آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا میں قریب آٹھ ارب انسان زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال ہے کہ اس کی زندگی انوکھی ہے۔ اسے جن غموں اور مسرتوں سے پالا پڑ رہا ہے، پہلے کبھی کسی کو نہیں پڑا؛حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے، ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ ہر شخص ماں کی گود ہی میں دوسرے بچوں سے حسد میں مبتلا ہوتاہے۔ ان سے کھلونے چھیننے کی کوشش کرتاہے اور ساری زندگی کرتا رہتاہے۔فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ جب وہ بڑا ہو جاتاہے تو کھلونے کی جگہ زن، زر اور زمین لے لیتی ہے ۔ساری زندگی وہ اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق کرّہ ارض کے وسائل پہ قبضے کی جنگ لڑتا رہتاہے؛ حتیٰ کہ قبر میں جا گرتاہے۔ اس دنیا کا ہر شخص خواہشات کے دبائو میں زندگی بسر کرتاہے، خواہ بادشاہ ہو یا فقیر۔ ہاں، البتہ اللہ کے دوست خدا کی مدد سے ان خواہشات پہ قابو پا لیتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہم کن فتنوں کے زمانے میں پیدا ہو گئے ؟ اس لحاظ سے ہم خوش قسمت ہیں کہ فلکیات اور ارضی سائنسز سمیت بہت سے علوم انتہائی ترقی یافتہ حالت میں ہمیں ورثے میں ملے۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور فاسلز کے علوم کی مدد سے ہم انسان کے تین لاکھ سال ہی نہیں بلکہ کرّہ ء ارض کے ساڑھے چار ارب سال کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ ڈی این اے اور جانداروں کی باقیات (Fossils)کے علوم اب بہت ترقی یافتہ ہیں۔ ان باقیات کی عمر کا اندازہ لگایاجا سکتاہے۔ چند ہڈیوں کی مدد سے کسی بھی جاندار کا خاکہ بنانا ممکن ہے۔ ڈائنا سار ان میں سے ایک ہے۔

یہ علوم ہمیں بتاتے ہیں کہ آج لاکھوں قسم کی مخلوقات زمین پر آباد ہیں۔ انسان ان میں سے صرف ایک ہے۔بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ انسان اپنی عقل اور قوت کے بل پر یہاں زندگی بسر کر رہا ہے۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ عقل سے محروم، محض جبلتوں کے بل پر زندگی گزارنے والے یہ لاکھوں قسم کے جاندار(سپیشیز) بھی ہماری طرح انتہائی کامیابی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی ضروریات کا بندوبست بھی ہماری طرح ہی ہو رہا ہے۔ ہم انسان بظاہر اپنی عقل کے بل پر زندہ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین سے نکلنے والے وسائل پہ ہم منحصر ہیں۔ فرض کیجیے کہ بیج ڈالنے سے بوٹا نہ پھوٹے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ یہ زمین کی خصوصیت تھی کہ پودے اس میں پروان چڑھتے ہیں۔ جانوروں کو ہم کھاتے ہیں اور یہ جانور اپنی نسل بڑھاتے رہتے ہیں۔ زمین کی تہہ سے ہم سونا، کوئلہ، تیل اور لوہا نکالتے ہیں۔ یہ سب ذخائر، یہ سب وسائل اس دنیا میں رکھے گئے ہیں۔ فرض کیجیے کہ زمین کے نیچے لوہا یا تیل موجود نہ ہوتا تو ہم کیا کر لیتے؟ دوسرے جانوروں کی طرح ہم انسان بھی بوڑھے ہو کر مر جاتے۔

ان حالات میں یہ معلوم کرنا زیادہ ضروری ہے کہ ہم یہاں اس زمین پر کیا کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ محض ایک اتفاق تھا کہ ماضی اور حال کی پانچ ارب مخلوقات میں سے ایک دو ٹانگوں والا جانور سر اٹھا کر کائنات اور خود اپنے جسم کے ایٹموں کا جائزہ لینے لگا۔ وہ لباس پہننے اور ٹریفک سگنل بنانے لگا۔آپ بتائیں، کیا یہ اتفاق ہے ؟ کرّہ ارض پہ ایک ایسا جسم ہمیں دیا گیا ہے، جس کی بہت سی خواہشات ہیں۔انہی خواہشات کی تکمیل کی کوشش میں ہم ماں کی گود سے قبر تک کا سفر طے کرلیتے ہیں۔ ان خواہشات کی تکمیل ہمارے بس کی بات نہیں، خواہ ہم بادشاہ ہوں یا فقیر۔ خدا کہتا ہے: انسانوں کے لئے آراستہ کر دی گئی عورتوں، بچّوں، سونے چاندی کے ڈھیروں کی محبت۔۔۔(مفہوم)۔ اور وہ یہ کہتاہے: اور اللہ کے پاس بہتر بدلہ ہے (ان چیزوں سے) مفہوم۔

ان خواہشات کی آخری حد کوئی نہیں۔ سرکارؐکے فرمان کے مطابق، ایک سونے کی وادی کے بعد دوسری کی خواہش۔بادشاہ پڑوسی بادشاہوں کا ملک ہتھیانے کے لئے جنگیں لڑتے ہیں۔ غریب رشتے دار ذرا ذرا سی زمین کے لئے قتل و غارت کرتے ہیں۔انسانی زندگی کی داستان کو اگر چند جملوں میں لکھنا ہو تو یہ کہا جا سکتاہے کہ کچھ چیزوں میں ہمارے لئے کشش رکھ دی گئی ہے اور تمام عمر ہم ان میں اضافے کی کوشش کرتے رہتے ہیں؛حتیٰ کہ موت کا منہ جا دیکھتے ہیں۔شریف خاندان کی طرح جو لوگ اقتدار کی جنگ لڑتے ہیں، وہ بھی دولت ہی کی خاطر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔

فاسلز کی سائنس میں عبرت ہی عبرت ہے۔اس سے ہر چیز کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ فرض کیجیے کہ جو اوزار ہمیں انسانی باقیات کے ساتھ ملتے ہیں، ان میں 28ہزار سال سے قبل کبھی رسّی دریافت نہیں ہوتی تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسّی 28ہزارسال قبل ایجاد ہوئی تھی۔ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے اگر اچانک ڈائنا سار سمیت بہت سے جانداروں کے ڈھانچے دریافت ہونا ختم ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تب کوئی عالمگیر ہلاکت خیزی (Extinction Event)رونما ہوئی تھی، جس نے انہیں ہمیشہ کے لئے ختم کر ڈالا۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں، جو آج کے انسان کے پاس موجود ہیں۔

فلکیات کا علم اب بہت ترقی یافتہ ہے۔ انسان نہ صرف یہ کہ خلا میں دوربینیں بھیج چکا ہے بلکہ ان کی قوت اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انسان کو غور و فکر کے لئے اس نیلے سیارے پر اتارا گیا تھاورنہ اولاد کی حفاظت اور وسائل پہ جنگ تو دوسرے جانور بھی کرتے ہیں۔ پھر ہم اور ان میں کیا فرق؟

تازہ ترین