آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہمارے پیارے پاکستان میں اقتدار کا کھیل بھی بڑا نرالا ہے۔ اس رنگ برنگی سیاست میں ہر روز لگنے والے نئے داؤ پیچ سے ایسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ یا تو حکومت گئی یا پھر اپوزیشن۔ ایک ہم ہیں کہ ہر رات سوتے یہی خوف طاری رہتا ہے کہ پتہ نہیں صبح آنکھ نئے پاکستان میں کھلے گی یا پرانے پاکستان میں۔ ایسے خواب دیکھتے ہیں جو نہ پہلے کبھی پورے ہوئے تھے نہ اب پورے ہونے کی کوئی امید ہے۔ ہماری حیثیت کسی شور زدہ بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے ایسے مسافر کی ہے جو صرف سرخ، پیلی ، سبز بتی کو جلتے بجتے تو دیکھ رہا ہے لیکن آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ بھٹکے ہوئے مسافر کی کوئی منزل نہیں ہوتی، پتلی گلی سے نکلنے والوں کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی۔ بس آنکھیں بند کئے راستے کی تلاش میں اندھا دھند ٹکریں مارتے وقت اور پیسہ ضائع کرتے اسی میں خوش ہیں کہ ” یہ ہمارا پاکستان ہے، یہ ہم ہیںاور یہ ہماری ”پاوری“ ہورہی ہے۔“ نت نئے موضوعات پر ہونے والی یہ پاوری کبھی اقتدار کے ایوانوں میں ہوتی ہے تو کبھی انصاف کے دالانوں میں یا پھر کھلے میدانوں میں لیکن سمجھ کچھ نہیں آتی کہ آخر یہ پاوری کب ختم ہوگی اور کب نئی صبح طلوع ہوگی اور ہم اپنی منزل کو پاسکیں گے۔ کچھ دن پہلے ہماری اپوزیشن پی ڈی ایم احتجاجی تحریک کے نام پر بڑے مولانا صاحب کی پاوری کررہی تھی۔ اب ہم خان اعظم کی سجائی الیکشن پاوری انجوائے کررہے ہیںکہ لینا دینا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ بڑوں کی پاوری میں ہم جیسوں کی حیثیت ایک ویٹر سے زیادہ کچھ نہیں جو پاوری کی اندرونی کہانی کے سب رازونیاز جانتے ہیں کہ آخر کون دل جلا کس پر مر مٹا اور کس کے دل میں حسد کی آگ جل رہی ہے، کون کس سے انتقام لینے پر تلا ہے اور یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اقتدار کی لیلیٰ کے سب دیوانے اسے پانے کی خواہش میں کسی بھی پاوری میں شامل ہونے کو تیار ہیں لیکن ہم کر کچھ نہیں سکتے کہ بڑوں کی پاوری میں بے چارہ عبداللہ دیوانہ کیا کرے؟ پی ڈی ایم کی پاوری کے پس منظر میں سینیٹ، ضمنی انتخابات کے نتائج خصوصاً ڈسکہ میں ہونے والی ہنگامہ خیز پاوری نے داغوں کو ظاہر کرکے ساری تبدیلی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے‘ اسے ہماری خوش قسمتی ہی کہئے کہ سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر نے دوبارہ پولنگ کا اعلان کرکے ہمارا کچھ بھرم رکھ لیا ہے ورنہ حساب چکتا کرنے کا جو منصوبہ بنا تھا یقیناً سینیٹ انتخابات کو بھی بُری طرح متاثر کرسکتا تھا۔ بھلا ہو چودھری برادران کا کہ ان کے سیاسی تدبر، وضع داری کے باعث پنجاب میں سینیٹ انتخابات کے نام پر ہونے والی پاوری دھینگا مشتی اور ممکنہ گھوڑوں کی خریداری روکنے اور تمام پاوریوں کو حصہ بقدر جثہ دلانے میں کامیاب رہی۔ پانامہ کے نام پر برسراقتدار آنے والوں کی پاوری براڈشیٹ پر آکر رکتی ہے اور ڈسکہ ضمنی انتخابات پر ختم ہوتی ہے۔ درون خانہ اس گروپ کی صورت حال کا جائزہ لیں تو نوشہرہ کے چوراہے پر یہ ہنڈیا پھوٹتی ہے۔ پرویز خٹک ہوں یا ان کے چھوٹے بھائی سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک کی لڑائی۔ یہ سب پاوری کے کھیل ہیں کہ جب پرویز خٹک کھلے عام یہ نعرہ مستانہ بلند کریں کہ یہ حکومت میرے سہارے کھڑی ہے اور میں جب چاہوں اسے گرا دوں اور پھر اسی دھمکی کے پس منظر میں نتائج بھی پاوری گروپ کے خلاف آئیں تو کون یقین کرے گا کہ چھوٹے بھائی کی بڑے بھائی سے لڑائی کے باعث تحریک انصاف کا نوشہرہ میں تختہ ہوا اور (ن )لیگ کو بائیس سال بعد اس حلقے میں کامیابی ملی۔ کیا یہ نتائج خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ اگر پاوری گروپ کی سوچ کے برعکس نتائج آئے تو پھر شور مچے گاکہ گدھے گھوڑوں کے مول خریدے گئے۔ بلوچستان میں پاوری گروپ کے اپنے ہی سب سے اہم رکن، صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر، خان اعظم کے معاون خصوصی سردار یار محمد رند جب یہ کہنے پر آجائیں کہ اہم معاملات میں مجھ سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی اور کابینہ کا رکن ہونے کے باوجود خان اعظم مجھے پانچ منٹ ملاقات کا وقت نہیں دیتے اور یہ شکوہ کریں کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بلوچستان سے ناانصافی کی گئی۔ پارلیمانی بورڈ میں بلوچستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیںاور سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے بارے میں کہیں کہ وہ کون ہوتے ہیں اہم معاملات میں فیصلہ کرنے والے اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دیں کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کیا نکلیں گے دوسری طرف اہم اتحادی اختر مینگل قطع تعلق کئے بیٹھے ہوں۔ ندیم افضل چن جیسے مخلص ساتھی خاموش ہوں اور سندھ سے سیف ﷲ ابڑو کی ٹکٹ پر لیاقت جتوئی پینتیس کروڑ کی بولی کا دعویٰ کررہے ہوں اور ایم کیو ایم کے خدشات بھی برقرار ہوں، پرویز رشید جیسے محب وطن سیاسی کارکن سیاست کی دوڑ سے باہر اور فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت کی بنیاد پر نااہلی کیس کے باوجود سرکار کے سر کا تاج ہوںتو پھر یہی کہا جاسکتا ہے، یہ ہمارا پاکستان ہے، یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاوری ہو رہی ہے۔

تازہ ترین