• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اعظم رضا

’’اماں تمھیں نہیں معلوم یہ موبائل کتنا قیمتی ہے ۔ تمھارے دور میں تو لوگ خط لکھتے تھے جو مہینے بعد ملتا تھا ۔ یہ ہمارا زمانہ ہے، اس لیے میرے حال پر مہربانی کرو مجھے آئندہ اس بارے کچھ نہیں کہنا ‘‘۔ علی کی یہ بات سن کر اماں نے کہا ،’’ادھر آ وٗ بیٹا میرے پاس بیٹھ جا ۔ تم نے ٹھیک کہا واقعی تمھاری اماں کو اس بجلی بھری ڈبی کے بارے میں نہیں پتا اور وہ جو تم بیگ میں بڑا سا بجلی کا ٹی وی لے کر جاتےہو اس کا بھی نہیں پتا۔ یہ عجیب چیزیں ہیں لیکن ایک سوال پوچھوں ،کیا تمھیں اپنی ان پڑھ اماں کے ہاتھ کا بنا ساگ اور مکھن پسند ہے ؟‘‘ ’’ جی جی اماں بہت پسند ہے ۔ ‘‘اچھا وہ جو پچھلی سردیوں میں تیرے لیے سویٹر بنایا تھا وہ پسند آیا ؟‘‘’’ ہاں ہاں اماں لیکن تو یہ کیوں پوچھ رہی ہے ۔‘‘او ہو بیٹاایسے ہی ذرا دیکھ لوں ہم ان پڑھ لوگوں کے کوئی کام چنگے بھی ہیں کہ نہیں ۔ 

اچھا جب تو باہر جاتا ہے تو لوگوں نے کبھی کہا کہ تیرے کپڑے صحیح دھلے نہیں یا تیری اماں کو کپڑے دھونے نہیں آتے‘‘ ۔نہیں اماں لوگ بھلا ایسا کیوں کہیں گے تو تو بہت اچھے کپڑے دھوتی ہے ۔ اچھا مطلب کہ تیرے بچپن سے لے کر اب تک تجھے اپنی ان پڑھ اماں کی وجہ سے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑی۔‘‘ ’’ ہاں اماں یہ بات تو ہے ۔ ‘‘ ’’لیکن بیٹا مجھے ہر لمحہ تیری وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی لیکن میں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی وقت کے ساتھ ساتھ میرا بیٹا سیکھ جائے گا ،بچپن میں جب تو لڑ کر آتا تھا تو لوگوں کے سامنے ،جب تیرے کلاس میں نمبر تھوڑے آتےتو بھی خاندان میں ،جب تو کپڑے گندے کرتا تو بھی پھر جب تو بڑا ہوا تو تو اونچا بولنے لگا اور آج جب تو نوکری کرتا ہے تو بھی ۔ 

کہتا ہے اماں تو ان پڑھ ہے ۔ دوستوں میں بیٹھ کر تو اور تیرا دوست اپنے ماں باپ کو جاہل کہتے ہیں ۔ بیٹا تجھے وہ کام نہیں آتے جو مجھے آتے ہیں اور مجھے وہ کام نہیں آتے جو تم کرتے ہو ۔ ہر زمانے کی اپنی سائنس اور اپنا علم ہے ۔ تیری اماں کے پاس ساگ پکانے کا،مکھن بنانے کا ،سلائی کڑھائی کا علم تھا۔ تیری اماں کے پاس کپڑے اچھے دھونے کا علم ہے،جس دن میں مر گئی اس دن تجھے سمجھ آئے گی اماں کی سائنس کیا تھی ۔ لیکن بیٹا اگر کوئی علم تمھیں دوسروں کو جاہل کہنے اور سمجھنے پر مجبور کرتا ہے، دوسروں کو حقیر سمجھاتا ہے تو وہ علم نوری نہیں ابلیسی ہوا ۔

علی کو تو اماں کی سائنس بہت دیر بعد سمجھ آئی جب اماں گزر گئی ۔ روز روٹی کپڑے اور پیار بر وقت کون دیتا۔ اب باہر جانے سے پہلے دعائیں دینے والا کوئی نہیں تھا، اب گھر داخل ہوتے ہی ماتھا چومنے والی اماں نہیں تھی۔ اماں نے درست کہا تھا ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں انہیں پچھلے دور سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ، نہ ہی کرنا چاہیے۔ اماں موبائل کے خلاف نہ تھی ۔اماں اس کے زیادہ استعمال کے خلاف تھی، جس نے اس سے اس کاعلی چھین لیا تھا ۔ وہ جوپہلے اماں کو سکول سے آکرا سکول کی ساری باتیں سناتا تھا، اب اس کے پاس آفس کے بعد بھی وقت نہیں ۔ جو اماں کا وقت تھا وہ یہ موبائل کھا گیا، اس لیے اماں غصہ ہوتی تھی ۔

کہیں آپ بھی ایسا تو نہیں کر رہے ۔سوچیں ذرا،ماں ہماری جنت ہے اور جنت ناراض ہو گئی تو زندگی بے سکون ہو جائےگی ۔ یاد رکھیے گا ماں باپ کبھی ان پڑھ نہیں ہوتے ۔ گھر میں بیٹھی بوڑھی اماں میرے کچھ بولے بنا میرا دل پڑھ لیتی تھی ۔ اپنے ماں باپ کو وقت دیجیے، ورنہ آپ کی اولاد کے دور میں تو ٹیکنالوجی اس سے بھی فاسٹ ہوگی ۔