آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مہنگائی اور غربت کی شرح معلوم کرنے کیلئے سی پی آئی باسکٹ کے اعداد و شمار از سر نو متعین کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مہتاب حیدر) حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ایک طاقتور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے بعد آنے والی مہنگائی اور غربت کے تخمینوں کا جائزہ لینے کیلئے مختلف اشیاء کی قیمتوں کا از سر نو تعین کیا جائے گا۔ یہ بات ایک سینئر عہدیدار نے اتوار کو دی نیوز کو بتائی۔ یہ طاقتور کمیٹی شہری اور دیہی علاقوں میں پائی جانے والی مہنگائی کا علیحدہ جائزہ لینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) باسکٹ میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں کے از سر نو تعین کے نتیجے میں امکان ہے کہ غربت کی سطح میں کسی حد تک کمی آئے گی جس سے پی ٹی آئی حکومت کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ نون لیگ کی حکومت مین بہتر میکرو اکنامک اعداد و شمار اورر جی ڈی پی میں افزائش کی وجہ سے غربت کی شرح میں کمی آئی تھی۔ حکومت آئندہ بجٹ سے قبل اقتصادی سروے میں غربت کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار جاری کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ 2015 تا 2016 اصر 2017 تا 2018 میں نون لیگ کی حکومت تھی تاہم اس حکومت کے اعداد و شمار 2018-19ء میں جمع کیے گئے جس سے پی ٹی آئی یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ غربت میں کمی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت یعنی 2018-19ء میں آئی تھی۔ کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر مہنگائی کا تخمینہ آخری مرتبہ 2007-08ء میں لگایا گیا تھا تاکہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں کا تعین کرکے غربت کی شرح معلوم کی جا سکے اور کمیٹی نے تازہ ترین تخمینے پرانے اعداد و شمار کے مطابق لگائے تھے۔ لیکن اب یہ طے کیا گیا ہے کہ غربت کے تازہ ترین اعداد و شمار معلوم کرنے کیلئے 2007-08ء سے 2016-17ء کے پرانے اعداد و شمار کی بجائے نئے اعداد و شمار طے کیے جائیں۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد، ڈاکٹر عالیہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے حوالے سے سروے (ایچ آئی ای ایس) کی بنیاد پر غربت کے تخمینے طے کرے گی۔ اس کمیٹی کو 2015-16ء کے اعداد و شمار (24.3؍ فیصد) پر نظرثانی کرنا ہوگی اور اس کیلئے کمیٹی کو کنزیومر پرائس انڈیکس بیسڈ باسکٹ کی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ تازہ ترین سی پی آئی باسکٹ کی وجہ سے غربت میں معمولی کمی واقع ہوگی اور پالیسی سازوں کیلئے عوام کو یہ بتانا باعث ہزیمت ثابت ہو سکتا ہے کہ جب ملک پر کورونا نے حملہ کیا اس وقت مہنگائی میں کمی آئی۔

اہم خبریں سے مزید