قرار دیا اور وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ پر زور دیا کہ وہ حملہ آوروں کے خلاف فوری ایکشن لیں اور میڈیا ہاؤسز کو سیکیورٹی فراہم کریں۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور ملک بھر کے پریس کلبوں نے جنگ اور جیو کے دفاتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے جنگ جیو کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ لوگوں کے احتجاج کے حق کا دفاع کیا ہے لیکن تشدد قابل مذمت ہے، پی بی اے نے متعلقہ حکام سے حملہ آوروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے کہا کہ وہ پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتی ہے لیکن احتجاج کے بہانے تشدد ناقابل قبول اور قانون کی خلاف ورزی ہے، صوبائی حکومت حملہ آوروں کے خلاف ایکشن لے۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری رضوان بھٹی اور اراکین گورننگ باڈی نے بھی حملے کی مذمت کی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر پرویز شوکت، سیکرٹری جنرل راجہ ریاض، آر آئی یو جے ورکرز کے صدر شیخ یاسر شہزاد ،جنرل سیکرٹری عاطف شیرازی اور دیگر عہدیداران نے جنگ و جیو پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ صدر لاہور پریس کلب ارشاد انصاری نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت ملزمان کو فوری گرفتار کرے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے جیو جنگ کے دفتر پر حملے کی مذمت کی، ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی نے اس حملے کو صحافت پر حملہ قرار دیا۔ جنگ سی بی اے یونین کے صدر رفیق بشیر نے حملے کی مذمت کی اور اسے شہر کا امن خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔ لاہور الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز کے چیئرمین عاصم نصیر نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری محمد عارف خان نے جنگ اور جیو کے دفاتر پر حملے کو آزادیٴ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان ، ایسوسی ایشن آف کراچی اسائنمنٹ ایڈیٹرز (اکائی) ، کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل شکیل یامین کانگا ، ایپنک کے سیکرٹری اطلاعات فواد محمود، کراچی ایپنک کے چیئر مین اور دی نیوز ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری دارا ظفر، جاوید پریس یونین کے جنرل سیکرٹری رانا یوسف ، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے بھی جیو اور جنگ کے دفاتر پر حملے کو قابل مذمت اور صحافت کا گلا دبانے کی سازش قرار دیا۔ڈیلی جنگ اینڈ پریس ورکرز یونین راولپنڈی (سی بی اے) کا ہنگامی اجلاس زیرصدارت صدر یونین ناصر محمود چشتی ہوا جس میں نائب صدر ظفر اقبال، جنرل سیکرٹری خالد محمود، جوائنٹ سیکرٹری لئیق شوکت، خزانچی اطہر نقوی اور ممبران مجلس عاملہ عمران فاروق بٹ، عبدالرحمان اور محمد اسلم نے جنگ اور جیو کے ہیڈ آفس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر فواد چوہدری ، مفتاح اسماعیل، کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی ، شہباز گل ، صدر مسلم لیگ ن سندھ شاہ محمود شاہ ، فنکشنل لیگ کی رہنما نصرت سحر عباسی ، پیپلز پارٹی کراچی کے سینئر رہنما سید سہیل عابدی ، صدر مسلم لیگ ق چوہدری شجاعت حسین ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ، ترجمان پاک سرزمین پارٹی ، مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر آصف کرمانی ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ ،مہاجر قومی مومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد ،علامہ حسن ظفر نقوی ،قاری عثمان ،اے این پی سند کے صدر شاہی سید ،سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری،صوبائی وزیر امتیاز شیخ جام اکرام اللہ داریجو مکیش کمار چاولہ سید قاسم نوید قمر، شہلا رضا ، سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات نے کراچی میں جنگ اور جیو نیوز کے آفس پر حملے کی مذمت کی ہے۔ رہنماؤں نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کامطالبہ بھی کیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل مسلم لیگ نون کے ساتھیوں کے ہمراہ جیو نیوز کے دفتر اظہار یکجہتی کے لیے پہنچے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جیو نیوز پر حملہ گویا آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ اور کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ مسلم لیگ نون اس کی سخت مذمت کرتی ہے ۔ قومی تجارتی تنظیموں، ایوانہائے تجارت و صنعت اور ماہرین معیشت نے پاکستان میں جمہوریت، سیاست، معیشت پر کھلم کھلا جارحیت قرار دیا ہے اور ہمایوں اختر خان، سیف اللہ گروپ کے موجودہ وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان،سابق وفاقی وزیر تجارت و پٹرولیم سلیم سیف اللہ خان، ایوانہائے تجارت و صنعت کی کل پاکستان فیڈریشن کے سابق چیئرمین عبدالرئوف عالم، اسلام آباد کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر سردار یاسر الیاس اور اسلام آباد ایوان ِتجارت و صنعت کے گروپ لیڈر میاں اکرم فرید، بلیو ایریا ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک صغیر، پنجاب حکومت کے چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سردار تنویر الیاس نے الگ الگ مذمتی بیانات میں کہا ہے کہ جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کی انتظامیہ صحافت میں تشدد کے ہرگز حق میں نہیں۔ جدہ سے نمائندہ جنگ کے مطابق پاکستان جرنلسٹس فورم کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، ارکا نے جنگ/جیونیوز کے دفاتر پر حملہ کو اہل صحافت پر حملہ قراردیا ، چیئرمین امیر محمد خان نے کہا کہ حکومت حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے،۔ سابق صدر شاہدنعیم صحافی ذکیر بھٹی، سیکرٹری جمیل راٹھور اور دیگر ممبران نے بھی مذمت کی ۔ 

اہم خبریں سے مزید