مصنوعی ذہانت کن صلاحیتوں کی جگہ نہیں لے سکتی؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت کن صلاحیتوں کی جگہ نہیں لے سکتی؟

کووِڈ-19 کا بحران انسانی معاشرے میں متعدد تبدیلاں لانے اور تبدیلیوں کو تیز کرنے والا ہے۔ خاص طور پر ، اس وَبائی مرض سے چوتھے صنعتی انقلاب میں نمایاں طور پر تیزی آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے لوگوں کو گھر پر رہنے اور انفیکشن کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے دوسروں سے رابطے کو کم سے کم کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں ’کانٹیکٹ لیس ٹیکنالوجی‘ کا فروغ اور بھی زور پکڑ لے گا۔

وہ ٹیکنالوجیز، جن کے تیزی سے فروغ پانے کی توقع ہے، ان میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن (ڈی ایکس) بشمول آن لائن کانفرنسنگ، ورچوئل رِیالٹی اور آگمنٹڈ ریالٹی (وی آر اور اے آر)، روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ، ڈرون اور خود کار ڈرائیونگ شامل ہیں۔ چوتھے صنعتی انقلاب کے باعث ہی ان تمام ٹیکنالوجیز نے تیز رفتار ترقی کی ہے۔

کوروناوائرس بحران کی وجہ سے چوتھے صنعتی انقلاب کی اس تیز رفتار کے اثرات کیا ہیں؟

بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہوگی کیونکہ بحران کے باعث روبوٹکس ، مصنوعی ذہانت، ڈرون اور خودکار ڈرائیونگ کی ٹیکنالوجیز معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ یہ انقلاب مختلف پیشوں میں بہت سے کارکنوں سے نوکریاں چھین لے گا۔

وہ لوگ جو ہاتھ سے کام کرنے میں مصروف ہیں، ان کی جگہ روبوٹ ، ڈرون ، اور خود کار ڈرائیونگ جیسی ٹیکنالوجیز لےسکتی ہیں، وہ اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے۔ تاہم ، یہ لوگ ہاتھ سے مزدوری کرنے میں زیادہ اعلیٰ درجے کی مہارتیں سیکھ کر نئی ملازمتیں حاصل کرسکتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر ان کی ملازمتیں بالکل ختم بھی ہوجائیں۔ چوتھے صنعتی انقلاب کا ایک قدرے زیادہ سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ افراد جو پہلے ’نالج اکانومی‘ کے ساتھ منسلک تھے، ان لوگوں کی نوکریاں بھی تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کو خاص طور پر دو پیشوں میں انسانوں پر فوقیت حاصل ہوگی۔ 1) پیشہ ورانہ علم، اور 2) منطقی سوچ کی بنیاد پر فیصلے کرنا۔ یہاں تک کہ وکلا ء، اکاؤنٹنٹ، ڈاکٹر، فارماسسٹ اور دوسرے پیشے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چوتھے صنعتی انقلاب کی تیزرفتاری کے پیش نظر آنے والے برسوں میں ہمیں کس قسم کی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہئے؟ اور اقوام اور کاروباری اداروں کو انسانی وسائل کی ترقی میں کن صلاحیتوں پر توجہ دینی چاہئے؟

ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس اور عالمی ایجنڈا کونسل میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں اگرچہ بحث و مباحثے کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے ، تاہم بہت سارے ماہرین ان تینوں اعلیٰ صلاحیتوں پر متفق ہیں جن کا مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے متبادل نہیں بنایا جاسکتا: مہمان نوازی (ہاسپیٹلٹی)، نظم و نسق (مینجمنٹ) اور تخلیقی صلاحیتیں (کریٹویٹی)۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ تیزی سے ترقی پذیر آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجیز ابتدائی سطح پر ان تین انسانی صلاحیتوں کی جگہ لینے والی ہیں۔ لہٰذا، ہمیں ان شعبہ جات میں مزید نفیس صلاحیتوں کو حاصل کرنے اور انھیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعی ذہانت ان کی جگہ نہ لے سکے۔

مہمان نوازی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بآسانی زبانی مواصلات پر مبنی یکساں معیاری خدمات، جیسے استقبالیہ اور معلوماتی خدمات کو اپنی جھولی میں ڈال سکتی ہے۔ اس وجہ سے انسانوں کو مہمان نوازی کی اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

سب سے پہلے غیر زبانی رابطہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرناہے۔ دوسرے لفظوں میں ، ہمیں صارفین کی خاموش آواز سُننے ، ان کے احساسات کو سمجھنے اور الفاظ سے ماورا ہونے والے پُرتپاک جذبات سے گفتگو کرنے کی اپنی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔ دوسرا، گاہکوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ یہ سب سے اہم قابلیت ہے جو ہمیں اعلیٰ سطح پر اپنی غیر زبانی رابطے کی مہارت کو استعمال کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کبھی ان دو ہنروں کی جگہ نہیں لے سکتی۔

مزید برآں، جہاں تک مینجمنٹ کا تعلق ہے، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی فنانشل مینجمنٹ، مٹیریلز مینجمنٹ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور پروجیکٹ مینجمنٹ جیسے شعبہ جات میں انسانوں کی جگہ لے لے گی ، جہاں توقع ہے کہ ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں انسانی صلاحیتوں کو مات دے دیں گی۔ اس سے لوگوں کو مینجمنٹ کے مزید جدید کاموں کی طرف راغب کیا جائے گا، جن کی جگہ AI نہیں لے پائے گی۔ مندرجہ ذیل دو صلاحیتیں اس شعبے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

سب سے پہلے گروتھ مینجمنٹ کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ یہ ادارے کے ارکان کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ طور پر ترقی کرنے میں مدد دینے کی صلاحیت ہے اور اس کی بنیاد کوچنگ کرنے کی اہلیت پر مبنی ہے۔ دوسری صلاحیت، مائنڈ مینجمنٹ کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ صلاحیت، ادارے کے ارکان کو مشکل حالات میں ان کی بحالی میں مدد کرنے کی اہلیت ہے، جب وہ باہمی تعلقات یا دیگر مسائل سے پیدا ہونے والے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس صلاحیت کی بنیاد مشورے کی مہارت (کونسلنگ اِسکل) پر ہے۔یہ دونوں ایسے ہنر ہیں جن کی جگہ کبھی بھی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نہیں لے پائے گی اور مستقبل کی ’ایڈوانسڈ نالج سوسائٹی‘ میں کام کرنے کے لیے منیجرز اور قائدین کے لئے یہ انتہائی اہم ہوں گے۔

تخلیقی صلاحیتوں (کریٹیویٹی) کے بارے میں یہ کہنا ہی کافی ہوگا کہ AIٹیکنالوجی کبھی بھی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل شخص (جینئس) کا متبادل نہیں بنا پائے گی: جیسے جدید ٹیکنالوجی اور منفرد ڈیزائن کے مؤجد۔ تاہم ، ایسی صلاحیتیں زیادہ تر افراد کی رسائی سے باہر ہیں۔

تخلیقی صلاحیتوںسے کیا مراد ہے، جن کا مظاہرہ مصنوعی ذہانت کے دور میں کیا جاسکتا ہے؟ سب سے پہلے اجتماعی ذہانت کے انتظام (کلیکٹیو انٹیلی جنس مینجمنٹ) کو انجام دینے کی صلاحیت ہے۔ یہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کی اہلیت ہے کہ وہ ادارے کی ٹیم کو ساتھ ملا کر اپنے علم و حکمت کو بانٹنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرے اور اس سے پیدا ہونے والے نئے علم و دانش کے ظہور میں آسانی پیدا کرے۔

اس ہنر کا عملی اظہار کرنے کے لیے دو چیزیں اہم ہیں؛ اوّل، ایک ایسے وژن کو اپنی ٹیم کے سامنے پیش کرنا جو کہ ان میں مزید کام کرنے کی لگن اور جذبہ پیدا کرسکے۔ دوئم، اپنی ٹیم کے ارکان کی انا کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ اس سلسلے میں ایک ایسے فورم کی تشکیل معاون اور مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جہاں ٹیم کے ارکان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکیں۔

در حقیقت ، جو تخلیقی صلاحیتیں کارپوریٹ دنیامیں واقعتاً مطلوب ہوتی ہیں، ان میں نئے آئیڈیاز کی تجویز پیش کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ شامل ہوتا ہے۔ اس کے لئے دو دیگر صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہے جن کی جگہ کبھی بھی AIٹیکنالوجی نہیں لے سکتی: اجتماعی ذہانت کے انتظام کو انجام دینے کی صلاحیت اور کسی ادارے میں نئے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت۔

خدشہ ہے کہ اس شدید بحران اور تیز رفتار انقلاب کے نتیجے میں آنے والے برسوں میں بہت ساری نوکریوں کا خاتمہ ہوگا ، اور یہاں تک کہ انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ جب تک کہ ممالک اور کاروباری افراد، دونوں ہی اپنے شہریوں اور ملازمین کو ان صلاحیتوں کے حصول کے لیے پوری مدد فراہم نہیں کریں گے ، تب تک ہم بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے آنے والے دور سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔