حسد نہیں محنت کریں
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ام محمد عبداللہ، اسلام آباد

ارسلان بہت ذہین بچہ تھا۔ اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے اس نے سارے ٹیچرز کے دل جیت لیے تھے۔اس کے مقابلے میں زبیر، سست، پڑھائی لکھائی میںکمزور اور حاسدانہ ذہن کا تھا۔ وہ کلاس کے ہر ذہین بچے سے حسد کرتا تھا۔ ایک روز ڈرائنگ کے استاد نے کمرہ جماعت میں آتے ہی تمام طلبہ کو پہاڑ کی پینٹنگ بنانے کے لیے کہا۔جب بچے پینٹنگ بنانے میں مصروف ہوگئے تو وہ کمرہ جماعت میں گھومتے پھرتے بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے لگے۔

ارسلان اپنی کاپی پر نہایت مہارت سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ اس کی ڈرائنگ واضح اور خوبصورت تھی۔ زبیرسے پینٹنگ نہیں بن رہی تھی ، بس وہ تیڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا۔ اس نے تھوڑی سی ڈرائنگ بنا کر ارسلان کی کاپی پر نگاہ ڈالی تو اس کا منہ بن گیا۔ ”ہونہہ یہ اتنی اچھی تصویر کیسے بنا لیتا ہے؟ کاش اس کی پنسل کی نوک ٹوٹ جائے۔“ ایک حاسدانہ خواہش اس کے ذہن میں ابھری۔

سب بچے تصویر بنا چکے تواستاد نے تصویر کے ساتھ علامہ اقبالؒ کی نظم’’ ایک پہاڑ اور گلہری ‘‘لکھنے کے لیے دے دی۔ بچے ایک بار پھر مصروف ہو گئے۔ زبیر بھی لکھنے میں مشغول ہو گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس نے سامنے بیٹھے واصف کی کاپی دیکھی۔ اس کا خط کیا خوب تھا۔ زبیر کو اپنا آپ کم تر محسوس ہوا۔

وہ سوچنے لگا کہ ”نہ میرا خط اچھا ہے نہ ڈرائنگ‘‘ ۔اسے اپنی جماعت میں اپنی کوتاہی کا شدت سے احساس ہونے لگا لیکن بجائے اپنی اصلاح کرنے یا تعلیم پر توجہ دینے کے، وہ سوچنے لگا، ”کیا ہی اچھا ہو، ارسلان اور واصف کی پنسلیں گم ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں۔“ عجیب و غریب خیالات اس کے دماغ میں چل رہے تھے۔ خیالات کے تابع چہرے کے نقوش بھی بن اور بگڑ رہے تھے۔تمام بچوں نے نظم لکھ کر استاد کو دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ ”اب بچے یہ نظم خوبصورت ادائیگی اور تلفظ سے پڑھ کر سنائیں۔“ زبیر کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، سب جانتے تھے اس سے اچھا نظم پڑھنے والا جماعت میں کوئی دوسرا نہیں تھا۔

استاد نےپیریڈ کے اختتام پربورڈ پر نتائج لکھے۔ ڈرائنگ میں اول پوزیشن ارسلان احمد، لکھائی میں اول پوزیشن واصف خان اور ادائیگی اور تلفظ میں اول پوزیشن محمد زبیر نے حاصل کی۔

استاد جو اپنے طلبہ کی علمی و شخصی خوبیوں خامیوں کے نبض شناس تھے کہنے لگے۔ ”اللہ پاک نے یہ دنیا رنگا رنگ پیدا کی ہے۔ ہر کسی کو مختلف صلاحتیوں، ماحول اور نعمتوں سے نوازا ہے، جب ہم اپنی اپنی صلاحتیوں پر غور و فکر کرتے اور ان کو نکھارتے ہیں تو بہت سے مسائل سے بچے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے ہیں اور ان کو کہیں اپنے سے اچھا دیکھ کرذہنی ہیجان کا شکار ہوتے ہیں تو حسد کی اخلاقی بیماری جنم لیتی ہے ۔

ہمارے پیارے رسول خاتم النبیین حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے۔

”حسد نہ کرو“ اس لیے پیارے بچو! اپنا موازنہ صرف خود سے کرتے ہوئے ہر دن خود کو بہتر بناؤ تاکہ آپ کے دل میں کسی کے خلاف حسد پیدا نہ ہو اور اللہ کے ذکر کو اپنے معمول کا حصہ بناؤ تاکہ کسی کا حسد آپ کا کچھ بگاڑ نہ پائے۔

استاد بات مکمل کر کے مسکرائے تو سب ہی طلبہ بھی مسکرا دیے۔ زبیر نے بھی حسد کرنے کے بجائے اب مزید محنت کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔