• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈسکہ کا معرکہ، ن لیگ نے PTI کو ہرادیا

سیالکوٹ، ڈسکہ، لاہور (نمائندگان جنگ،ٹی وی رپورٹ) ڈسکہ این اے 75 میں دوسری مرتبہ پھر ہونے والے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی سیّدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی کو ہرا کر میدان مار لیا،نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ، جبکہ پی ٹی آئی کے اسجد ملہی نے92 ہزار 19 ووٹ حاصل کیے.

19فروری کی نسبت پولنگ بڑی پرامن رہی، پولنگ کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،پاک فوج کی 10ٹیمیں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود رہیں، حلقہ 75میں دفعہ144نافذ رہی.

اسلحہ کی نمائش پر ن لیگ کے6 اور تحریک انصاف کے 3افراد کو رینجرز نے گرفتار کرلیا، ن لیگ کی نوشین افتخار علی الصبح ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئیں، جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اسجد مہلی نے ووٹ نکاسٹ نہیں کیا.

 مریم نواز اور حمزہ شہبار نے نے لیگی امیدوار کی جیت پرکہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ جیت گیا،شکریہ ڈسکہ۔ 

تفصیلات کے مطابق این اے 75 کی پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی، ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیّدہ نوشین افتخار کے درمیان مقابلہ ہوا۔ 

حلقہ میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 94 ہزار ہے جن کیلئے 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 47 کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولنگ کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیئے جبکہ پاک فوج کو اسٹینڈ بائی کے طور پر رکھا گیا۔ 

پولنگ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا جبکہ پر امن پولنگ ہوئی۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، 280 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیّدہ نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لیکر کامیابی ہوئیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علی اسجد ملہی نے 92 ہزار 19ووٹ حاصل کیے۔ 

الیکشن میں سیکورٹی کیلئے پولیس کے 4100 سے زائد اور رینجرز کے ایک ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ، اسکے علاوہ پاک فوج کی 10 ٹیمیں کوئیک رسپانس فورس کےطورپرموجودرہیں ۔ تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے اپنا ووٹ کاسٹ ہی نہیں کیا۔ 

نمائندہ جیو نیوز کے مطابق علی اسجد ملہی نے دو بار اپنے آبائی علاقے میں آئے جہاں ان کا ووٹ رجسٹرڈ تھا لیکن انہوں نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔علی اسجد ملہی دو بار پولنگ اسٹیشن میں آنے کے باوجود ووٹ کاسٹ کئے بغیر چلے گئے۔

اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے علی الصبح ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا۔ ضمنی انتخاب کے موقع پر حلقے میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی جس کے باعث ہر طرح کے اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد تھی۔شفاف اور پرامن انتخاب کیلئے چیف الیکشن کمشنر خود انتخاب کی نگرانی کر رہے تھے۔

علاوہ ازیں ڈسکہ کے تھانہ سترہ کی حدود سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 9 افراد کو اسلحے سمیت گرفتار کرلیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور رینجرز نے دوران گشت چیکنگ کرتے ہوئے ان ملزمان کو گرفتار کیا جن کے قبضے سے 2 رائفلز، ایک خودکار گن اور 2 پستول برآمد کی گئی تھیں۔

ملزمان میں سے 6 کا تعلق مسلم لیگ (ن) اور 3 کا پاکستان تحریک انصاف سے بتایا گیا، جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رہنماء مریم نواز شریف نے لیگی امیدوار کی جیت پرکہا ہے کہ شاباش ڈسکہ! شاباش ڈسکہ کے غیور اور بہادر عوام! شاباش نوشین! تم نے آج ایک بار پھر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی جنگ جیتی۔ 

ساری دنیا پر واضح کر دیا کہ کس طرح 19 فروری کو کٹھ پتلی وزیراعظم کی نگرانی میں ووٹ کی عزت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔اپنے ٹویٹس میں مریم نواز نے حکومتی افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا سن لو عوام کیا کہہ رہے ہیں۔ 

غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔

اہم خبریں سے مزید