• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد یونس بٹ

اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز پیش کی ہے کہ صرف ۳۵ سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو ہی ملازمت کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس تجویز پر داد دینے کو دل چاہتا ہے کہ عورتوں کی ملازمت پر پابندی لگانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور صورت ہو ہی نہیں سکتی کہ آپ جس خاتون کو بھی کہیں گے کہ آپ کو اس لیے ملازمت دی جا رہی ہے کہ آپ ۳۵ سال سے بڑی ہیں تو وہ خود یہ نوکری لینے سے انکار کردے گی۔ یوں نہ عورت پاکستان میں اتنی بڑی عمر کی ہوگی اور نہ کوئی ملازمت کرے گی۔

صدر ریگن سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ امریکہ میں کسی عورت کوصدر کیوں نہیں بنایا جاتا؟ توانہوں نے کہا، ’’صرف یہ وجہ ہے کہ صدر بننے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ عمر پینتیس سال سے زیادہ ہو اور کوئی عورت پینتیس سال سے زیادہ کاہونا پسند نہیں کرتی۔‘‘ پاس کھڑی نینسی ریگن نے کہا، ’’اگر مجھے کہا جائے کہ آپ کو امریکہ کی تاحیات صدر بنایا جاتا ہے تو میں ابھی پینتیس سال کی ہونے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

لیکن ہمارے ہاں ایسی خواتین کہاں ہیں؟ پچھلے دنوں چائلڈ سٹار سے ہیروئن بننے والی اداکارہ نے ایک انٹرویو میں جو اپنی عمر بتائی، اس حساب سے اس نے اپنے پیدا ہونے سے تین سال قبل اپنی پہلی فلم میں کام کیا تھا۔ میں تو ایسے جڑواں بہن بھائیوں کو جانتا ہوں، بھائی کو پینتیس سال کا ہوئے پانچ سال ہوگئے، مگر اس کی بہن کے ۳۵سال کی ہونے کی اگلے پانچ سالوں میں بھی امید نہیں۔ جس سےآپ اندازہ لگا لیں عورتیں مردوں سے کتنا پیچھے ہیں حالانکہ بازاروں میں لگتا ہے کہ مرد ہی عورتوں کے پیچھے ہیں۔

اب تو مرد شاپنگ میں بھی عورتوں سے تیز ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک شخص اپنی تیزی کی وجہ سے شاپنگ کرتے پکڑا گیا، کیونکہ وہ اس قدر تیز تھا کہ سٹور کھلنے سے پہلے ہی شاپنگ کر رہا تھا۔ دور کیا جانا میرے ایک ڈاکٹر دوست نے ایک تریاق دریافت کر لیا ہے، جس کا زہر ابھی دریافت ہونا ہے۔ تاہم بولنے میں عورتوں کی تیزی برقرار ہے۔ 

ان کی بولنےکی رفتار مردوں کی سننے کی رفتار سے ۷۵ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن انہیں چپ کرانا مردوں کی نسبت آسان ہے۔ آپ بہت سی خواتین کو بھی چپ کرانا چاہیں تو پوچھ لیں، ’’آپ میں سب سے بڑی عمر کی کون ہے؟‘‘ بلکہ ایک ایسی خاتون نے اپنے باس سے شکایت کی کہ فلاں کو لیگ مجھے بار بار جھوٹ بولنے پر اکساتا ہے مجھ سے پوچھتا ہے، ’’آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘

عورتوں کو ہمیشہ عمر کی فکر رہتی ہے۔ سید ضمیر جعفری جب پچاس برس کے ہوئے تو ان سے ایک خاتون نے کہا، ’’ہاہائے میں مرجاں! آپ پچاس سال کے ہو گئے؟‘‘ تو جعفری صاحب نے کہا، ’’محترمہ! وعدہ کرتا ہوں آئندہ کبھی پچاس سال کا نہیں ہوں گا۔‘‘

عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ’’محترمہ! آپ کی عمر؟‘‘ جواب ملا، ’’۱۹سال کچھ مہینے‘‘ پوچھا، ’’کتنے مہینے؟‘‘ جواب ملا۔ ’’چھیانوے مہینے!‘‘ ویسے آسکر وائلڈ نے عجیب بات کہی ہے۔ کہتے ہیں، ’’جو عورت اپنی صحیح عمر بتادے اس پر اعتبار نہ کرو۔ کیونکہ جو اصلی عمر بتا سکتی ہے وہ سب کچھ بتا سکتی ہے۔‘‘ عمر کے معاملے میں عورتیں اس قدر نازک مزاج ہوتی ہیں کہ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کی عدالت میں عورت نے صرف اس معمولی بات پر اپنے شوہر کے خلاف طلاق کا مقدمہ دائر کردیا کہ اس کے شوہر نے کہا تھا، ’’آپ کی جرابیں بہت گھٹیا، پرانی اور سلوٹوں والی ہیں۔‘‘ حالانکہ اس وقت خاتون جرابیں پہنے ہوئے نہیں تھی۔

امریکہ کے ایک سینما میں ہیٹ پوش خواتین سے تماشائی اور انتظامیہ دونوں تنگ آچکے تھے۔ آخر منیجر نے یہ نوٹس لگا دیا کہ انتظامیہ بوڑھی عورتوں کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے انہیں مطلع کرنا چاہتی ہے کہ وہ بدستور ہیٹ پہنے رکھیں، ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ 

اس کے بعد کوئی عورت ایسی نہ تھی جس نے ہیٹ نہ اتار دیا ہو۔ ہمارے ایک دوست ڈاکٹر کے پاس کمر درد سے پریشان ایک خاتون آئی۔ ڈاکٹر نے کہا، ’’آپ چالیس سال کی تو نہیں لگتیں۔‘‘ اس کے خاوند نے کہا، ’’اب تو نہیں لگتیں، دس سال پہلے لگتی تھی۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا، ’’محترمہ! یہ درد بڑی عمر کی وجہ سے ہوتا ہے، جوں جوں آپ بوڑھی ہوں گی، درد بڑھے گا۔‘‘ سو اس دن کے بعد خاتون کا وہ درد کم ہونے لگا۔

اپنی عمر کے بارے میں عورتوں کی یہی حد سے بڑھی احتیاط نے عورت کی عمر مرد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنا رکھی ہے۔ اس کو جاننے کے لیے اس نے جتنی کوششیں کی ہیں، اتنی چاند پر پہنچنے کے لیے نہ کی ہوں گی، حالانکہ انسانی عمر کی صرف تین ہی صورتیں ہیں۔ جوآنی، جوانی اور جوآئی۔ کیونکہ مرد کی عمر وہ ہوتی ہے جو وہ محسوس کرتا ہے اور عورت کی وہ جو آپ محسوس کرتے ہیں۔