آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بظاہر کووڈ 19کے لاک ڈائون والے ماحول سے معمولات زندگی کی طرف واپسی کا سفر ڈھائی ہفتے بعد وطن عزیز میں شروع ہو جائے گا مگر تمام سرگرمیاں احتیاط کے تقاضوں سے مشروط ہوں گی۔ بداحتیاطی یا کسی اور وجہ سے صورت حال میں ابتری کے آثار نظر آئے تو مقامی، صوبائی یا ملکی سطح پر پابندیاں پھر سے سخت کر دی جائیں گی۔ اس اجمال کی تفصیل نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا وہ فیصلہ ہے جس کا اعلان ملک بھر میں کورونا صورتحال کے جائزے کے بعد کیا گیا۔ نوٹیفکیشن سے واضح ہے کہ 15مارچ سے ملک بھر میں تجارتی مراکز اور پارکس کے اوقات کار میں وقت کی پابندی ختم ہو جائے گی۔ میرج ہالز میں تقریبات کے علاوہ مزارات جانے کی اجازت ہوگی، سنیما ہال کھل جائیں گے۔ دفاتر میں 50فیصد اسٹاف کےلئے گھر سے کام کرنے کا آپشن ختم ہو جائے گا ۔عملے کے تمام افراد کو حاضری یقینی بنانا ہوگی۔ 15مارچ سے ہوٹلوں کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت ہوگی تاہم اس حوالے سے 10مارچ کو دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ این سی او سی کا کہنا ہے کہ صحت کے نقطہ نظر سے بلدیاتی اداروں اور کینٹ بورڈ انتخابات کا منصوبہ الیکشن کمیشن کے ذریعے مئی جون 2021ء کے آخر تک بنایا جاسکتا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پی ایس ایل کے پول میچز میں شائقین کی تعداد 20فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کرنے کی بھی اجازت دیدی ہے جبکہ پلے آف میچزمیں 100فیصد شائقین کو سخت کوویڈ ایس اوپیز کے ساتھ شرکت کی اجازت ہوگی۔ یوں شائقین کی زیادہ تعداد کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کا موقع ملے گا۔جہاں تک کورونا سے بچائو کی احتیاطی تدابیر کا تعلق ہے ان کی پابندی دنیا بھر سے کورونا کے خاتمے کے وقت تک تمام معاملات میں کرنے کی ضرورت ہر فرد کو خودبھی یاد رکھنی ہے اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے رہنا چاہئے۔ این سی او سی کے مذکورہ فیصلے کے بعد سماجی ومعاشی زندگی کا پہیہ اگر پوری طرح رواں ہوگیا تو نہ صرف عام محنت کشوں ، کاروباری حلقوں اور پسے ہوئے طبقے کے دوسرے افراد کی کئی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی معیشت میں بھی بہتری آنے کی توقعات ہیں۔ وطن عزیز پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ یہاں کورونا سے اتنے نقصانات نہیں ہوئے جتنے امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں ہوئے ہیں۔ اس کا شکر احتیاط کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے تاکہ ماضی کی طرح کسی نئی لہر سے بچا جاسکے۔عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں پچھلے ہفتے 24لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ سے پیوستہ ہفتے کے دوران وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد سے گیارہ فیصد کم ہے۔ دنیا بھر میں کورونا ویکسین کا استعمال شروع ہونے کے بعد اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ پچھلے ہفتے عالمی سطح پر اموات کی تعداد تقریباً 66ہزار رہی جو گزشتہ سے پیوستہ ہفتے سے 20فیصد کم تھی۔ وطن عزیز میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز 50افراد انتقال کرگئے ۔ 1196نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 74ہزار 850ہوگئی ان میں سے 23ہزار 665ایکٹیو کیسز ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 5لاکھ 39ہزار 207مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقدس مقامات سے لیکر دفاتر، کارخانوں، کاروباری مراکز سمیت تمام مقامات پر احتیاط کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے اور ہر کیٹگری کے لوگ ویکسین کے لئے خود کو رجسٹر کرائیں تاکہ باری آنے پر ویکسین کی خوراک لی جاسکے۔ ویکسین اور احتیاط کے ذریعے ہم ذاتی تحفظ کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ وطن عزیز کو چیلنجوں سے نکالنے کا فریضہ بھی انجام دیں گے۔

تازہ ترین