سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کامعاملہ تاخیر کا شکار، سالانہ 38 ارب کا نقصان
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کامعاملہ تاخیر کا شکار، سالانہ 38 ارب کا نقصان

اسلام آباد( تنویر ہاشمی ) وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجودڈیڑھ سال سے سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کامعاملہ تاخیر کا شکا رہے ہیلتھ لیوی کا نفاذ نہ ہونے سے ملک کو سالانہ 38ارب روپے سے زائد کا نقصان ہورہا ہے ، وفاقی کابینہ نے 2019میں بل کی منظوری دی تھی، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سگریٹ کی فروخت کا شیئر 90فیصد ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے سگریٹ اور مضر صحت ڈرنکس پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کیلئے کابینہ نے 2019میں ہیلتھ لیوی بل کی منظوری دی تھی، وزارت قومی صحت کے تمباکو کنٹرول سیل نے ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی تجویز دی تھی اور بل کا مسودہ تیار کر کے متعلقہ وزارتوں میں بھیجا، ایف بی آر نے اپنے ریمارکس کیساتھ بل کو نومبر 2020میں وزارت قانون میں بھیجا تاہم ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بل کا نفاذ نہیں ہوسکا ، ایف بی آر کے ممبر پالیسی طارق چوہدری نے بتایا کہ بل ابھی تک وزارت قانون سے ایف بی آر میں واپس نہیں آیا ، ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق صحت 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملہ ہے جبکہ وزارت صحت کے معتبر ذرائع نے بتایاکہ ہیلتھ لیوی کا معاملہ کسی صورت صوبائی معاملہ نہیں کیونکہ یہ ایک جنرل ٹیکس ہے اور پہلے اسکا نام گناہ ٹیکس تجویز کیا گیا تھا تاہم اس میں ترمیم کر کے اسکو ہیلتھ لیوی کا نام دیا گیا، وزارت قانون 2019میں بل پر اپنی رائے دے چکی ہےا ور تمام اعتراضات کور د کر دیا تھا ، ذرائع نے بتایا کہ ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تمباکو صنعت اور سگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب دبائو اور اثرو رسوخ کے باعث ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہورہی اور وزیراعظم ، وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکارہے وزارت صحت کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر10روپے ہیلتھ لیوی اومیٹھے ڈرنکس کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی لگانے کی تجویز دی گئی تھی، اس سے سالانہ حکومت کو 38ارب روپے سے زائد ریونیوحاصل ہوگا جس کو کورونا ویکسین کی خریداری سمیت صحت کے شعبے کی پائیدار ترقی اور جدیدسہولیات کی فراہمی اور زیادہ سے زیادہ آبادی تک صحت سہولیات تک رسائی کیلئے استعمال میں لایا جائیگا، بل وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود ڈیڑھ سال سے زیر التوا ہے ، 2019سے اب تک تقریبا ً 120ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے، ملک میں سگریٹ تیار کرنیوالی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سگریٹ کی فروخت کا شیئر 90فیصد جبکہ دیگر 10فیصد مقامی سگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں اور کچھ سمگل شدہ سگریٹ کا شیئر ہے، پاکستان پر صحت پر اٹھنے والے مجموعی اخراجات کا حجم 600ارب روپے سے زائد ہے ،ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے صحت کے شعبے کو سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی ، دنیا کےکئی ممالک میں ہیلتھ لیوی کی طرز کے ٹیکس نافذ ہیں جن میں تھائی لینڈ ، برطانیہ ، سعودی عرب ، یو اے ای ، میکسکو، فرانس ، فلپائن اور دیگر ملک شامل ہیں اور ان ممالک میں ٹیکسوں میں اضافے سے سگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ ہیلتھ لیوی پر عملدرآمد میں تاخیر کا نوٹس لیا جائے، جلد اسکے نفاذ کی راہ ہموار کی جائے اور صوبوں کو بھی ترغیب دی جائے کہ وہ بھی اسی طرز کے ٹیکس نفاذ کریں۔

اہم خبریں سے مزید