• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اَقوام متحدہ کے عالمی ماحولیات کے ادارہ کی جانب سے حالیہ پچاس ممالک کے تقریباً بارہ لاکھ باشندوں نےکرّۂ اَرض پر موسمی تغیرات کو بڑا اور تشویشناک مسئلہ قرار دیا۔ سروے کے دوران عام افراد نے عالمی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ دُنیا کو درپیش خدشات اور خطرات کو دُور کرنے کے لیے اقدام کریں یہ کرّۂ اَرض پر تمام حیاتیات اور آئندہ نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ پہلی بار عالمی ماحولیات کے ادارے کا یہ وسیع سروے تھا جس میں پروفیسرز، انجینئرز، جامعات کے طلبہ، طبیب، صحافی، ادیب دانشور اور غیرسرکاری تنظیموں کے اہلکار و دیگر افراد شامل تھے۔ 

عام باشندوں کا خیال تھا کہ جس طرح سماجی برائیوں پر قانون کی خلاف ورزی پر حکومتیں سزائیں دیتی ہیں اسی طرح قانون سازی کی جائے اور ماحولیات میں بگاڑ پیدا کرنے والوں اور آلودگی پھیلانے والوں کو بھی خصوصی عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں نیز یہ کہ عام لوگوں اور طالب علموں میں ماحولیات کے حوالے سے موسمی تغیرات کے بارے میں آگہی فراہم کی جائے۔ بیشتر افراد کا یہ بھی اصرار رہا کہ حکومتیں ماحولیات کے بنیادی اُصولوں اور خرابیوں کی روک تھام کے بارے میں بچوں کے نصاب میں یہ سب شامل کیا جائے۔ 

آب و ہوا قدرتی ماحول سے انصاف کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات کے ادارہ نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ ماحول، موسمی تغیرات کے حوالے سے دُرست خبریں جاری کرے،سنسنی نہ پھیلائی جائے۔ اقوام متحدہ کے سکیرٹری جنرل انتھونی گیترس نے حالیہ بیان میں شمالی بھارت کے ہمالیائی خطّے میں گلیشیئر کے پھٹنے کے واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 واضح رہے کہ اس حادثے میں بھارتی شمالی ریاست میں زبردست تباہی پھیلی، بجلی گھر اور دیگر تنصیبات سمیت ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سیکڑوں لاپتہ ہوگئے۔ املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عالمی ماحولیات کے حوالے سے ایک اہم خبر یہ کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے اوّلین صدارتی فیصلوں میں پیرس کے ماحولیات کے عالمی معاہدہ میں امریکہ کو دوبارہ شریک کر لیا ہے۔ جس کا دیگر تمام اراکین ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں امریکہ کو پیرس معاہدہ سے الگ کر لیا تھا ان کا مؤقف تھا کہ ماہرین اور بیش تر سائنس داں ماحولیات اور موسمی تغیّرات کے حوالے سے خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جبکہ قدرتی طور پر موسمی تغیّرات اور آب و ہوا میں تبدیلیاں ایک قدرتی ماحول کا حصہ ہیں جو صدیوں سے جاری و ساری ہیں۔

درحقیقت سابق صدر باراک اوباما، پوپ فرانسس اور بعض دیگر سربراہوں نے ماحولیات میں بگاڑ اور آلودگی میں تیزی سے اضافہ کی روک تھام کے لئے ایک عالمی معاہدہ پر کام شروع کیا تھا جس پر 2015ء میں پیرس کی سالانہ ماحولیات کانفرنس میں ڈیڑھ سو سے زائد سربراہوں اور اعلیٰ حکام نے معاہدہ پر دستخط کیے اب تک جتنے معاہدے طے پائے ان میں پیرس معاہدہ سب سے زیادہ وسیع تر ہے اس میں جس لائحہ عمل کا ذکر کیا گیا ہے ،کہا جاتا ہے کہ کام شروع کر دیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں قدرتی کوئلہ کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ کمی کرنا، فضائی آلودگی میں کمی کرنے کے لیے ماحول دوست گاڑیوں کا استعمال اور سولر انرجی یا الیکٹرک کاروں کے فروغ وغیرہ جیسے اقدام شامل ہیں۔ معاہدہ کے تحت مرحلہ وار آلودگی، آبادی میں اضافہ، آلودہ پانی کے اخراج اور مہلک زرعی ادویات کے استعمال پر قابو پایا جائے گا۔

عالمی آلودگی میں اضافہ کرنے والے بڑے ممالک میں پہلا ملک امریکا ، دُوسرا چین اور تیسرا بھارت ہے۔ اس کےبعد برازیل، ارجنٹائن، جنوبی افریقہ اور دیگر آبادی والے ممالک شامل ہیں۔

اکیسویں صدی کے دو عشروں میں ہونے والے تمام سروے رپورٹس، جائزوں اور تجزیوں میں ماہرین ماحولیات اور اَرضیات کرّۂ اَرض کے قدرتی ماحول اور کرّہ ارض کی بقا اور آنے والی نسلوں کی سلامتی کے لیے جن معاملات کو تشویش ناک اور خطرناک قرار دیتے ہیں ان میں موسمی تغیّرات آلودگی میں اضافہ، قطبین کی برف کا پگھلنا، سمندری سطح کا بتدریج بڑھنا، گلوبل وارمنگ، جنگلات کی کٹائی، آبادی میں بے ترتیب اضافہ اور وبائی امراض کا پھیلنا ہے۔ 

موسمی تغیّرات اور گلوبل وارمنگ کے حالیہ برسوں میں دو ہزار سے زائد واقعات پیش آئے جن میں سمندری برفانی طوفان، آندھیاں، سیلاب، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور وبائی امراض و دیگر حادثات شامل ہیں۔ 2020ء میں ایمیزون اور آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا، سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور کئی دیہات فنا ہوگئے۔ اسی طرح سیلابی ریلوں اور برفانی طوفانوں، موسلادھار بارشوں کی وجہ سے بھی زبردست جانی و مالی نقصانات ہوئے، کروڑوں ڈالر کی املاک تباہ ہوگئیں۔

حالیہ برسوں کے ماحولیاتی جائزوں کے مطابق دُنیا کے بیش تر خطّوں میں خشک سالی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے بہت سی انسانی جانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ وسطی اور شمالی مشرقی افریقہ کے ممالک میں خشک سالی اور خانہ جنگی کی وجہ سے خوفناک قحط پڑا، خوراک، دوائوں، پینے کے صاف پانی کی کمی اور بداَمنی کے سبب سیکڑوں انسانی جانیں تلف ہوگئیں۔ سال 2020ء کے اوائل میں آسٹریلیا کے جنوبی خطّے کے جنگلات میں لگنے ولی آگ تین ماہ تک شعلے بھڑکاتی رہی۔ 

ایمیزون کے برازیل کے گھنے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نے بھی سیکڑوں لوگوں کی جان لی اور شدید نقصانات کا باعث بنی جبکہ 2020ء میں افغانستان میں سیلاب کی وجہ سے دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوگئے۔ ہزاروں مویشی پانی میں بہہ گئے، کئی گائوں تباہ ہوئے نیز وسطی امریکہ میں سمندری طوفان نے زبردست تباہی مچا دی جس میں دو سو ستّر سے زائد افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ سب کچھ موسمی تغیّرات اور گلوبل وارمنگ کا نتیجہ تھا۔ دُنیا کے سائنس دانوں اور ماحولیات کے ماہرین کی اکثریت ایک عرصہ سے اصرار کرتی آ رہی ہے کہ اس کرّۂ اَرض پر قدرتی ماحول میں بگاڑ کا سب سے بڑا سبب اس کرّۂ اَرض پر فضائی، زمینی اور سمندری آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہے۔ 

فضائی آلودگی گرین ہائوس گیسیز کے اخراج، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرو آکسائیڈ، میتھین اور سلفر کے فضا میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے خارج ہونے والا کثیف دُھواں جس میں مختلف کیمیاوی اجزاء اور ذرّات شامل ہوتے ہیں انسانی جانوں، حیوانات، نباتات اور دیگر حیاتیات کو بھی شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔ انسانی ہاتھوں سے فروغ پانے والی آلودگی میں گاڑیوں کا دُھواں، ہوائی جہازوں کا دُھواں وغیرہ شامل ہیں جبکہ قدرتی فضائی آلودگی کا سبب جنگلوں میں لگنے والی آگ کا دُھواں، حدّت، آتش فشاں کی راکھ اور ذرّات اور دیگر کیمیائی اجزاء شامل ہیں۔

گلوبل وارمنگ کا بھی بڑا سبب گرین ہائوس گیسیز کے اخراج، قدرتی کوئلہ اور گیس کے استعمال، گیسولین اور ہر قسم کا کثیف دُھواں ہے۔ گلوبل وارمنگ ایک حقیقت اور اس کرّئہ اَرض پر موجود تمام انسانی جانوں، حیوانات، نباتات اور جمادات کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے جس تیزی سے دُنیا میں صنعتی یونٹوں کا قیام عمل میں آیا اور دُنیا ترقّی، آسائشات اور جدّت سے جس تیزی سے مستفید ہوتی گئی اسی تناسب سے قدرتی ماحول میں تنزلی آتی گئی۔ ہرچندکہ انسان نے گزشتہ ساٹھ ستّر سال کے عرصے میں قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا ہونے کے اسباب پر غور کیا اسی کے سدّباب کے لیے کچھ قوانین اور ضابطے بھی وضع کئے مگر تاحال ان کوششوں کے مثبت اثرات ظاہر نہیں ہو سکے۔ زمینی آلودگی موسمی تغیّرات اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ کا سبب ہے۔ زمینی آلودگی سے صاف پانی بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔ 

آلودہ زمین زراعت کے لئے مناسب نہیں رہتی ہے۔ موسمی تبدیلیاں بارشوں سیلاب کا باعث ہو سکتی ہیں۔ زمینی آلودگی، جنگلی حیاتیات، نباتیات اور ماحول دوست کیڑوں، جرثوموں کے لئے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ آلودگی کی وجہ سے پرندے بھی دُوسری جگہ اپنا تحفظ کرنے کے لئے ہجرت کر جاتے ہیں۔ زمینی آلودگی کم سے کم کرنے یا روک تھام کے لیے مصنوعی کھاد، دوائیں استعمال کرنے کے بجائے قدرتی کھاد کا استعمال زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شجرکاری میں اضافہ کرنے، درختوں کی حفاظت کرنے اور جنگلات کی کٹائی کی روک تھام سے زمینی آلودگی اور دیگر مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ سمندری آلودگی پر قابو پانے کے لیے سمندر میں کوڑا کرکٹ ڈالنے، کارخانوں کا زہر آلودہ پانی سمندر میں بہانے، غیرقانونی فشنگ کے طریقوں کی روک تھام کرنے، ڈیلٹا کے علاقوں کو صاف ستھرا بنانے پر کام کرنے کی مربوط پالیسی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ 

گلوبل وارمنگ کے اثرات سے سب ہی واقف ہیں کہ قطبین پر برفانی گلیشیئر بتدریج پگھل رہے ہیں۔ برفانی تودوں کے پگھلنے سے سمندری سطح بھی بتدریج بلند ہو رہی ہے۔ سمندر میں کوڑا کرکٹ، جہازوں کا استعمال شدہ تیل کا سمندر میں بہانا، زہریلے مادّوں کو سمندر بُرد کرنا ان اَطوار سے سمندری حیاتیات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ہر روز ہزاروں ٹن مچھلیاں دَم توڑ دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ سمندر انسانی خوراک کا دُوسرا بڑا گودام ہے اس کی اہمیت اور افادیت ہزاروں برسوں سے قائم ہے۔ 

دُنیا کی تجارت اور نقل و حمل میں سمندروں کی جو اہمیت ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ دُوسرے لفظوں میں سمندروں کو آلودگی سے پاک کر کے انسان نہ صرف اپنے پر بلکہ آنے والی نسلوں پر احسان کر سکتا ہے۔ سمندر زمینی حیاتیات کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں قدرت کے عظیم تحفے کو انسان آلودہ کر کے اپنے مسائل اور مصائب میں اضافہ کرے گا۔

ماہرین کو شدید تشویش ہے کہ آج کے دور میں جس طرح سے صنعتی ترقّی عمل میں آ رہی ہے۔ ہر ملک میں صنعتی اور زرعی ترقّی کے لیے جدید ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ صنعتی ترقّی کا عمل ناگزیر ہے اس سے معیشت مستحکم ہوتی ہے، روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ مگر اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کے لیے جن معاملات کو ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہے اس پر کم کم توجہ دی جاتی ہے اس کے لیے خاصا سرمایہ خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ عالی منڈی میں ایک دُوسرے سے مسابقت کا رُجحان بڑھتا جا رہا ہے اس کے علاوہ ہر کوئی زیاہ منافع کا متمنّی ہوتا ہے۔ ایسے میں بہت کم اُصولوں، ضابطوں اور اخلاقی قدروں کا پاس رکھ پاتے ہیں۔ اس طرح صنعتی ترقّی کے بہت سے کمزور پہلو بھی سامنے آتے ہیں جن پر سب کو سنجیدگی سے غور کرنے اور آلودگی کم سے کم کرنے کے لیے اقدام کرنے چاہئیں۔

ماہرین کرّۂ اَرض پر بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس سے قدرتی ماحول میں ہونے والے بگاڑ کا ایک اہم سبب جدید طرز زندگی کوبھی قرار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فی زمانہ انسانی زندگی میں اور طرز زندگی میں بہت سی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ متوسط طبقے کا حجم بتدریج بڑھ رہا ہے اس تناسب سے آسائشیات، جدید سہولتوں اور جدید ایجادات کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ گھریلو مصنوعات مثلاً فریج، ایئرکنڈیشن اور اس نوعیت کی دیگر مصنوعات کے استعمال سے بھی قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ ایندھن کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ 

جدید طرز معاشرت میں پلاسٹک کی مصنوعات کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، کاغذی پلاسٹک کا شیشہ کا بھی استعمال بڑھنے سے کوڑا کرکٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ بیش تر ترقّی پذیرممالک اس کوڑا کرکٹ کو جو روزانہ ہزاروں ٹن پر مشتمل ہوتا ہے سمندر بُرد کر دیتے ہیں یا غیرآباد علاقوں میں ڈھیر کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اس عمل سے کرّۂ اَرض کے قدرتی ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سے زمینی، سمندری اور قدرتی ماحول سب ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ 

زمینی ماحول کے متاثر ہونے سے زمینی حیاتیات پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ سمندری حیاتیات فنا ہو رہی ہے آلودگی نئے مسائل کا سبب بن رہی ہے، وبائی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے تمام معاشروں کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ حالیہ جائزوں کے مطابق ماہرین کو تشویش ہے کہ قدرتی ماحول میں بگاڑ کا سلسلہ اس طرح جاری رہا تو پھر وہ دِن دُور نہیں ہے جب دُنیا کی ایک تہائی سے زائد آبادی شدید گرم ترین خطّوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگی۔

سائنس دانوں اور ماہرین کو یہ بھی تشویش ہے کہ بتدریج بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانی زندگیوں اور طرز معاشرت سمیت معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کر سکتاہے۔ ایسے میں ہمیں نئے معرکوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اکیسویں صدی کے اختتام تک دُنیا کی آبادی گیارہ ارب نفوس سے زائد ہو جائے گی۔ ایسے میں کرّۂ اَرض کے آئندہ قدرتی ماحول میں انسانی، حیوانی، نباتیاتی حیاتیات کے مسائل، خوراک کی فراہمی، پینے کا صاف پانی، سانس لینے کو صاف ہوا، زندگی کے دیگر لوازمات کی فراہمی اور معاشروں کی سلامتی یہ سب ایک سوالیہ نشان ہیں۔ تشویش کا سبب محض خیالی یا سنسنی پھیلانا والا نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ گلوبل وارمنگ، موسمی تغیّرات اور اس کرّۂ اَرض پر ہر طرح کی آلودگی میں اضافہ جس طرح ایک اَٹل حقیقت ہے کوئی فسانہ نہیں ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم سال 2020ء کے اجلاس میں بھی عالمی ماحولیات کی مجلس نے جس میں سیکڑوں سائنس داں اور ماہرین شامل ہیں اجلاس میں کرّۂ اَرض کے قدرتی ماحول میں ہونے والے بگاڑ اور اس کے منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے سب نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جس میں گلوبل وارمنگ، موسمی تغیّرات، عالمی معیشت میں جاری مندی کا رُجحان سمیت سائبر اسپیس اور اس کے بعض مسائل پر بھی بہت کچھ کہا گیا۔

اس اَمر سے بیش تر لوگ واقف ہیں کہ ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتا آیا ہے۔ اکنامک فورم درحقیقت دُنیا کے امیرترین صنعت کاروں، بینکاروں، سرمایہ کاروں اور شعبہ ہائے زندگی کے دیگر اہم ترین شخصیات کا کلب ہے جو ہر سال اس پُرفضا حسین برفانی شہر میں سیر و تفریح کے ساتھ ساتھ دُنیا میں رُونما ہونے والی تبدیلیوں، اپنے اپنے مفادات کو مزید مستحکم بنانے اور زیادہ دولت کمانے کی پالیسیوں پر غور کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ 

اگر غور کیا جائے تو یہ دُنیا کے سو ڈیڑھ سو امیر ترین خاندانوں کے افراد ہیں جن کے پاس دُنیا کی 60فیصد کے قریب دولت جمع ہے۔ یہ اجارہ دار خاندان اپنی بے تحاشا دولت کی طرح دُنیا کے بیش تر مسائل کے بھی ذمہ دار تصوّر کیے جاتے ہیں۔ ہر بڑے فورم پر عالمی ماحولیات، عالمی معیشت کے اُتار چڑھائو، انسانی حقوق اور بعض سماجی مسائل پر اپنی گہری تشویش ظاہر کرتے، اظہار ہمدردی کرتے اور دُوسروں کو مسائل حل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں مگر یہ گوناگوں مسائل اپنی جگہ جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس اَمر سے ہر ذہین طالب علم آگاہ ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیترس نے کولمبیا یونیورسٹی میں اپنے خصوصی خطاب میں ماحولیات کے موضوع پر فکرانگیز خیالات کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا انسانیت نے قدرتی ماحول کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے، ہماری تمام کوششیں رائیگاں ہو رہی ہیں نہ غربت کم ہو رہی ہے نہ غذائی قلّت، ہماری کوششوں میں کمی ہے یا کوتاہی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول میں تنزّلی اور بگاڑ کی وجہ سے ہمیں ہر سال اربوں ڈالر کے نقصانات برداشت کرنے کے علاوہ بیشتر انسانی جانوں کو بھی کھونا پڑتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس عظیم مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوششیں کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےحال ہی میں بھارت کی شمالی ریاست میں پہاڑوں پر گلیشیئر کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے حادثات اور سانحات تواتر سے ہونے لگے ہیں۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں ہونے والی برفباری نے پوری ریاست کا نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ جہاں کبھی بجلی یا پانی کا معطل ہونا ایک ناقابل تصوّر واقعہ سمجھا جاتا ہے وہاں ایک ہفتہ تک بجلی اور پانی کی فراہمی معطل رہی۔ امریکی ذرائع کے مطابق اچانک شدید برفباری نے تمام راستے بلاک کر دیئے، پانی کی پائپ لائنیں پھٹ گئیں، بجلی گھر بند ہوگئے۔ ٹیکساس کا موسم شمالی ریاستوں کی بہ نسبت گرم معتدل ہوتا ہے موسم سرما میں کچھ علاقوں میں معمولی برفباری ہوتی ہے مگر موسمی تغیّر نے پوری ریاست میں شدید طوفانی برفباری نے تباہی مچا دی۔ زندگی معطل ہو کر رہ گئی۔ اس خوفناک تجربہ نے یہ عندیہ دیدیا ہے کہ ایسی صورت حال اس کرّۂ اَرض پر کہیں بھی کسی وقت بھی رُونما ہو سکتی ہے اسی کو کہتے ہیں قدرت کا احتساب۔ دُنیا کے بیش تر سائنس داں اور ماہرین بار بار ان خدشات اورخطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں مگر اب سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں ماحولیات کے مسائل زیادہ ہیں جن میں فضائی آلودگی، آبی آلودگی، شور کی آلودگی، موسمی تبدیلیاں، زرعی ادویات کا بے تحاشہ استعمال، زمین کی آلودگی، سیلاب ور جنگلات کی کٹائی۔ ان مسائل کے بارے میں عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی مسائل میں اضافہ کی اہم وجوہات آبادی میں بے ہنگم اضافہ، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ، شہروں کی آبادی میں اضافہ اور جنگلات کی کٹائی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ستّر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی، غربت، پسماندگی، تعلیم کی کمی اور صحت عامہ کی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی معیشت کا زرعی پیداوار، سمندر پار پاکستانیوں کے زرمبادلہ، ماہی گیری اور صنعتی پیداوار پر انحصار ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے ملک میں سبز انقلاب کے عنوان سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تاحال پورے ملک میں بالخصوص صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں ایک اَرب سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔

یوں تو ہر حکومت کے دور میں اس نوعیت کی شجرکاری مہم کے آغاز کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں مگر اس سے زیادہ شمالی علاقہ جات اور صوبہ پنجاب میں جنگلات کی کٹائی کی خبریں بھی عام رہی ہیں۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ سیلابی موسم میں زیادہ جانی اورمالی نقصانات کی بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ دریائی پانی سیلاب کی شکل میں بلارُکاوٹ تیزی سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے، مویشیوں کے بہہ جانے کے واقعات زیادہ سامنے آتے ہیں۔ 

پاکستان کے مسائل زیادہ ہیں۔ کمزور حکمرانی، بدعنوانی، اقربا پروری، غربت میں اضافہ، بنیادی سہولیات کی کمی اوربیروزگاری جیسے مسائل نے عوام کوہلکان کر رکھا ہے۔ قدرتی ماحول میں بگاڑ ہونے اور ماحولیات کو بہتر بنانے آلودگی میں کمی جیسے معاملات کو عوام تک پہنچانے اور اس تمام مسئلے کے بارے میں آگاہی بنیادی معلومات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے۔

ابتدائی جماعتوں کے نصاب میں اس نوعیت کے مثبت مواد کو شامل کیا جائے۔ ماحولیاتی سائنس ایک بہت ہی وسیع اور اہم ترین مضمون ہے۔ مغربی ممالک میں علم ماحولیات کے حوالے سے مختلف شعبے قائم ہیں اور ہر شعبہ کی اپنی افادیت مسلّمہ ہے۔ ان الگ الگ ماحولیاتی شعبوں کے ماہرین ملکی معاشرت، صحت، تعلیم، معاشیات، سیاسیات اور ترقّی میں اپنا اپنا نمایاں کردار سرانجام دے رہے ہیں۔ 

اس کرّۂ اَرض کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ ہم نے سمندر، سمندری حیاتیات، سمندری ماحولیات اور سمندری اسرار پر تاحال کوئی قابل قدر کام نہیں کیا ہے۔ علم ماحولیات میں سمندری علم ایک بہت بڑا مضمون ہے جس پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ بیش تر جزائر اور سمندری ساحلی ممالک میں زمینی زراعت سے زیادہ سمندری خوراک پر تکیہ کیا جاتا ہے۔ دُوسرے لفظوں میں سمندر انسانی اور دیگر حیاتیات کی خوراک کا بہت بڑا وسیع تر گودام ہے۔

پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جن کے پاس ساحل سمندر کی ایک ہزار پچاس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔ اس قیمتی قدرتی تحفے سے مختلف فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی قریب میں ہمارے سمندری علاقے اور ساحلوں کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں اور جائزوں میں یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ ہمارے سمندری علاقے میں واقع ڈیلٹا کے خطّے میں آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

سمندری نباتات، سمندری حیاتیات اور قدرتی ماحول شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ روزانہ ٹنوں کے حساب سے کچرا، آلودہ پانی اور دیگر مواد سمندر بُرد کیا جاتا ہے۔ سمندری حیاتیات پر شدید منفی اَثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دُوسرے لفظوں میں ہم قدرت کے اس عظیم عطیہ سے اپنی معیشت کو بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں، خوراک کی کمی کو دُور کر سکتے ہیں اور ماحول کو خوشگوار بنا سکتے ہیں اس کے برعکس اپنی کوتاہی یا کم علمی کی وجہ سے اس عظیم قدرتی تحفہ کو پامال کر رہے ہیں۔ 

اب تو ماہی گیروں نے بھی اپنی شکایات اور مسائل پر آواز اُٹھانی شروع کر دی ہے۔ پاکستان میں زرعی اجناس کے بعد مچھلی اور دیگر سمندری خوراک ایک اہم ذریعہ ہے۔ بعض مخصوص مچھلیاں بیرون ملک بھجوائی جاتی ہیں جس سے زرِمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اگرحکومت سمندری وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرے تو یہ ایک اہم ذریعہ آامدنی اورخوراک بن سکتا ہے۔ سمندری ماحول کو بہتر بنانا زیادہ ضروری ہوگا۔