آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لگتا ہے کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، اسد عمر


وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لگ ایسا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برطانوی کورونا وائرس ’اسٹرین‘ کے اثرات ہیں، یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہلک ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی کورونا اسٹرین زیادہ مہلک ہے اس سے اموات کی شرح بھی زیادہ ہے، ویکسینیشن کورونا وبا کا طویل مدتی حل ہے۔


وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن کرائیں، ویکیسینشن کے لیے آئیں، ابھی تک 60 سال سے زائد عمر کے صرف 60 فیصد افراد رجسٹر ہوئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت میں کورونا ویکسین کی دستیابی ہم سے زیادہ ہے، لیکن وہاں کی ایک فیصد س بھی کم آبادی کی ویکسینیشن ہوئی ہے۔

اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس زیادہ ویکسین موجود ہیں اور لوگ ویکسینیشن کے لیے آ رہے ہیں، ابھی تک کورونا وائرس کے ساڑھے 3 لاکھ ڈوسز استعمال ہوئے، ویکسینیشن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں، پھر سمجھنے لگے کہ شاید کورونا کوئی چیز نہیں ہے، 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو کورونا ہوجائے تو نتائج سنگین ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ پہلے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین دینا چاہتے ہیں، مزید ایک ہفتے سے 10 دن دیکھتے ہیں، اس کے بعد 50 سال تک کے لوگوں کو ویکسین دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ60، 70 فیصد لوگوں کو ویکسین دیں، بھارت سے جون تک 1 کروڑ 70 لاکھ ڈوسز لانے کا کہا گیا تھا، اب یہ تعداد 10 لاکھ کم بتائی جارہی ہے۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ 3 کروڑ لوگوں کے لیے ویکسین خریدیں گے، ایک کمپنی کو ویکسین کا آرڈر دیا ہے دوسری کمپنی کو بھی دیں گے، مارچ یا اپریل تک ویکسین آنا شروع ہوجائیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کورونا پر سیاسی بیان نہ دیا جائے، ویکسین خریدنا صوبوں کی ذمےداری ہے، وفاق اپنی ذمےداریوں سے بڑھ کر حصہ ڈال رہا ہے، سندھ حکومت کے فیصلے سیاست کی بنیاد پر ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ پہلے دن سے وزیراعظم عمران خان کا موقف تھا اپوزیشن کو احتجاج سے نہیں روکیں گے۔

قومی خبریں سے مزید