آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ )

انٹرنیشنل ہوٹل کی وجہ سے لاہوریئے ہپیوں سے متعارف ہوئے ان دنوں بے شمار ہپی لاہور کی سڑکوں پر عجیب و غریب حلیے میں گھومتے رہتے تھے۔ لاہوریئے ان پر آوازیں بھی کسا کرتے تھے۔ اس ہوٹل کا سوئمنگ پول دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کبھی ہم بھی وہاں جایا کرتے تھے۔ کیا مزے کا کلب سینڈوچ ہوتا تھا۔ انٹرنیشنل اور ایک اور ہوٹل دو بھائیوں کی ملکیت تھے یہ ہوٹل روزنامہ جنگ کے آفس کے قریب تھا۔ اس میں کبھی پی آئی اے کارگو آفس بھی تھا۔ اس سڑک پر رات کو ہو کا عالم ہوتا تھا اس کے قریب ہی ڈیورنڈ روڈ پر برصغیر کے دو تاریخی تعلیمی ادارے کانوینٹ آف جیسز اینڈ میری اور کوئین میری اسکول و کالج واقع ہیں۔ اس کوئین میری کالج میں پانچ مزار بھی ہیں۔ لاہور کے کئی تعلیمی اداروں میں مزارہیں۔ ان دونوں تعلیمی اداروں کا فن تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئین میری اسکول ہی میں لیڈی شہاب الدین کا بڑا خوبصورت محل ہے۔ جو پرنسپل کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ اسکول و کالج کو کبھی پردہ کالج بھی کہتے تھے۔ آج بھی انگریزوں کے دور کی لکڑی کی جالیاں اور لال اینٹ کی جالیاں پردے کے لئے لگی ہوئی ہیں۔ اس کالج کی بیک سائیڈ پر بی بی پاک دامناںؒ کے مزار ہیں۔

کبھی لاہور کی ایلیٹ کلاس انٹرنیشنل اور ان دو ہوٹلوں میں اپنی شادیاں کرنا باعث فخر سمجھتی تھیں کوئین میری اسکول و کالج کے ساتھ یہاں ممتاز دولتانہ کا دولتانہ ہائوس تھا۔ آج اس کا نام و نشان نہیں۔ ہم نے 1981ء میں میاں ممتاز دولتانہ کا انٹرویو اسی دولتانہ ہائوس میں کیا تھا۔ دولتانہ ہائوس کے لان میں فوارے تھے‘ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ اب ڈیوس روڈ کے ساتھ حیب ﷲ روڈ پر صرف ممدوٹ ولا رہ گیا۔ یہاں قائداعظمؒ کے بیڈز اور ان کے زیر استعمال کمرے اورکچھ فرنیچر موجودہے۔ یہ ممدوٹ ولا بھی پتہ نہیں کب ختم ہو جائے۔کبھی لاہور ہوٹل بھی بڑا تاریخی تھا۔ اب وہاں موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ ہے۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ اس لاہور کا حلیہ بگاڑ دیں گے۔ کبھی آپ کو ایمپریس روڈ کے گرجا گھروں اور مجیٹھیہ ہال کا بھی حال بتائیں گے۔

اندرون لاہور کی ہر گلی محلہ، کٹڑی احاطہ اور حویلیاں ایک تاریخ رکھتی ہیں۔ یقین کریں اگر کوئی لاہوریا یہ کہے کہ اس نے اندرون لاہور کی ہر گلی محلہ، بازار اور حویلی کو تفصیل سے دیکھا اور اس کے بارے میں جانتا ہے تو یہ بات درست نہیں ہو گی۔

سوہا بازار، ڈبی بازار، موتی بازار، گمٹی بازار، کسیرا بازار اور کشمیری بازار یہ سب ایک تاریخ رکھتے ہیں۔گمٹی بازار یا گمتی بازار یا گومتی بازار میں ہندو بہت رہتے تھے۔ گمتی بازار میں ہندوئوں کے مندر وغیرہ تھے۔ بھارتی اداکار اوم پرکاش کی جائے پیدائش بھی اسی علاقے میں تھی بلکہ مشہور مصور عبدالرحمٰن چغتائی بھی اس علاقے میں رہتے تھے۔ لاہور میں کبھی بائولی کنویں بھی ہوتے تھے۔ جہاں کبھی حضرت میاں میر سرکارؒ بھی آرام فرمانے جایا کرتے تھے۔ ایک بائولی کنواںیہاں بھی تھا۔

بائولی کنویں کے اردگرد کمرے ہوتے ہیں جو پانی کی سطح تک چلے جاتے ہیں اور کبھی ان بائولیوں میں زیر زمین راستے ہوتے تھے۔ جس طرح وکٹوریہ ہائی اسکول (حویلی نونہال سنگھ) میں ایک زیر زمین راستہ شاہی قلعہ تک جاتا ہے۔ اس راستے کا دروازہ ہم نے کبھی دیکھا تھا۔ اب بند کر دیا گیا ہے۔ بائولیاں کیا ہوتی ہیں ان پر پھر بات کریں گے۔ شیر شاہ سوری نے لاہور کی جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) پر بے شمار بائولیاں بنائی تھیںجہاں مسافر اپنے جانوروں کے ساتھ آرام کیا کرتے تھے۔ جہانگیر کے دور میں بھی بائولیاں تعمیر کی گئی تھیں وکٹوریہ اسکول کا شیش محل دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ آج سے چند برس قبل جب بسنت کو ایک فیسٹیول کا رنگ دیا گیا تو جنگ گروپ نے ہی پہلی مرتبہ حویلی نونہال سنگھ میں بسنت کو ایک نئے انداز میں منانے کا آغاز کیا۔ اس بسنت کو دیکھنے کے لئے لوگ پاکستان کے دوسرے شہروں کے علاوہ دوسرے ممالک سے بھی آئے تھے۔ تین سال تک بسنت کا تہوار اس جگہ ہمارے توسط سےہوتارہا۔ اس کے بعد بسنت کا یہ تہوار جنگ گروپ ہی نے ہمارے توسط سے حویلی دھیان سنگھ (گورنمنٹ کالج چونا منڈی، کبھی اس کا نام گورنمنٹ نواز شریف کالج چونا منڈی بھی رہا ہے یہ لڑکیوں کا کالج ہے۔ کسی زمانے میں ہم نے بطور وزٹینگ استاد کے یہاںدو سال تک پڑھایا بھی ہے۔)میں بسنت کا تہوار بڑے خوبصورت اور اچھے انداز میں میں متعدد مرتبہ منایا۔ یہ ایک بڑا اچھا تہوار تھا۔ اس کو خراب اس وقت کیا گیا ۔ جب ڈور اور مانجھا بنانے والوں نے اس میں شیشے اور لوہے کا آمیزہ شامل کر لیا جس سے لوگوں کی گردنیں کٹنا شروع ہو گئیں اور کئی افراد اس خونی ڈور کا شکار ہو گئے۔ خیر اب تو بسنت کے تہوار پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔

کسی دور میں ہفتے کی رات اور اتوار کی صبح کو اندرون شہر کاآسمان پتنگوں سے بھر جاتا تھا۔ پھر لائوڈ اسپیکر پر بوکاٹا اور مخالف کی پتنگ کٹ جانے پر نعرے بازی ہوتی تھی۔ چھتوں پر ڈھول والے بھی بٹھائے جاتے تھے۔ پھر بسنت میں ایک خراب روایت یہ بھی آ گئی کہ مخالف کی پتنگ کٹ جانے پر ہوائی فائرنگ شروع کر دی گئی آہستہ آہستہ لاہوریوں نے اس خوبصورت تہوار کو تباہ و برباد کر دیا، اس تہوار سے وابستہ سات مختلف اقسام کے کاروبار تھے جو سب کے سب ختم ہو گئے۔ آج سے ستر برس قبل تک بسنت کا یہ میلہ حضرت مادھو لال حسینؒ اور شالامار باغ کے نزدیک اور اندر بھی لگا کرتا تھا۔ حضرت مادھو لال حسینؒ کا یہ شعر مشہور ہے؎

رت آئی بسنت بہار دی

سانوں سک ہے مادھو یار دی

(جاری ہے)

تازہ ترین