جیسی کرنی ویسی بھرنی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اطہر اقبال

پیارے بچو ، یہ بھی ایک بہت پرانا محاورہ ہے جس کے معنی ’’اچھے کام کا اچھانتیجہ اور برے کام کا برا‘‘، جیسا عمل ویسا نتیجہ ہے۔آج ہم اس سے منسوب کہانی سناتے ہیں۔ جنگل میں بے شمار جانوررہتے تھے اور بغیر ڈر خوف کے مکمل آزادی کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔ ان جانوروں میں جنگل کے بادشاہ شیر،شیرنی اوران کے دو شرارتی بچے بھی شامل تھے۔ 

شیر اپنے بچوں کو اکثر سمجھاتا کہ ’’زیادہ شرارتیں مت کیا کرو ، گھر سے قریب رہا کرو، دور جاؤ گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہیں نقصان نہ پہنچ جائے ۔ مگر بچے کہتے کہ ہم جنگل کے بادشاہ کی اولاد ہیں ، سب جانور ہمارے باپ سے خوف زدہ رہتے ہیں، ہمیں کون نقصان پہنچائے گا۔ وہ شیر کی بات سنی ان سنی کرکے دور تک نکل جاتے تھے۔

ایک روز ایک شکاری جنگل میں شکار کی تلاش میں آیا اور وہاں جال لگاکرایک درخت پر چھپ کر بیٹھ گیا۔شیر کے دونوں شرارتی بچے اپنے والدین کے منع کرنے کے باوجود گھومتے پھرتے اس طرف نکل آئے۔ اب جو شکاری نے شیر کے اتنے خوبصورت بچوں کو دیکھا تو فوراً درخت سے چھلانگ لگائی اور دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گیااور شہر میں لے جاکر انہیں مہنگے داموں فروخت کردیا۔

شیر اور شیرنی ساری رات بچوں کی واپسی کا انتظارکرتے رہے لیکن وہ نہیں آئے۔ صبح انہوں نے جنگل کے دوسرے جانوروں کے ساتھ مل کر تلاش کرنا شروع کیا۔ بچوں کو ڈھونڈتے ہوئے وہ اس درخت تک جا پہنچے جہاں شکاری جال لگائے بیٹھا تھا۔اس درخت پر ایک طوطا بیٹھا تھا جس نے شکاری کے ہاتھوں بچوں کے پکڑے جانے کا پورا احوال دیکھا تھا۔ اس نے شیر کوبچوں کےشکاری کے ہاتھوں پکڑے جانے کا سارا قصہ سنادیا۔ یہ تمام قصہ دوسرے جانوروں نے بھی سنا۔ 

شیر نی یہ باتیں سن کر رونےلگی۔ اسے چپ کراتے ہوئے شیر نے کہا، ’’مت رو ،میں اپنے بچوں کو ہمیشہ شرارتوں سے باز رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ انہیں گھرسے دور جانے کو منع کرتا تھا۔ انہوں نے میری بات نہیں مانی اور شکاری کے ہاتھوں اپنے کیے کی سزا کو پہنچے۔ یہ کہہ کر شیر بھی رونے لگا۔ اسے چپ کرانے کے لیے اس کی وزیر ، لومڑی اس کے پاس آئی اور بولی ’’صبر کرو …جنگل کے بادشاہ … اب ہم کیا کر سکتے ہیں،سچ ہے ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘‘ ، یہ کہہ کر وہ شیر اور شیرنی کو روتا چھوڑ کر اپنےگھر کی طرف چلی گئی۔