• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ کے انتخابات میں پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی نے اپنا انتہائی موثر کردار ادا کرتے ہوئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو کسی ممکنہ سبکی سے بچا لیا ہےوہاں پر ساتھ ہی چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کے تعاون سے اپنی جماعت کے کامل علی آغا سینیٹر بھی بنوا لیا ہے حالانکہ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے پاس پنجاب اسمبلی میں بہت کم نشستیں ہیں۔ یوں چوہدری پرویز الہی نے ثابت کیا کہ وہ سیاسی بصیرت سے رکھتے ہیں اور انہیں معلوم ہے درمیانی راستہ نکالنا ہی اصل سیاست ہے۔ 

دوسری جانب حکومتی اتحاد قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود حفیظ شیخ کو سینیٹر نہ بنوا سکا جسے سیاسی ناکامی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ جبکہ یوسف رضا گیلانی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اکثریت میں نہ ہونے کے باوجود مشترکہ امیدوار کے طور پر اسلام آباد کی سینیٹ کی نشست لے اڑے مگر وزیراعظم عمران خان کے اتحادیوں نے جیسے تیسے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں صادق سنجرانی کو کامیاب کروا کے اپنی اس شکست کا بدلہ لے لیا ہے مگر سینیٹ کے اس انتخاب نے حکومت کی چولیں ہلا دی ہیں اور آگے چل کر اگر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اعلیٰ عدلیہ میں اپنا کیس پراثر انداز میں پیش کر پائے تو پھر صادق سنجرانی کی فتح شکست میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے جو حکومت کے لئے زیادہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر نے ایسے سات ووٹ کیوں مسترد کر دیے جو درست تھےحالانکہ ماضی میں ایسے ووٹوں کو درست قرار دیا جا چکا ہے۔ 

صوبائی دارالحکومت لاہور میں سیاست میں ایک نئی تبدیلی آئی ہے ایک طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز شریف کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں اور ان کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو ویڈیو بیان جاری کرنا پڑا جس میں میاں نواز شریف نے براہ راست وزیراعظم عمران خان اور حساس ادارے کی تین سرکردہ شخصیات کو متنبہ بھی کیا مگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی دیگر قیادت کی طرف سے ان دھمکیوں پر کوئی قابلِ ذکر ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کا ’’احترام‘‘ ہو یا پھر کسی نے ان مبینہ دھمکیوں کو قابلِ توجہ ہی نہ جانا ہو مگر ایک بات واضح ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مشکلات میں مستقبل قریب میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ 

دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف و مرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) حمزہ شہباز ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں جس سے مسلم لیگ (ن) نے قدرے سکھ کا سانس لیا ہوگا مگر قومی احتساب بیورو نے مریم نواز شریف کی ضمانت کی منسوخی کے لئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ مریم نواز شریف ضمانت سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ 

یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے یقیناً کوئی حوصلہ افزا بات نہیں ہے۔ خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے لئے فکرمندی کی بات ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے مریم نواز شریف اپنے پراثر سیاسی کردار اور سرگرمیوں سے حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں اگرچہ پی ڈی ایم کی قیادت مولانا فضل الرحمٰن کر رہے ہیں۔

مگر مریم نواز نے پی ڈی ایم میں اپنا کردار بڑے اچھے انداز میں نبھایا ہے۔ ملک کے سب سے بڑےصوبے پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تقریباً پونے تین سال قبل اپنے قیام سے لے کر اب تک بیورو کریسی کو اپنے ساتھ ایک پیچ پر نہیں پائی جس سے حکومت کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہونا ایک قدرتی امر ہے مگر بیورو کریسی کی اس ناقص کارکردگی کی ذمہ داری بھی براہ راست حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو جب اپنی کارکردگی کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی پالیسیوں پر غور کرنے کی بجائےاور اپنی پالیسیوں کو درست کرنے کی بجائے سارا ملبہ بیورو کریسی پر ڈال دیتی ہے۔ 

خاص طور پر اعلیٰ بیورو کریسی کو تبدیل کر دیا جاتا ہے جس سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور پالیسی سازی میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ کوئی بھی محکمہ یا ادارہ قابلِ تحسین کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ تقریباً ہر ادارہ اور محکمہ میں نچلی سطح پر بدعنوانی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا دبائو آخر میں حکومت پر ہی آتا ہے۔ اس حوالے سے نمبر بنانے کی بجائے گورننس کے میکنزم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ محکموں اور اداروں کے ماحول کو عوام دوست بنایا جا سکے۔پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر حکومت نے ماضی قریب میں آنے والی دو لہروں کو سامنے رکھ کر کوئی قابل ذکر پالیسی سازی نہیں کی۔ 

حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ایک پورا تعلیمی سال دائو پر لگ گیا ہے اور اب حکومت یہ بھی عذر نہیں کر سکتی کہ یہ وباء اچانک آئی اور نئی ہے اس لئے کوئی پالیسی سازی نہیں کی جا سکی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں بھی سمارٹ لاک ڈائون کا طریقہ اختیار کرے اور تعلیمی اداروں کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی ویکسینیشن کروائے تاکہ تعلیمی اداروں کو کھلا رکھا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں بھی کورونا وائرس کی لہریں آتی رہیں گی اور ان سے بچائو کا مئوثر طریقہ ویکسینیشن ہی ہوگا۔ 

لہٰذا اگر حکومت تعلیمی اداروں کو کھلا رکھنے میں سنجیدہ ہے تو پھر اس پر کوئی قابل عمل ایسی پالیسی بنائی جائے (تاکہ پاکستان جو کہ تعلیمی میدان میں پہلے ہی بہت پیچھے ہے)جس سےتعلیمی ادارے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اگر حکومت نے اس طرف فوری توجہ نہ دی تو تعلیمی نظام مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید