آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
مسئلہ کشمیر پر سپورٹ بڑھنے لگی
کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہےکہا جاتا ہے کہ پاکستان کے حروف میں ک کشمیر سے لیا گیا ہے، پھر بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا _ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے لئے ایک ہزار سال جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا _ بے نظیر بھٹو شہید ہوں، یا میاں نواز شریف، اور اب عمران خان کشمیر کی اہمیت سب پر واضح رہی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ برطانیہ نے حل طلب چھوڑا تھا اب برطانیہ میں لندن سے لے کر مانچسٹر تک پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی آباد ہے جس کی تعداد پندرہ ،سولہ لاکھ ہے جو اپنے اپنے انداز میں کشمیر کی سرگرمیوں سے انگیج چلی آرہی ہے _ یہ بات بھی درست ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو بعض لوگوں نے اپنی اپنی شہرت کا ذریعہ بھی بنایا مگریہ امر خوش آئند ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کشمیری کمیونٹی، پاکستانی ہائی کمیشن اس کے ذیلی اداروں اور پاکستان آزاد کشمیر سے آنے والے سیاسی رہنماؤں کی سعی مسلسل سے کشمیر کا مسئلہ اب برطانوی ہاوس آف لارڈز اور ہاوس آف کامنز میں بتدریج اٹھایا جا رہا ہے۔ لوگوں میں کشمیر کے مسئلے کو پہلے کی نسبت پہتر طور پر کشمیر کی تحریک کو سفارتی طور پر اجاگر کرنے کا احساس اور شعور بیدار ہوتا جا رہا ہے جس پر دیگر کے

علاوہ بلاشبہ پاکستانی کشمیری ممبران ہاوس آف لارڈز اور ممبران پارلیمنٹ اور کشمیر دوست بعض برطانوی سیاستدانوں کی کاوشیں شامل ہیں اور ساتھ ہی وہ کشمیری تنظیمیں بھی لائقِ تعریف ہیں جو کشمیر کے مسئلے کو برطانیہ کے ہر سرد گرم موسم میں زندہ رکھے ہوئے ہیں _ حالیہ برسوں میں کشمیر پر برطانیہ میں بہت کام ہو رہا ہے بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ درست ہے کہ کشمیر پر سب سے زیادہ سرگرمیاں برطانیہ میں ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ تحریک کشمیر، تحریک حق خودارادیت، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز کشمیر، پاکستان تحریک انصاف کشمیر، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، کشمیر فریڈم موومنٹ سمیت بے شمار پاکستانی کشمیری جماعتوں کے قائدین اپنی اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور مختلف تنظیموں کے علاوہ برطانیہ کے ہاوس آف لارڈز اور کامنز میں کشمیر کے مسئلے کو حالیہ برسوں میں متعدد بار اٹھایا گیا ہے۔اب یہ بھی ضروری ہے کہ جو تنظیمیں اور رہنما کشمیر پر متحرک ہیں ان کے کام کو سراہا جاتا رہے اور جو لارڈز اور ایم پیز کشمیر کاز پر متحرک ہیں ان سے مسلسل انگیج رہا جائے اور ا ساتھ ہی اصلاح احوال کی بھی بات کی جائے _ 13 جنوری کو ایک عمدہ کاوش کی گئی ہے۔ یہاں یہ بھی بات نوٹ کی گئی ہے کہ ماضی کے برعکس اب مسئلہ کشمیر پر کراس پارٹی سپورٹ بڑھ رہی ہے، ماضی میں قابل ذکر طور پر کشمیر کے مسئلے پر لیبر پارٹی کے سیاست دان آواز بلند کرتے تھے اور پھر زیادہ تر حمایت صرف ان پارلیمانی حلقوں سے بلند ہوتی تھی جہاں پر خود پاکستانی کشمیری کثیر تعداد میں آباد ہے اب آہستہ آہستہ یہ خوشگوار تبدیلی آئی ہے کہ کنزرویٹو پارٹی، لبرل ڈیموکریٹ اور دیگر سطح پر بھی کشمیریوں کی جدوجہد میں آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور ایسے انتخابی حلقوں سے بھی کشمیر پر کمٹمنٹ سامنے آئی ہے جہاں پر پاکستانی کشمیری ووٹرز انتخابات پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے پارلیمنٹرین صرف انسانی حقوق کی سر بلندی کے لئے مظلوم کشمیری عوام کے حق میں برطانوی ایوانوں میں سرگرم عمل ہیں _ پھر جو ممبران ہاوس آف لارڈز ہیں ان کو تو تاحیات لارڈ شپ دی جاتی ہے انہیں مختلف حلقوں سے ووٹ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تو ان میں سے جو لارڈز کشمیر پر متحرک ہیں ہمارے پاکستان اور کشمیر سے متعلق میڈیا اور جنرل کمیونٹی کو زیادہ سے زیادہ انگیج ہونے کی ضرورت ہے _ یہاں یہ بات بھی نوٹ کی جائے کہ برطانیہ کے پارلیمنٹرین ممبران ہاوس آف لارڈز اور ممبران پارلیمنٹ کی کشمیر پر ایوانوں کے اندر کارکردگی آسانی سے معلوم کی جاسکتی ہے، اس متعلق ان اداروں کی ویب سائٹ پر بالفرض آپ لارڈ قربان حسین اور کشمیر لکھیں، لیام بائرن ایم پی، سٹیو بیکر ایم پی، ڈییبی ابراھام وغیرہ ٹائپ کرکے سرچ کریں تو کشمیر پر بحث اور کارروائی کا ریکارڈ سامنے آجائے گا۔اس سے ان لوگوں کی بھی اصل کارکردگی سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے جو کشمیر پر کشمیری کمیونٹی کی زبانی کلامی حمایت کرتے ہیں _ تاہم اوپر بالا مثبت پیش رفت کے باوجود برطانیہ کی سرکاری پالیسی بدستور تبدیلی کی متقاضی ہے جس باعث برطانیہ کے اندر اس بات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کہ پاکستانی کشمیری کشمیر پر برطانیہ کے ایوانوں میں مزید رابطے پیدا کریں، ان تک زیادہ سے زیادہ کشمیر پر لٹریچر پہنچایا جائے۔موجودہ کرونا پابندیوں کے تناظر میں ورچوئل اجلاس کیے جائیں، اور ملک کی تمام مین سٹریم پارٹیوں میں اپنی تعداد بڑھانے پر غور کیا جائے، اور مختلف لارڈز اور ایم پیز جو کشمیر پر اخلاص سے شبانہ روز محنت کر رہے ہیں ان کے کام کو سراہا جائے اور وطن عزیز سے متعلق ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو برطانیہ کے خارجی محاذ پر کشمیر دوست برطانوی پارلیمنٹرین کے خلاف بعض حلقوں کے منفی پروپیگنڈہ کے تدارک کیلئے بھی آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا _۔

یورپ سے سے مزید