آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک وہ دنیا ہے، جسے ہم اپنی آنکھ یا دوربین سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک دنیا ہے ہمارے اندر کی۔ اس کو سمجھنا انتہائی مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ تیز رفتار گاڑیوں کے درمیان ایک لڑکا اگلا پہیہ اٹھا کر موٹر سائیکل چلا رہا ہے۔ اسے ہوا کیا ہے کہ اپنی جان دائو پر لگا ڈالی ؟

مغرب کی علمی بالادستی کا ڈھول بہت زور سے پیٹا جاتا ہے ۔اب ایک عجیب رواج شروع ہوا ہے۔ ہمارے کچھ مسلمان پاکستانی بھائی اس غرور کے ساتھ مغربی بالادستی کا جشن مناتے اور مسلمانوں پر تبرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جیسے خود وہ نیوٹن کی نسل سے ہیں۔ 

جیسے وہ اور ان کے آبائو اجداد مشہور کارٹون Dexter کی طرح اپنی خفیہ لیبارٹریز میں ایجادات کرتے رہتے ہیں، جب کہ باقی مسلمان پسماندہ رہ گئے۔ 

مسلمان اگر پسماندہ ہیں تو آپ اور آپ کے ابائو اجداد بھی بدرجہ اتم ان میں شامل ہیں۔ ایسے ہی ایک نابغے نے ایک دفعہ ایک مشہور ٹی وی پروگرام میں یہ کہا تھا کہ پاکستانیوں کے ابائو اجداد چونکہ نچلی ذات کے ہندو تھے؛ لہٰذا جنیاتی طور پر ہم اس قابل ہی نہیں کہ کبھی کوئی قابلِ ذکر سیاسی کامیابی حاصل کریں۔ 

بندہ ان سے پوچھے کہ پھر پاکستان کیسے تخلیق ہوا؟ آپ غور کریں کہ کس قدر شدید احساسِ کمتری ہے۔ مسلمان اگر پیچھے رہ گئے تو کیا ان سب کو اجتماعی خود کشی کر لینی چاہئے یا کوئی اور راستہ بھی موجود ہے؟

ایک مثال سرسید احمد خان کی ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھی تو بجائے مذاق اڑانے کے، ایک یونیورسٹی بنا دی۔ ایک مثال قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کی ہے۔ دونوں لیڈر نوجوانی میں مغرب گئے۔ اس کا مطالعہ کیا اور راستہ نکالا کہ مسلمانوں کو کسمپرسی سے کیسے نکالا جائے۔

دوسری طرف یہ فکری چوہے ہیں، جو اپنے احساسِ کمتری کو تمام مسلمانوں پہ تھوپنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان ترقی کر ہی نہیں سکتے۔ ایک گھر میں فاقوں کی نوبت ہے ۔ 

ایسے میں گھر کا ایک فرد بجائے کوئی نوکری ڈھونڈنے کے، گلی میں کھڑا ہو کر محلے والوں کے سامنے اپنے ہی خاندان کا مذاق اڑانا شروع کر دے۔ وہ انہیں کھینچ کر گھر کے اندر لے آئے کہ زیادہ سے زیادہ تمسخر اڑایا جا سکے ۔

 آپ اتنے ہی بڑے پھنے خان ہیں تو بنائیں کوئی ادارہ، جس میں سائنسی تحقیق شروع ہو۔ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دوسروں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے اپنا منہ ہی بند کرلیں۔

خیر آپ جانوروں سے لے کر کائنات تک مغربی دستاویزی فلموں کا جائزہ لیں۔ آپ کو ایک چیز نظر آئے گی کہ یہ ڈاکومنٹریز "What" کے گرد گھوم رہی ہیں۔ کائنات کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟ یہ کبھی "Why" کی طرف نہیں جائیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ why سے بات پھر خالق کی طرف چلی جاتی ہے۔ خدا کو ماننے کا مطلب ہے کہ اپنی آزادی سلب کروا لینا۔

جبلتوں کے تعامل سے مراد یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ جبلتیں (خواہشات یا رجحانات ) ایک دوسرے کے ساتھ Mix ہو جاتی اور پیچیدہ انسانی و حیوانی رویے کی بنیاد بنتی ہیں۔ سوائے جلیل القدر صوفیا کے، انسانی زندگی مکمل طور پر ان جبلتوں کی پیروی میں گزرتی ہے۔ یہ جبلتیں انسانی بلکہ حیوانی دماغ میں بھی پیدائشی طور پر Built In ہیں۔

خدا نے ہمیں عقل دی۔ اس سے کام لے کر ہم نے مضبوط گھر بنائے اور خوراک ذخیرہ کی۔ یہ سب عقل کے ثانوی فوائد ہیں۔ سب سے بنیادی مقصد، جس کے لیے عقل دی گئی تھی، یہ تھا کہ آدمی کائنات پر غور کر کے خدا کی نشانیوں سے اس تک پہنچے ۔یہ نفس کو بہت ناگوار گزرتا ہے کہ اس کی آزادی سلب ہوتی ہے۔

حبِّ جاہ طاقتور ترین جبلت ہے۔ دوسروں کی تحسین آمیز نگاہوں سے ایک سرور آدمی پر طاری ہو جاتا ہے۔ دماغ میں کیمیکلز خارج ہوتے ہیں ۔اس کے طرزِ عمل میں ایک بناوٹ جنم لیتی ہے۔ اس کے بولنے کا طریقہ مصنوعی ہو جاتا ہے۔ دوسروں کی زیادہ سے زیادہ توجہ پانے کے لیے نواب اسلم رئیسانی کی طرح وہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ چلتی گاڑیوں کے درمیان موٹر سائیکل کا اگلا پہیہ اٹھا لیتا ہے۔

یہ وہ چیز ہے کہ جہاں وہ اپنی جان کے خوف پر بھی غالب آجاتا ہے، حالانکہ جان کا خوف زیادہ طاقتور اور بنیادی جبلت ہے۔ اسی کی بنیاد پر زندگی قائم ہے۔ حب جاہ اس بنیادی ترین جبلت کو بھی پچھاڑ دیتی ہے۔ موٹر سائیکل کا پہیہ اٹھا کر چلانے کی خواہش میں صرف حبِ جاہ ہی نہیں بلکہ دیگر جبلتیں بھی تعامل کرتی ہیں۔ 

جب وہ یہ سوچتا ہے کہ خواتین بھی اس سے متاثر ہوں گی تو حبِ جاہ کی جبلت مخالف جنس میں کشش کی جبلت کے ساتھ تعامل کر جاتی ہے۔ یوں یہ دونوں مل کر اپنی جان سے محبت کی جبلت اور عقل پہ غالب آجاتی ہیں۔

کئی جبلتیں جب تعامل کر جائیں تو انسان بیٹھ کر یہ سوچنا شروع کر دیتاہے کہ میں فلاں کارنامہ سرانجام دے رہا ہوں اور سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں ،حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے ۔جبلتوں کا تعامل! یہ وہ چیز ہے، جو کسی اسکول اور مدرسے میں پڑھائی نہیں جا رہی۔مشرق میں او رنہ مغرب میں ،حالانکہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اسی کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔

جو لوگ آپ سے یہ کہتے ہیں کہ مسلمان کبھی کچھ نہیں کر سکتے، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آپ دماغ استعمال کرنا شروع کریںتو سب کچھ کر سکتے ہیں ۔وہ مسلمان ہی تھے، جنہوں نے بھارتی اور روسی جنگی جہاز گرا دیے تھے ۔

تازہ ترین