آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پہلے تو ولادی میر لینن یاد آتے ہیں:

"There are decades where nothing happens and there are weeks where decades happen"

پچھلا ہفتہ ایسا ہی تھا۔ جس میں عشرے برپا ہوگئے۔ راج سنگھاسن ڈول گئے۔ حکمرانوں کے چہرے فق ہوگئے۔ ایسے ہفتے صدیوں کے خلفشار کے بیج بودیتے ہیں۔

پھر اقبال یاد آئے:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

گنتی نے بڑے بڑوں کو تگنی کا ناچ نچادیا۔ دونوں طرف نوٹوں کی گڈیاں اچھالی جارہی تھیں۔ سرکاری خزانے خاص طور پر سندھ کے خزانے کا منہ کھول دیا گیا تھا۔ کسی کا ٹکٹ چل رہا تھا، پارلیمانی جمہوریت کی آخری رسوم ادا ہو رہی تھیں۔ دو خطرناک حد تک بیمار سارے تندرستوں اور ہٹے کٹوں پر غالب آرہے تھے۔روحانی حلقے لرز رہے تھے۔ ایک سید کا بیٹا ضمیر خرید رہا ہے۔ ووٹ جیسی مقدس دستاویز کو مسخ کرنے کے گر بتارہا ہے۔ پھر ملک کے سب سے بالاتر ادارے میں ووٹ ضائع بھی کیے جارہے ہیں۔ ووٹوں کا ضیاع سیدوں کی کامیابی کی سبیل بن رہا ہے۔ وفاداریاں خریدی گئیں۔ پانچ چھ کروڑ سے قیمت زیادہ لگانے کو کہا گیا۔ یہ تو کل کا مورخ بتائے گا کہ 3مارچ کو کل کتنے ارب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو منتقل کیے گئے۔

سرمائے کا یہ برہنہ رقص اس ملک میں ہورہا ہے۔ جہاں شرح نمو صرف ڈیڑھ فیصد رہ گئی ہے۔ جہاں 8 کروڑ 70 لاکھ ہم وطن غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک کروڑ مزید اس لکیر سے نیچے چلے گئے۔ حکومت کچھ نہ کرسکی نہ اپوزیشن۔ عدالتیں صرف تبصرے کرتی ہیں کہ سینیٹ کی سیٹیں اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کے تناسب سے ہونی چاہئیں۔ فیصلے نہیں دیتیں۔ الیکشن کمیشن آزاد ہے، خود مختار ہے۔ کہیں تو چند پولنگ اسٹیشنوں میں دھاندلی کے باعث پورے حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں سارے سمعی، بصری ثبوتوں کے باوجود امیدوار نااہل نہیں ہوتا۔ ادارے کمزور ہوگئے ہیں یا غیر جانبدار۔

اشرافیہ اور انتخابیہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور طاقت کا نام نہاد سر چشمہ عوام صرف تماشائی۔ غلاموں کو صرف تالیاں اور بھنگڑا ڈالنے کی اجازت ہے۔

اس ہفتے میں برپا ہونے والے عشرے خطرے کی گھنٹی بجارہے ہیں۔ ملک میں خلفشار جاری رہے گا۔ تاج اچھالے جاسکتے ہیں۔تخت گرائے جاسکتے ہیں۔ آپ کا میرا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن اس کے نتائج ہمیں ہی بھگتنا ہوں گے۔

میڈیا ہمیں دکھاتا ہے کہ پاکستان میں سارے لوگ بکائو ہیں۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔ میرا آپ کا پورا پاکستان ایسا نہیں ہے۔ عوام کی اکثریت پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتی۔ اسے تو رزق حلال بھی اتنی مشقت سے ملتا ہے کہ وہ حرام رزق کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

انتہائی اہم اور حساس محل وقوع اور 60فیصد نوجوان آبادی والی سرزمین کی اکثریت بہت پر عزم ہے۔ بہت کام ہو رہا ہے۔ درسگاہوں میں تحقیق ہورہی ہے۔ انسانوں کی جبلتوں پر، پہاڑوں پر، خود رو جڑی بوٹیوں پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کا شعبۂ تحقیق انتہائی اہم موضوعات پر ریسرچ کروارہا ہے۔ عالمی جریدوں میں یہ مقالے شائع ہورہے ہیں۔ہماری تحقیق کو بین الاقوامی سند مل رہی ہے۔ عالمی سیمیناروں میں ہمارے اساتذہ شرکت کرتے ہیں۔ ہمارے اہل قلم اعلیٰ شاعری کررہے ہیں۔ افسانے تخلیق ہورہے ہیں۔ ناول لکھے جارہے ہیں۔ اُردو ہی نہیں پنجابی۔ سندھی۔ سرائیکی۔ پشتو۔ بلوچی۔ براہوئی۔ کشمیری۔ بلتی۔ پوٹھوہاری۔ ساری زبانوں میں اعلیٰ ادب جنم لے رہا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ محقق، پروفیسر، شاعر، ناول نویس اور مزاح نگار ہمارے ہیرو نہیں ہیں۔ انہیں تھرکتا میڈیا اپنی اسکرین کے قابل نہیں سمجھتا۔ میڈیا کے ہیرو وہ ہیں جو ووٹ خریدتے ہیں۔ بیچتے ہیں۔ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ دوسری جماعتوں کے ارکان توڑ کر اپنے امیدوار کو کامیاب کرواتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر ہتھیار استعمال کریں گے۔ چاہے وہ لوٹے ہی ہوں۔ لوٹوں کا بڑھ چڑ ھ کر خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ عدالتوں سے اعلان کردہ اشتہاری، مجرم، ملزم میڈیا کے محبوب ہیں۔ سارے سیاسی۔ سماجی۔ معاشی مسائل پر ان سے ہی رائے لی جاتی ہے۔ حالانکہ سیانے بہت پہلے کہہ گئے۔ آزمودہ را آزمودن جہل است۔ اخلاقیات پر درس اخلاق باختہ دیتے ہیں۔

محنت کشوں کے حقوق کے لیے جیلیں کاٹنے والے رائے دینے کے لائق نہیں ہیں۔ مختلف علوم اور فنون میں ریاضتیں کرنے والے اس کے اہل نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں سائنسدان بھی ہیں۔ ریاضی دان بھی۔ جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی۔ ایک بڑی تعداد نوجوانوں کے ولولے بڑھانے والے مقررین کی ہے۔ مگر ان کے چہروں میں کشش نہیں ہے۔ ریٹنگ نہیں بڑھتی۔ خواتین کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کی دُھن میں دشوار، پہاڑی مقامات، صحرائوں اور بیابانوں میں خدمت کرنے والی۔ پولیو کے قطرے پلانے والی۔ مائیں۔ بہنیں۔ ہمیں نظر نہیں آتیں۔ ہر شہر کے اپنے ایدھی ہیں۔ چھیپا ہیں۔ ادیب رضوی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالباری ہیں۔ قرآن پاک کی تعلیمات ، تفاسیر ، احادیث نبویؐ کی تبلیغ میں عمریں گزاردینے والے۔ علمائے کرام ہمارے محترم نہیں ہیں۔وہیل چیئرز بانٹی جارہی ہیں۔ دستر خوان سجائے جارہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کا معاشرہ ان معزز ہستیوں کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے سربراہ۔ ترجمان۔ موجودہ وزراء۔ سابق وزراء تو سب تاریخ کے پہیے کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ بہت سے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی معاشرہ آگے نکل گیا ہے۔ حکومتیں پیچھے رہ گئی ہیں۔

تاریخ ریاستوں کو صرف میڈیا کی آنکھ سے نہیں دیکھتی وہ گلی کوچوں۔ شہر دیہات۔ قصبوں میں بدلتے رجحانات۔ جبلتوں۔ جینے کے انداز کا مشاہدہ کرتی ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں مصروف عمل بے لوث ہستیاں نام و نمود کی خواہاں نہیں ہیں۔ لیکن کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم ان کی روز و شب کی خدمات کی بدولت عام لوگوں کے چہروں پر بکھرتی مسرت سے آگاہ کریں تاکہ لاہور سے کوئٹہ تک ہمارے ہم وطنوں کو اعتماد حاصل ہو۔ کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ اور وہ ان چند خواص کی حرکتوں پر سر جھکاکر دن گزارنے کی بجائے ان خادمانِ خلق کے کارناموں پر سر اٹھاکر چل سکیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین