• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی بن اعجاز

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں یا کبھی کراچی آنا ہوا ہو تو دنیا کی مایا ناز اور واحد ناگن چورنگی سے ضرور گزرے ہوں گے یا پھر نام ضرور سنا ہوگا ۔ اس مایا ناز چورنگی سے یو پی موڑ کی طرف سفر کریں تو ایک اگلی چورنگی پاور ہاؤس چورنگی آتی ہے اور یہ چورنگی ایک عظیم چورنگی ہے اس کے عظیم ہونے کی اصل وجہ تو ہم آخر میں ذکرکریں گے لیکن ایپیٹائزر کے طور پہ کئی مشہور دیو مالائی جگہیں اور بس اسٹاپ کے راستے بھی اسی چورنگی سے پھوٹتے ہیں ۔ 

مثال کے طور پہ اس چورنگی سے آگے جائیں تو دو منٹ کا اسٹاپ آتا ہے ، اب یہ دو منٹ کا اسٹاپ کیسے اور کیوں ہے اس کا پتہ ابھی تک سائنس دانوں کو نہیں چلا، غالب گمان یہی ہے کہ اسٹرنگ تھیوری کے مطابق یہاں کسی دور میں گریویٹی اتنی شدید ہوگئی ہو کہ لمحوں کا سفر صدیوں میں طے ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہوگا اس لیے اس دو سیکنڈ کے راستے سے گزرنے میں دو منٹ لگتے ہوں گے، اس کے قریب ہی ایک طرف بابا موڑ اور دوسری جانب کریلا اسٹاپ ہے، خدا گواہ ہے کہ نا بابا موڑ پہ کوئی بابا کھڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی کریلا موڑ کریلے کی طرح ہے اور نا ہی یہاں سے گزرتے ہوئے منہ میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے، پھر بھی اسے کریلا موڑ کہا جاتا ہے۔ اسی چورنگی سے ایک طرف سے راستہ ڈسکو موڑ کو بھی جاتا ہے جس کے حوالے سے حتمی طور پہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں سے مائیکل جیکسن کا گزر کبھی نہیں ہوا اور نا ہی یہاں پہ کوئی ڈسکو کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔

ڈسکو موڑ سے ذرا سا آگے بارادری کا اسٹاپ ہے اور اس اسٹاپ پہ بھی کوئی بارا تو کیا تین چار دری بھی نہیں۔ آخری اطلاعات کے مطابق یہاں کسی کیٹرنگ والے کی کچھ دریاں گر گئیں تھیں اور کوئی انہیں اٹھا کے لے گیا تھا، ایف آئی آر میں دریوں کی تعداد بارہ درج کرائی گئی تھی اس لیے یہ بارادری کا اسٹاپ کہلاتا ہے، ان صاحب کی دریاں واپس مل جائیں تو اس جگہ کا نام کچھ اور رکھنا پڑے گا۔

لیکن یہ چورنگی ہمارے لیے اہم اور عظیم اسلئے ہے کہ ہمارے اکثر قلبی دوست اسی کے قریب سکونت پذیر ہیں ۔ اور یہی وہ چورنگی ہے جہاں ہم دوستوں کی تقریباَََ پندرہ سال سے زیادہ پرانی بیٹھک بھی اسی چورنگی کے سائے ( یہ کسی ناول کا نام ہوسکتا ہے) میں موجود ایک ہوٹل پہ ہی ہوا کرتی ہے جو کہ ہمارے لیے کسی طور پاک ٹی ہاؤس سے کم نہیں۔ اسی چورنگی کے ایک کارنر پر موجود فٹ پاتھ کےمتعلق ہے جو بائیں طرف لمبائی میں کافی دور تک جاتی ہے۔ ہمیں کہیں بھی جانا ہو ، دوستوں، رشتے داروں سے ملنے یا آفس جانا ہو اس چوک اور اس چورنگی سے دن میں کئی بار گزرنا پڑتا ہے۔ 

ویسے تو عام دنوں میں بھی اس چورنگی پہ کافی رش موجود ہوتا ہے خاص طور پہ ویک اینڈز پہ لیکن سب سے زیادہ مصیبت کا سامنا تب ہوتا ہے جب کوئی تہوار بقر عید یا خاص موقع جیسے یوم آزادی وغیرہ قریب آتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ، میں نے پہلی بار یہاں پہ پنکچر والے کو مشہور ہوتے دیکھا تو تب سے اس کو اطراف میں آٹھ کے قریب پنکچر والے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بار یہاں پہ لنڈا کے کپڑے کسی نے آکے بیچ دیئے اور وہ بک بھی گئے، اگلے ہی روز ایشیا کا سب سے بڑا لنڈا بازار چوک پہ موجود تھا۔ ایک مرتبہ کسی غریب نے حلیم کا ٹھیلا لگایا، کچھ گاڑیوں نے رک کے خریدا، ٹریفک جام ہوا اور دو دن بعد دس سے زائد اقسام کے حلیم اس اکیلے چوک پر دستیاب تھے۔ 

یہاں پہ ہمہ وقت 20 سے 30 مالشیے رنگ برنگی بوتلیں جھنجھناتے ہوئے تھکی ہوئی روحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رہے ہوتے ہیں۔یہ کچھ مستقل کاروبار ہیں جو پورا سال یہاں پہ پھل دے رہے ہوتے ہیں ، اب بات کرتے کچھ موسمیاتی کاروبار کی جو یہاں پہ کچھ عرصہ کے لیے کھلتے ہیں اور ٹریفک کو مکمل بند کردیتے ہیں ۔ ابھی بقر عید گزری ہے تو اس چوک کے ایک جانب ان افراد کی جھگیاں عارضی وقت کے لئے تعمیر ہو گئیں جو اندرون ملک کے دیہاتوں سے گوشت جمع کرنے آتے ہیں، اس کے ساتھ ہی اس چوک پہ کھال اور چربی خریدنے والے براجمان ہو جاتے ہیں ۔ آپ کویہاں سے گزرتے ہوئے یا تو قربانی کی کھال یہاں پہ جمع کرا کے گزرنا پڑتا ہے یا پھر اپنی کھال بچا کر ۔ اس کے ساتھ ہی آلائیشوں کا جم غفیر بھی یہاں پہ دن بدن بڑھتا رہتا اور فضاوں کو معطر بھی کرتا رہتا ہے۔ 

اس گندگی کو اٹھانے کا اصل مقابلہ کے ایم سی اور چیل کووں کے درمیان ہوتا ہے اور یہ مقابلہ ہمیشہ ثانی الذکر جیت جاتے ہیں۔جب جشن آزادی قریب آتا ہے تو آپ کو اس چوک پہ ہریالی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ لوگ باگ حب الوطنی کا مظاہرہ روڈ پہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بیچ سڑک پہ کھڑی کر کےجھنڈیاں اور جھنڈے خرید کر جس طرح کرتے ہیں اس سے ملک دشمن عناصر کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں اور ہم جیسے لوگ جن کو یہ چورنگی کراس کرنی ہوتی ہے تو بریک اور کلچ پہ پاوٗں رکھے رکھےکچھ دیر بعد ہماری بھی ٹانگیں بھی کانپنا شروع ہوجاتی ہیں۔رمضان میں ایک جانب پھل فروشوں کی چیخ و پکار سے وہ لوگ بھی اپنی گاڑیاں روک روک کر پھل خریدنے کے لیے رک جاتے ہیں۔

کئی لوگ تو صرف اس لیے رکتے ہیں کہ تربوز کٹتے ہوئے دیکھ سکیں، کافی منتوں مرادوں کے بعد کسی کا تربوز اندر سے لال نکل آئے تو ہر طرف مبارک مبارک کی صدائیں گونجتیں ہیں دوسری جانب مشروبات کی بوتلوں کےایسے رنگ برنگی انبار لگ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ کو رات کے 3 یا 4 بجے پھل خریدنے ہوں ، چائے پراٹھا کھانے کا جی چاہ رہا ہو یا آپ کی گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہو یہاں پر یہ سب رات بھر دستیاب ہوتا ہے۔ ایسی بات نہیں کہ ہمیں اس چوک یا چورنگی سے کوئی ذاتی پرخاش ہے بس یہاں پہ حرص کا جو مظاہرہ ہوتا ہے اس سے ہونے والے ٹریفک جام سے ڈر لگتا ہے ورنہ ایسی چورنگی نا کہیں ہے نا ہوگی۔