• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور روس کے صدور کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی

امریکی صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں ایک بیان میں روسی صدر ولادی میر پیوتن کو قاتل کہہ دیا۔ اس کے فوری بعد روسی صدر پیوتن نے بھی جواب دیا کہ ’’لوگ ہر ایک کو اپنے جیسا ہی تصور کرتے ہیں‘‘۔ اس کے فوری بعد عالمی میڈیا دونوں بڑی طاقتوں کے سربراہوں کے ایک دوسرے کیلئے تلخ جملوں کے استعمال کرنے پر گرما گرم بحث و مباحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ زیادہ تر افراد کی ہمدردیاں روسی صدر پیوتن کے ساتھ محسوس ہوتی ہیں۔ 

ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی اپنے حالیہ بیان میں امریکی صدر کے روسی صدر کے لئے ریمارکس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریمارکس بڑی شخصیت کے شایان شان نہیں امریکی صدر کو ایسا کہنا نہیں چاہئے تھا۔ عام لوگوں نے بھی اس معاملہ میں اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح کے رہنمائوں کو اس نوعیت کے بیانات زیب نہیں دیتے۔ ان شخصیات کو ہر لفظ سوچ سمجھ کر ادا کرنا چاہئے۔ 

تاہم ایسے میں زیادہ ہمدردی روسی صدر پیوتن کے حصے میں آئی ہے کیونکہ پہل جوبائیڈن کی طرف ہوئی تھی۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ امریکا اور روس کتنے پاس اور کتنے دور ہیں۔ ہر دو جانب کس طرح کے جذبات اور احساسات پائے جاتے ہیں۔ بیشتر مبصرین کو اس پر حیرت ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن 78 برس کے ہیں۔ سیاست، سفارت اور خارجہ امور کا بہت وسیع تجربہ رکھتے ہیں کیا ایسا شخص بھی اتنا جذباتی اور منہ پھٹ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف روسی صدر پیوتن بھی بہت تجربہ کار اور عالمی سیاسی معاملات کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں مگر جملہ ان پر کسا گیا اور انہوں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دے دیا۔

امریکی صدر جوبائیڈن سے اس اچانک مسئلہ پر سی این این سمیت دیگر بڑے میڈیا ہائوس نے بھی سوال کیا کہ کیا آپ نے ایسا کیا؟ تو انہوں نے حامی بھرتے ہوئے جواب دیا کہ کہا۔ گویا جوبائیڈن کو اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔ تاہم یہ ان کی سوچ ہے۔ دراصل ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما ہیری کلنٹن جب سابق صدر ٹرمپ کے مقابل صدارتی امیدوار تھیں۔ 

اس موقع پر انہوں نے روسی صدر پر الزام لگایا تھا کہ انہیں انتخابات میں ہرانے کیلئے میرے نتائج میں ہیکرز کے ذریعے ردوبدل کرایا گیا ہے۔ یہ معاملہ خاصا دیر تک چلا مگر روس نے ان الزامات کو رد کر دیا تھا۔ درحقیقت 2014ء میں روس کی یوکرین میں مداخلت کے بعد امریکا اور روس کے تعلقات میں سردمہری اور تلخی نمایاں ہوئی۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ یوکرین میں جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن اپنی اہم خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ 

سابق صدر ٹرمپ نے ان کی تصاویر اور کچھ معاملات اپنے طور پر حاصل کر کے جوبائیڈن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روسی صدر کی ہمدردیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تھیں ان معاملات میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے یہ معلوم کرنا قدر ے مشکل ہے۔ سابق سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد امریکا نے دسمبر1991ء میں روس کو تسلیم کرکے از سرنو سفارتی تعلقات قائم کئے تھے اس کے بعد سے روس اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات ہرسطح پر مستحکم ہوتے رہے۔ مگر 2014ء کے بعد دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات میں تلخی شامل ہوتی چلی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ سپر پاور امریکا بتدریج اپنی قوت اور سحر کھو رہا ہے۔ روس دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ عوامی جمہوریہ چین کے پر لگ گئے ہیں اور وہ پرواز کر رہا ہے۔ یہ تجزیہ ایک حد تک درست کہا جا سکتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ امریکا آج بھی روس کو اپنا بڑا حریف تصور کرتا ہے وہ چین کو دوسرے درجہ پر رکھتا ہے کیونکہ روس کے پاس جدید ٹیکنالوجی، فلائی ٹیکنالوجی بہت ایڈوانس ہے اس کے علاوہ اس کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ جوہری ہتھیار، میزائل اور دیگر جدید ترین ہتھیار موجود ہیں، تعلیم اور تحقیق میں بھی نمایاں ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ 

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی