شیخ چلی کا پلنگ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرن یاسر

کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی ، جس کا ایک ہی بیٹا تھاجو کام چور تھا۔ اس کا کام صرف شیخی بگھارنا تھااس لیے لوگوں نے اس کا نام شیخ چلی رکھ دیا تھا۔شیخ چلی سارا دان گھر میں پڑا رہتا جب کہ بڑھیا محنت مزدوری کرکے اپنا اوراس کا پیٹ پالتی تھی ۔ایک دن بڑھیا بیمار ہو گئی ،گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہ تھا، اس لیے رات کو ماں بیٹا دونوں کو فاقہ کرنا پڑا۔اگلی صبح ماں نے شیخ چلی سےکہا”بیٹا ، اب میرے بدن میں طاقت نہیں ہے اس لیے کوئی کام نہیں کرسکتی۔ 

اب تم کام کرو،جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور شہر میں لے جاکربیچ دیا کرو تاکہ ہم دونوں کا پیٹ بھر سکے۔ما ں کی بات سن کرشیخ چلی نےکلہاڑی اٹھائی اور گدھے پر بیٹھ کرجنگل کی راہ لی ۔جو درخت اس کے راستے میں آتا ،شیخ چلی اس سے پوچھتا۔”میں تجھے کاٹ لوں یا نہیں‘‘ ۔کسی درخت نے بھی اس کی بات کا جواب نہ دیا۔شام ہونے کو تھی ،شیخ چلی بغیر لکڑی کاٹے گھر واپس لوٹنے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ ایک درخت پر نظر پڑی ۔اس نے اس کے پاس جاکر پوچھا۔”میں تجھے کاٹ لوں؟“درخت نے جواب دیا،”ہاں کاٹ لے مگر میری ایک نصیحت یاد رکھنا ،میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور اسے بادشاہ کے دربار میں لے جانا،اگر بادشاہ اس کی قیمت پوچھے تو کہنا کہ پہلے ایک دورات اس پر سوئے ،پھر اگر مناسب سمجھے تو قیمت دے دے ۔“

شیخ چلی نے درخت کی ہدایت کے مطابق اس کی لکڑیاں کاٹ کر پلنگ تیار کیا اور بادشاہ کے دربار میں لے گیا۔بادشاہ نے قیمت پوچھی تو شیخ چلی نے کہا”پہلے آپ اسےیک دو رات استعمال کریں ،اگر اس میں کوئی خوبی پائیں تو انعام کے طور پر جو دل چاہے دے دیں ۔“بادشاہ اس کاجواب سن کر بہت حیران ہوا۔ شیخ چلی کے کہنے پر نوکروں کو حکم دیا کہ ’’آج یہی پلنگ میری خواب گاہ میں بچھایا جائے ‘‘۔رات ہوئی بادشاہ اسی پلنگ پر سویا تو آدھی رات کو پلنگ کا ایک پایا بولا ”آج بادشاہ کی جان خطرے میں ہے ۔“ دوسرے پائے نے پوچھا، ”وہ کیسے‘‘؟“ تیسرا پایا بولا ”بادشاہ کے جوتے میں کالا سانپ بیٹھا ہے۔“چوتھے نے کہا ”بادشاہ کو چاہیے کہ صبح جوتے کو اچھی طرح جھاڑ کر پہنے ‘‘۔بادشاہ نے صبح بیدار ہونے کے بعد ملازم سے اپنے جوتے منگوائے اور انہیں جھاڑنے کاحکم دیا۔ جوتے میں واقعی سانپ چھپا بیٹھا تھا۔ جوتے جھاڑنے کی وجہ سے وہ زمین پر گرا اور پھرتی سے رینگتا ہوابھاگ گیا۔اس طرح پلنگ کی وجہ سے بادشاہ کی زندگی محفوظ رہی۔

دوسری رات جب بادشاہ سویا تو پھر پایوں نے باتیں شروع کیں ۔ایک بولا کہ’’ تم پلنگ کو سنبھالے رکھو‘‘۔میں کچھ خبریں جمع کرلوں ۔تینوں پایوں نے پلنگ کو تھامے رکھا۔چوتھا واپس آیا تو اس نے خبر سنائی کہ’’ بادشاہ کا وزیر سازش کرکے بادشاہ کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے‘‘ ۔پھر دوسرا پایا گیا اور خبر لایا کہ’’ملکہ ، وزیر سے مل کر بادشاہ کو زہر دینا چاہتی ہے‘‘ ۔تیسرے پائے نے تجویز پیش کی کہ’’ بادشاہ کو چاہیے کہ وزیر کو قتل کردے‘‘ ۔چوتھا پایا گیا اور خبر لایا کہ’’ بادشاہ کو جو دودھ صبح پینے کو دیا جائے گا،اس میں زہرملا ہو گا‘‘۔

بادشاہ یہ سب کچھ سن رہا تھا۔صبح اٹھ کر جب اسے دودھ دیا گیا تو اس نے نہ پیا بلکہ پیالہ لے کر باغ میں گیا اور ایک بلی کو پلا دیاجواسے پیتے ہی مرگئی ۔بادشاہ کو پتہ چل گیا کہ اس کا وزیر اورملکہ دونوں مل کر اس کی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ۔بادشاہ نے جلاد کو بلا کروزیرکو قتل کرادیا جب کہ ملکہ کو محل بدر کردیا۔اس کے بعد بادشاہ نے شیخ چلی کو بلایا اوراسے بہت ساری دولت انعام میں دی، جس سے دونوں ماںبیٹے بڑے آرام کی زندگی بسر کرنے لگے۔