• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اُف مہنگائی: بے بس عوام اِس رمضان بھی میں ریلیف کے منتظر

وطن عزیز کی سیاست ایک دفعہ پھر ماضی کی طرح ایک افسوسناک صورتحال سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ ’’سازشی تھیوریوں‘‘ کے بل بوتے پر سیاست کرنے والے ’’فنکار سیاستدان‘‘ کوئی بھی سبق نہ سیکھنے کا عملی مظاہرہ دہرا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کا روایتی ’’اجتماعی رویہ‘‘ اپنی محبوب اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں جمہوریت کو پھر ایک گرداب کے حصار کی طرف لے جا رہا ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ تازہ ترین واقعات نے یہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ سیاسی منظرنامے میں تجربہ کار قائدین بھی اپنے ’’انفرادی کردار‘‘ سے مستقبل کی سیاست پر ایسے اثرات مرتب کرنے جا رہے ہیں کہ جس سے نہ صرف ’’مقتدر حلقوں‘‘ کے کردار کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والے حیرت کی وادیوں میں ڈوب گئے ہیں بلکہ سہانے خواب دیکھنے والے مجبور عوام پھر مایوسی اور ناامیدی کے خوفزدہ طوفان میں جکڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جیت اورسابق وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی واضح شکست نے جمہوری اور پارلیمانی اقدار رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی عزت اور وقار میں گرانقدر اضافہ کیا تھا اور اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کو آزمائش میں مبتلا کر دیا تھا لیکن ابھی پی ڈی ایم اگلے مرحلے کی تیاریوں میں لائحہ عمل ہی مرتب کرنے میں مصروف تھی کہ ’’مقتدر حلقوں‘‘ نے سینیٹ میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے معاملہ میں اس طرح کا فارمولہ استعمال کیا کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کر دی۔ پی ڈی ایم کی قیادت ابھی اس صورتحال کو سنبھالنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی تھی کہ آصف علی زرداری نے ’’سب پر بھاری‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ششدر کر دیا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس دوران سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مخدوم یوسف رضا گیلانی کو دلوانے کے لئے سینیٹ کے اس ’’متنازعہ چیئرمین‘‘ سنجرانی کی معاونت سے چار ووٹ حاصل کر کے اس کو یقین دلا دیا کہ اس کی راہ کی رکاوٹ بھی دور کر دی جائے گی۔ گو حکومت کو سینیٹ میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے عہدوں پر اپنی مرضی کے نتائج حاصل ہو گئے لیکن اپوزیشن کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پیپلز پارٹی سے ’’درپردہ تعاون‘‘ کرنے سے قبل مسلم لیگ (ن) کے اپوزیشن لیڈر کے امیدوار سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے بھی رابطہ کیا تھا۔ گویا خفیہ اور طاقتور ہاتھوں نے ایک عہدے کا لالچ دے کر پی ڈی ایم کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو نہ صرف آپس میں لڑا دیا بلکہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہوئے سیاست کی ایک نئی بساط کو بھی بچھا دیا۔

وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی گرفت دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ سٹیٹ بنک جیسے ادارے کو بھی ان کی شرائط پر چلانے کی خبروں نے معاشی اشاریوں میں واضح تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہونے سے مہنگائی کا ایک ایسا سیلاب آتا دکھائی دے رہا ہے جس سے ہوشربا گرانی کے ناقابل برداشت بوجھ تلے مجبور اور مقہور عوام جینے کی بجائے مرنے کی ترجیح دیں گے۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور معاشی بدحالی کی دل گرفتہ صورتحال نے مسائل کی دلدل میں گھرے ہوئے لاچار عوام کو بے کسی اور بے بسی کے ماحول میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اپوزیشن کی سیاست ’’مقتدر حلقوں‘‘ کے ہاتھوں افتراق اور انتشار کا شکار دکھائی دے رہی ہے تو دوسری طرف وزیراعظم سمیت وفاقی وزراء بھی اسٹیبلشمنٹ کی ڈور سے بندھے ’’پتلی تھاشہ‘‘ کا کھیل دکھا رہے ہیں۔ مشیر پٹرولیم ندیم بابر اور سیکرٹری پٹرولیم کی فراخت بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے؟ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے وفاقی کابینہ میں شامل ایک چہیتے وزیر کو ایف بی آر میں اپنے اختیارات دکھانے پر اپنے ’’سرپرستوں‘‘ سے سخت ڈانٹ پلوائی ہے۔ شوگر مافیا سکینڈل میں ملوث حکومتی شخصیات اور متعدد شوگر ملز مالکان اور متعلقہ افراد کو بھی یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ ’’احتساب اکبر‘‘ اور ایف آئی اے کے سربراہ سمیت اعلیٰ حکام بھی حکومت کی بجائے ’’طاقتور ہاتھوں‘‘ کے ماتحت ہیں۔

سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں مخدوم یوسف رضا گیلانی کے نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد مریم نواز اور بلاول بھٹو کے آمنے سامنے آنے سے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ حلقوں میں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے پارلیمانی رہنما خواجہ آصف نے نیب کے کیس میں گرفتاری سے قبل آصف زرداری کے بارے میں جن تحفظات کا اظہار کیا تھا اگر اس کو ملحوظِ خاطر رکھ کر احتیاط اختیار کی جاتی تو پارٹی کو سیاسی معاملات سنبھالنے میں دشواری نہ آتی۔ صوبائی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں کئی سرگرمیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اور ان کے فرزند ارجمند میاں حمزہ شہباز شریف مردانہ وار حکومت کے جھوٹے مقدمات اور انتقام کا حوصلے اور عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف رہائی کے بعد میاں شہباز شریف کی مشاورت سے ارکان اسمبلی سے رابطوں کے علاوہ سنجیدگی سے پارٹی معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ میاں شہباز شریف قدم قدم پر تازہ ترین حالات اور زمینی حقائق کے تناظر میں پارٹی قائد میاں نواز شریف کو آگاہ بھی کر رہے ہیں اور ان سے راہنمائی بھی لے رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف ہر مرحلے پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بھائی اور قائد میاں نواز شریف سے وفاداری کو ہی اپنی سیاست کا محور سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ہر دور میں بڑے سے بڑے عہدوں کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مفاہمت کا مزاج رکھنے والے میاں شہباز شریف کے بارے میں یہ بات بھی زبان زدعام ہے کہ اس دور میں بھی ان کو ایک اہم کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جس کو انہوں نے اپنے قائد میاں نواز شریف کی وفاداری کی خاطر ٹھکرا دیا تھا۔ حکومت کے ایما پر جن مقدمات میں ان کو پس دیوار زنداں رکھا گیا ہے ان کی وجہ صرف یہ ہے کہ ’’کپتان‘‘ انہیں اپنے ’’متبادل‘‘ کے طور پر محسوس کرتے ہوئے ان سے خوفزدہ ہیں۔ تادم تحریر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت یہ محسوس کر رہی ہے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پی ڈی ایم کو فعال اور متحرک رکھنے کے لئے حتیٰ المقدور کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا اور مضبوط اپوزیشن سے ہی حکومت کو گرانے کی حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی۔ حکومتِ پنجاب رمضان المبارک میں گرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالہ سے اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔ اب دیکھئے عوام کو اس سلسلے میں کیا ریلیف ملتا ہے؟

تازہ ترین
تازہ ترین